میں! غیر محفوظ مخلوق – زرمینہ سحر

Print Friendly, PDF & Email

امی میں ٹیوشن پڑھنے جا رہی ہوں، ماں کو بلند آواز میں کہتی زینب بستہ کاندھے پر ڈالے، اونچی نیچی پگڈنڈیوں پر سکھیوں کے ساتھ شرارتیں کرتی رواں دواں تھی، یونہی شرارتوں میں سکھیوں کا ساتھ چھوٹا تو پریشانی سے ارد گرد دیکھتے انہیں آوازیں دیں کہ اچانک پیچھے سے کسی نے منہ دبوچ لیا، اس نے ڈر کر آنکھیں بند کر لیں، یہ جانے بغیر کہ اب جو بند ہوئی تو دوبارہ کھولنے کا موقع نہیں ملے گا۔۔
آج دن کی گہما گہمی میں، مردوں کی ہوس زدہ نظروں کا سامنا کرتی میں یونہی مگن سی اپنی نوکری کے فرائض نبھانے میں مصروف تھی کہ میری سماعت میں ایک آواز ٹکرائی کہ زرمینہ 6 سالہ زینب کے قتل کا کوئی کیس ہے اسے دیکھیں… اس آواز کی سمت میرے دماغ نے شعور کا سفر طے کیا تو حقیقت سامنے آئی ۔زینب کی لاش ایک بڑے ہسپتال کے سرد خانے میں کئی گھنٹوں سے اپنے اوپر ہونیوالے ظلم پر بین ڈال رہی ہے۔ایک ظالم نے بڑی بے دردی سے چلتی سانس روک دی اور ایک مسیحا نے سانس رکنے کی وجہ دنیا کو بتانی ہے لیکن زینب… میرا ذہن زینب کے خوبصورت نام پر اٹک گیا۔ اسکے تیکھے نین نقش، ماں کے محبت بھرے ہاتھوں سے سجے بال اور کپڑے… صاف شلوار قمیض میں باپ کی پیاری سی بیٹی زینب دنیا کی ہر فکر سے آزاد گھر سے نکلی ہوگی… میں انہی خیالوں میں کھوئی تھی کہ فون کی گھنٹی نے چونکایا، فون سے آنیوالی آواز نے سانس ایک بار روکی، سر جھکایا تھا۔۔ دماغ کی رو پھر سے بہکی، ننھے منے ہاتھ، نازک کلائیاں، دل لبھاتا چہرہ، گھر کی رحمت، باپ کی دلاری زیادتی کے بعد بڑی بے رحمی سے قتل کر دی گئی تھی۔ ابھی میں چھ سالہ بچی کی جسامت اور اس زیادتی پر حیران تھی کہ میرے ذہن میں ابھرتے سوال جو زینب اور زینب جیسی کئی بیٹیوں پر ہونیوالے ایسے ظلم پر سینے میں دفن تھے، پھر سر اٹھانے لگے۔ کیسے رونگٹے کھڑے ہوئے ہونگے چھ سالہ زینب کے؟ کیسے سینے میں دل پھڑپھڑایا ہوگا؟ جب اس مرد نے اسے روندا ہوگا اور زینب نے شدت تکلیف سے ماں کو پکارا ہوگا۔۔ انہی سوالوں میں میرا بھی سانس اٹک گیا لیکن اسلامی معاشرے کے مزاج اس بات سے مبرا دکھائی دیتے ہیں۔۔۔ بس سوال ہے تو اتنا کہ درندگی کا نشانہ بنتی، جنت میں لے جانیوالی بنت حوا آخر کیوں اور کب تک دنیا کی سب سے زیادہ غیر محفوظ ترین مخلوق رہے گی۔۔۔

Views All Time
Views All Time
530
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سحر اور زینب کی باتیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: