Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

محبت اک سراب – زرمینہ سحر

by فروری 1, 2017 بلاگ
محبت اک سراب – زرمینہ سحر
Print Friendly, PDF & Email

آج بہت عرصے بعد میرا لکھنے کو دل کیا، نیند کا انتظار کرتے، سوچوں کا تانا بانا بنتے میری توجہ لفظ محبت پر مرکوز ہو گئی، پھر خود پر نظر پڑی تو دیکھا ایک خوش و خرم لڑکی اپنے وجود کی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ ہر مشکل سے لڑکر محبت کے سمندر کے کنارے سے آگے ہی آگے چلتی جا رہی ہے کہ اچانک سامنے سے کوئی آتا دکھائی دیا جو میری طرف بڑھتا ہی جا رہا ہے یہاں تک کہ وہ سائے کی مانند مجھے اپنے ساتھ محسوس ہونے لگا۔۔ یہ سایہ ہاتھ تھامے مجھے محبت کے سمندر کی جانب واپس لے جانے لگا، پھر میں لمحہ لمحہ اس سمندر میں اترتی گئی، جب ڈوبنے لگی تو اندازہ ہوا کہ وہ سایہ تھا جو محبت کا سراب بن کر مجھے واپس سمندر تک لے آیا۔ خود کو اس سمندر سے نکالنے کی کوشش میں غوطے کھاتی، میں نے ہاتھ پاؤں مارے اور پھر کنارے کی جانب بڑھنے لگی، کنارے پر کوئی ہاتھ باندھے کھڑا میری ایک ایک کوشش پر نظر رکھے باہر آنے کا منتظر تھا، میں پاس آتی گئی۔ کنارے کے قریب ہاتھ بڑھا کر مجھے باہر لانے والا وجود پہلے ہی دو حصوں میں بٹا، پھر بھی مجھے اپنا گرویدہ بنانے لگا۔ کہتے ہیں محسن اور جان بچانے والے اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں وہ بھی الگ تھا سب سے۔ مجھے دیکھ کر آنکھوں کی چمک بڑھ جاتی، چہرے کی خوشی نے مجھے اسکا دیوانہ بنا دیا، مجھے پڑھتا، مجھ سے دل لگی کرتا۔ ہم محبت کے سمندر کے کنارے کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ خوبصورت احساس دل کو گدگداتے، کبھی محبت کا سمندری پانی پاؤں کو بھگوتا، کبھی ہم دونوں کے جذبات اس میں بہہ جاتے، سفر جان بچانے سے شروع ہوا تھا لیکن خوبصورت تھا، مجھے سب کچھ بھولنے لگا، مجھے یاد رہنے لگا تو بس وہ، اسکا لمس، اور میں اس کے پیچھے اسکے قدموں کے نشاں پر پاؤں رکھتے اسکا ہاتھ تھامے پھر سے محبت کے دریا میں اترنے لگی۔ آنکھیں موندے پیچھے چلتے، خوش گپیوں میں مگن کبھی سوچا ہی نہیں کہ انجام کیا ہوگا۔ پھر اچانک محبت کا سمندر ایک دلدل میں بدلنے لگا اور میں نے اپنے وجود کو اس دلدل میں دھنستے محسوس کیا، دلدل میں دھنسے پاؤں سے نظر اٹھی اور اپنے ہی ہاتھوں تک گئی، جان بچانے کے لئے ہاتھوں میں تھمے ہاتھ کو دیکھا تو وہ خالی نظر آیا، جان جانے لگی تھی خالی ہاتھ دیکھ کر، اتنا ڈر دلدل میں دھنسنے پر نہیں لگا تھا جتنا خالی ہاتھ دیکھ کر لگ رہا تھا، نظر ان خالی ہاتھوں سے اٹھنے کی ہمت ہی نہیں کر پا رہی تھی کہ آواز آئی کوشش کرو، نظر نے آواز کی جانب رخ کیا تو مجھے وہ کنارے پر کھڑا اپنی طرف ترحم سے دیکھتا دکھائی دیا، ساتھ ہی گھڑی کی جانب دیکھتا کسی کا منتظر بھی لگا۔ میری نگاہ واپس اپنے پاؤں تک گئی جو دکھائی نہ دیتے، گھٹنوں تک دلدل میں دھنسے تھے، پانی سر کے اوپر سے گزرنے کو تیار۔ مگر حیرانی سی حیرانی۔ میری ہر سوچ کو مفلوج کرنے لگی، محبت کے سمندر میں میرا ہاتھ پکڑے وہ مجھے ساتھ لایا تھا تو اب میں اکیلی کیوں تھی یہاں؟ خود کو بچانے کی کوئی کوشش کرنے کی بھی ہمت نہیں رہی تھی، پریشانی سے میں نے کنارے کی جانب دیکھا تو وہ کسی اور کا ہاتھ تھامے کنارے سے دور جاتا نظر آیا۔ خوش و خرم، ہنستا مسکراتا، پیچھے میری دم توڑتی سانسوں سے نظریں چرائے، آگے ہی آگے بڑھتا۔۔ میں نے اسکی جانب آخری نظر ڈالی اور پھر آنکھیں موند لیں۔ کہ اب مجھ میں خود کو محبت کے سراب میں ڈبونے کی سکت نہیں رہی تھی کیوں کہ محبت کا سمندر اپنی طاقت سے مجھے ڈھیر کر چکا تھا.

Views All Time
Views All Time
1159
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   ٹوٹ پھوٹ کا شکار خاندانی نظام اور طلاق
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: