Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ساس بھی تو سمجھے – زری اشرف

by جنوری 8, 2017 بلاگ
ساس بھی تو سمجھے – زری اشرف
Print Friendly, PDF & Email

"اچار ڈالنا ہے ہم نے ان ڈگریوں کا جب تمہیں طریقے سے کھانا پکانا ہی نہیں آتا "
یہ وہ جملہ ہے جو ہمارے ہاں اکثر نوبیاہتا دلہن کو ساس کی طرف سے انتہائی بے دردی سے سننے کو ملتا ہے۔ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جب بیٹے کے لیے رشتہ دیکھنا تھا تو بہت سی لڑکیوں کو ریجیکٹ کیا اور پھر اس لڑکی کو پسند کیا لاکھوں روپیہ شادی پر خرچ کیا ہے تو ذرا سی جگہ اپنے دل میں بھی بنا لی ہوتی اس آنے والی کے لیے،جس بیٹے کو اتنے لاڈ پیار سے پالا ہے اس کی شادی کی ہے تو مائیں یہ حوصلہ بھی پیدا کریں کہ وہ آپ کا بیٹا ہے پر اس عورت کا شوہر بھی ہے اسے پیار کرنے کا حق بھی ہے لاڈ اٹھانے کا حق بھی اپ نکاح نامے میں لکھ کر دے چکے ہیں تو اسے نئے خاندان کو سمجھنے کا موقع بھی ملنا چاہیئے۔نئی جگہ اور لوگوں کے مزاج سمجھنے میں کچھ وقت تو لگتا ہے.پر آج کل کی بہت سی خواتین ایسی ہیں جو خود کہتی ہیں کہ بیٹے کی شادی تو کردی پر جب وہ بہو کے ناز نخرے اٹھاتا ہے تو یہ بات برداشت نہیں ہوتی ۔تو ایسی خواتین کے لیے مخلصانہ مشورہ ہے کہ اپنے ہاتھوں سے اپنے بیٹے اور بہو کی زندگی برباد کرنے کے بجائے شادی ہی نہ کریں.اپنا وقت تو خوب اچھا گزار لیا ہے تو آنے والی نسل کو بھی ان کے مطابق جینے دیں.کیا فرق پڑ جائے گا کہ بہو کے بنائے ہوئے کھانے کی تعریف کردیں .جب پورا دن کام کرکے تھکی ہاری بہو کو شاباش دی جائے تو نہ صرف ساری تھکن دور ہو جاتی ہے بلکہ حوصلہ بھی بڑھتا ہے .پر ہمارے ہاں بہت سی لڑکیوں کے سسرال صرف ساس کی انا کی وجہ سے جہنم سے بھی بدتر بنے ہوئے ہیں.کپڑے بھی ساس کی مرضی سے بنیں گے .بچے بھی ساس کی مرضی سے پیدا ہوں گے کہیں آنا جانا بھی ساس کی اجازت کے بغیر ناممکن ہے .
بس کردیں آج کسی کی بیٹی کی زندگی اجیرن کریں گے تو سکون آپ کو بھی میسر نہیں ہوگا۔ یا تو وہ سب اپکی بیٹی بھگتے گی یا آپ خود الجھنوں کا شکار رہیں گی. اگر بیٹے کی شادی کر ہی دی ہے تو اپنی عزت کروانے کے لیے ضروری ہے کہ آنے والی کی عزت کریں.اسے حوصلہ دیں اس کے کام کی تعریف کریں اس سے نہ صرف گھر پر سکون ہو گا بلکہ آنے والی نسل کی بھی بہتر پرورش ہو سکے گی.
بہت سی خواتین یہ کہتی ہیں کہ میں اپنا بیٹا کسی دوسری عورت کے ساتھ شئیر نہیں کر سکتی ۔ تو سنئیے آپ کا شوہر بھی تو کسی کا بیٹا ہی تھا .کبھی اپکا دل بھی تو کیا ہو گا کہ آپ کو پزیرائی ملے .اگر آپ کے ساتھ برا سلوک ہوا ہے تب بھی آپ خود کو بدلیں اور آیک اچھی ساس ہونے کا ثبوت دیں .اپنی بہو کے لیے وہ مسائل نہ پیدا کریں جن کا سامنا آپ نے کیا ہے.آجکل کی پڑھی لکھی لڑکیاں بہت سمجھداری سے نہ صرف گھریلو امور سرانجام دے رہی ہیں بلکہ جاب بھی کر رہی ہیں.پتا نہیں ماں باپ نے کتنی مشکل سے ان کو پڑھایا ہو گا .کتنے لاڈ سے پالا ہو گا تو ان لڑکیوں اور آنے والی نسل کی ماؤں کی قدر کیجئے اس سے نہ صرف آپ کی اپنی زندگی پرسکون ہو گی بلکہ آپکا گھرانہ بھی مثالی ہو گا .
فرق کچھ نہیں پڑتا بس تھوڑی سی دل میں گنجائش پیدا کرکے تو دیکھیں نتیجے کے طور پر آپ بہو کی صورت میں ایک بیٹی سے ملیں گے .اور بیٹی بھی ایسی جو نہ صرف ہمیشہ آپ کے پاس رہے گی بلکہ آپ کی خدمت بھی کرے گی.

 

Views All Time
Views All Time
1093
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: