Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

غیرتوں کی محافظ

by دسمبر 12, 2017 بلاگ
غیرتوں کی محافظ
Print Friendly, PDF & Email

ہمارے معاشرے میں بہن کو بہت احترام اور عزت دی جاتی ہے۔عام طور پر بہن کی بات ٹالی نہیں جاتی۔جو مانگ لے حاضر کیا جاتا ہے اور بھائی اپنی بہن کے لیے بہت کچھ کر گزرتے ہیں۔اگر بہن کنواری ہے تو اس کی سب فرمائشیں پوری کی جاتی ہیں ۔اور شادی شدہ بہن جب ماں باپ کے گھر آتی ہے تو گویا عید کا سماں ہوتا ہے۔بہن کی شادی کے بعد بہت دنوں  گھر میں اداسی کا سماں رہتا ہے۔۔۔

تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے۔ ہمارے ہی لوگ اور ہمارا ہی معاشرہ ہے جاں سارے خاندان کی عزت اور غیرت کا بوجھ اسی بہن کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔۔مجال ہے جو رشتے کے معاملے میں بہن سے اس کی پسند یا ناپسند کے بارے میں پوچھا بھی جائے۔جہاں باپ بھائی کا دل کیا اسی کھونٹے سے اس بہن کو باندھ دیا۔اور وہ لڑکی ساری عمر گھٹ گھٹ کر مر جائے گی پر اپنے میکے شکایت نہیں کرتی۔بھائی اگر چار عشق لڑائے اور کوئی لڑکی بھگائے یا پسند کی شادی کرے تو اس پر فخر کرتا ہے۔۔جبکہ کوئی لڑکی اگر یہ کام کرے تو بھائیوں کی غیرت جاگتی ہے اور اب تک بہت سی بہنیں غیرت کے نام پر قتل ہو چکی ہیں۔سال دو سال مقدمہ چلتا ہے اور باپ اپنے بیٹے کو معاف کردیتا ہے۔

وراثتی جائداد ہم اپنی بہن کو دینا تقریبا گناہ سمجھتے ہیں۔اگر کوئی بہن اپنا حصہ وصول کرلے تو اس سے لاتعلقی اور ساری عمر کا ملنا جلنا اور رشتے ناتے ختم ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   نور درویش سالگرہ مبارک ہو - عامر حسینی

بہت سے بھائی بہن سے قربانی مانگتے ہیں اور خود بس بہن کو قربان کرنا ہی جانتے ہیں۔جائیداد کی خاطر ونی کرنا،قرآن سے شادی کرنا،قتل کرنا اور لاتعلقی ہمارے معاشرے میں عام سی بات ہیں۔کیا کسی بہن نے آج تک اپنے بھائی کو غیرت کے نام پر قتل کیا ہے؟کیا بہنوں میں غیرت نہیں ہے؟؟نہیں ایسا نہیں بلکہ بہنیں سمجھتی ہیں کہ پسند کی شادی کوئی گناہ نہیں اس لیے وہ اپنے بھائی کی خوشی میں خوش ہوتی ہیں۔۔

بہن سے تیسرا رشتہ متعارف کروانے والے ہمارے ایک مولانا ہیں۔۔خود کو عالم دین اور اسلام کا ٹھیکیدار کہتے ہیں۔ان کی وجہ شہرت گالیاں ہیں۔باقی تمام گالیوں کے علاوہ پین دی سری متعارف کروانے کا  سہرہ ان کے سر جاتا ہے۔۔۔کاش وہ بہن کی اس قدر تذلیل نہ کرتے۔۔کیا بچے کیا بڑے سب ہی ان سے یہ گالی سیکھے ہیں۔جب علماء کرام، جو خود کو  اسلام کی تبلیغ کے علمبردار کہتے ہیں،وہ ایسی گھٹیا زبان سرعام استعمال کریں گے تو سوچیں جو عام عوام ہیں اور جو ایسے لوگوں کے پیروکار ہیں وہ کہاں جاکے رکیں گے۔اگر ایک عالم بہن کی گالی دے گا تو لازمی اس کا پیروکار بہن کا سر کاٹ کر پیش کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا ۔۔

یہ بھی پڑھئے:   دُختر مشرق بے نظیر بھٹوکا جنم دن | عرفان اعوان

 گذارش صرف یہ کرنی ہے کہ ہمارے معاشرے کی بہن بیٹی تو ویسے ہی حالات کی چکی میں پسی ہوئی ہے اسے یوں اپنی گندی زبانوں سے سڑکوں اور چوراہوں پر مزید رسوا مت کیجئے ۔۔یہی بہنیں جو آپ کی عزت اور احترام میں مری جا رہی ہیں،ان کو زندہ رہنے کا حق دینا اسلامی معاشرے کا فرض ہے۔ذرا دیکھیے اسلام کی تعلیمات اٹھا کر اور پڑھیے کہ ہمارے رسول اکرم ﷺکے اسلام میں عورت کا کیا مقام ہے۔۔اور آپ عورت کو کس طور رسوا کر رہے ہیں۔ذرا سوچئے گا ضرور ۔۔۔

Views All Time
Views All Time
391
Views Today
Views Today
2
mm

ڈاکٹر زری اشرف ایک ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ سوشل ورکر بھی ہیں۔ اور اس کے علاوہ مطالعہ کی بیحد شوقین۔ قلم کار کے شروع ہونے پر مطالعہ کے ساتھ ساتھ لکھنا بھی شروع کر دیا ہے۔

Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: