مائیں کدھر جائیں – زری اشرف

Print Friendly, PDF & Email

جب ایک جوان مرتا ہے تو وہ اکیلا کہاں مرتا ہے ۔اسے پالنے والی ماں مرتی ہے، اسے دیکھنے والا باپ مرتا ہے، لاڈ کرنے والے بہن بھائی مرتے ہیں، جان وارنے والے دوست احباب مرتے ہیں،جوانی مرتی ہے، رگوں میں دوڑتا خوں جمتا ہے تو وہ سارے خواب بھی مر جاتے ہیں جو اس نے خود اور اس سے وابستہ افراد نے کبھی دیکھے ہوتے ہیں۔
ارے مارنے والو، بارود پھینکنے والو اور گولی چلانے والوتم کیا جانو کہ بچہ کیسے جوان ہوتا ہے ۔اس ماں سے پوچھو جو بچہ رحم مادر میں آتے ہی اس سے باتیں کرنا شروع کر دیتی ہے جو بچے میں کشش اور محبت ماں محسوس کرتی ہے وہ کوئی اور بھلا کہاں کر سکتا ہے ۔تبھی تو رب بھی بندے سے اپنی محبت کی مثال ماں کی مثال دے کے واضح کرتا ہے۔جب بچہ پیدا ہوکے ماں کی گود میں آتا ہے تو ماں کو بہت مضبوط کر دیتا ہے ۔بچوں کی خاطر ہر ماں دنیا کے ہر ظلم و ستم سے ٹکرا جاتی ہے ۔بچے کی محبت ماں کومضبوط بھی کرتی ہے اور ماں کا سر فخر سے بلند بھی ہوتا ہے ۔بچہ جوان ہوتا جاتا ہے اور ماں بوڑھی اور باہمت ہوتی جاتی ہے۔ماں اپنے بچے کے حوالے سے خواب دیکھتی ہے کہ جوان ہو گا کماکر لائے گا میرا سہارا بنے گا۔
پر ہوا کیا ماں ایسے ہی خواب دیکھتی اور بچے کی سلامتی کی دعائیں کرتی سوتی ہے اور جوان بارود کی نظر ہو جاتا ہے ۔کیا وہ لمحہ قیامت سے کم ہو گا جب ماں کے سامنے جوان بچے کی لاش آتی ہو گی کیا وہ صرف لاش ہے ؟
نہیں، ماں کی جان بھی گئی، ہمت بھی گئی اور ساتھ ہی سارے خواب بھی دفن ہو گئے۔
کیسے جیئے گی جب سہارا دینے والا ہی چلا گیا ،زندگی ہی لے گیا۔صرف دل ہی نہیں گھر بھی خالی کر گیا ۔اب ماں کیسے جیئے گی کیسے پرسہ دیں ایسی ماں کو؟
کوئی تمغہ
کوئی مذمتی بیان
کوئی دشمن سے نمٹنے کا وعدہ 
کوئی دہشت گردی روکنے کا دعویٰ
کچھ بھی اس ماں کے دکھ کا مداوا نہیں کر سکتا جس کا بیٹا بھری جوانی میں ناگہانی موت مارا گیا ہے۔
بس کردو 
میرے دیس کی ماؤں کی گودیں کب تک اجاڑو گے 
بہنوں کے مان اور بھائیوں کو کب تک بےسہارا کرتے رہو گے۔
ہمیں کچھ بھی نہیں چاہیے سوائے امن کے۔
کیسے بے حس حکمران ہو 
کیسے بے حس ادرارے ہو جن کواحساس ہی نہیں کہ مائیں کیسے جئیں گی اپنے بچوں کے بغیر۔

Views All Time
Views All Time
914
Views Today
Views Today
1
mm

ڈاکٹر زری اشرف

ڈاکٹر زری اشرف ایک ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ سوشل ورکر بھی ہیں۔ اور اس کے علاوہ مطالعہ کی بیحد شوقین۔ قلم کار کے شروع ہونے پر مطالعہ کے ساتھ ساتھ لکھنا بھی شروع کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: