Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

سارے خواب راکھ ہوئے – زری اشرف

by دسمبر 10, 2016 بلاگ
سارے خواب راکھ ہوئے – زری اشرف
Print Friendly, PDF & Email

zariگھڑی کی سوئیاں پہلے رکیں یا سانسیں کچھ کہہ نہیں سکتے پر ایک بات تو طے ہے کہ میرے تیرے جیسے دو دن افسوس کریں گے، اداروں کی بے حسی پہ دکھ کا اظہار کریں گے اور پھر اپنی دنیا میں مگن ہو جائیں گے پر جس جس خاندان کے لوگ حادثے میں جان سے گئے وہ ہر حادثے میں اپنے پیاروں کو نہ صرف یاد کریں گے بلکہ ہچکیان بندھ جائیں گے …صرف ایک جہاز تو تباہ نہیں ہوا بہت سے خواب بھی جل گئے .کچھ خواب اسامہ وڑائچ کے تھے جب جہاز نے ہچکولے کھانا شروع کیے تو یقیننا اس کی بیوی اس سے لپٹی ہو گی اور بیٹی کواسامہ نے خود اپنے بازووں میں بھر لیا ہو گا کتنا خوفناک لمحہ ہو گا موت سامنی بیوی پہلو میں بیٹی بازووں میں اور ایک لمحے کے لیے بوڑھے ماں باپ کا چہرہ بھی یاد آیا ہو گا .مرنے کے علاوہ کوئ راستہ بھی نہین تھا اور مرنا چاہتا بھی نہین تھا اتنا قابل اور ایماندار آفیسر راکھ کے ڈھیر میں شامل ہو گیا ..جنید جمشید نے بھی آپنی بیوی کا ہاتھ زور سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگایا ہو گا اس کی نظروں کے سامنے بچے بھی آئے ہوں گے اور موتے بھی آنکھوں کے سامنے تھی .کتنا ازیت ناک لمحہ ہو گا ..پتا نہین سب کے دل پہ کیا گزری ہو گی کہ بچ نکلنے کا راستہ بھی نہیں اور جہاز بھی ڈگمگا رہا ہے ..وہی جنید جمشید جو دل دل پاکستان گائے تو ایک عالم جھوم اٹھے .وہ گورے رنگ کا زمانہ گائے تو ہر گوری لڑکی فخر کرے کہ یہ گانا میرے لیے ہے..وہ سانولی دلونی گائے تو میری جیسے کئ لوگ جھوم اٹھے کہ ہمارے لیے گایا ہے …
یقیناََ پائلٹ نے کو پائلٹ یعنی اپنے بھائ کی طرف آخری بار غور سے دیکھا ہو گا جہاز گرنے سے دو سیکنڈ پہلے اپنے خوابوں کے ساتھ بھائ کی جوانی بھی خاکستر ہوئ…
کتنے اور نوجوان تھے جن کی آنکھوں میں مستقبل کے خواب اور جزبے جوان تھے سب مٹی کا ڈھیر بن گئے..ان بوڑھے والدین کا سوچ کر ہچکی بند جاتی ہے کہ انہوں نے کیسے اپنے جوان بچوں کی موت کی خبر سنی ہو گی جیتے جی مرنے والی بات ہے یہ تو …
کیا کہیں .ادراوں کی نا اہلی پیشہ وارانہ غفلت یا روز بروز بڑھتی ہوئ کرپشن. حکومتی بے حسی کا رونا رووئیں یا ان لوگوں کا جو جنید کی موت پر خوشی منا رہے ہیں.. لعنت ہے ان لوگوں پر جو الله کے معاملات کا فیصلہ بھی خود کرنا چاہتے ہیں..کہ اگر آپ ہمارے مسلک کے نہین ہیں تو آپ کافر ہیں دوزخی ہیں..بندہ پوچھے کہ الله نے کب کہا ہے کہ میں بندوں کے کہنے پر جنت اور دوزخ عطا کروں گا ..خدائ فوجدار یہ بات سمجھنے کو تیا ہی نہیں وہ قندیل کی موت پہ بھی خوش وہ جنید جمشید کی موت پہ بھی مہو رقص اور امجد صابری کی موت کو بھی الگ ہی رنگ دیا…
بس کچھ زیادہ نہیں اتنا سجھ لیجئے کہ مرنے والے کی کتاب بند ہو گئ ہے اور اس کے معاملات وہ جانے اور اس کا خدا جانے .ہماری کتاب ابھی لکھی جا رہی ہے تو کیوں نہ ہم اپنی دنیا اور آخرت کی فکر کریں..
اللہ پاک مرنے والوں کی مغفرت فرمائے اور ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے. …

Views All Time
Views All Time
456
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: