Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

زینب ہے میرا نام

by اکتوبر 18, 2016 بلاگ
زینب ہے میرا نام
Print Friendly, PDF & Email

zariپیارے نبی پاک صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے جنگ کا پہلا اصول وضع کیا کہ کمزوروں، عورتوں، بوڑھوں، بچوں اور نہتے لوگوں کو دوران جنگ بھی نہیں مارا جائے گا ،تو پھر یہ میرے ملک میں کون سی جنگ جاری ہے؟
جس کے نہ کوئی اصول ہیں اور نہ شرائط جس کو جب چاہو جہاں مرضی کافر کہہ کر ماردو کوئی پوچھنے والا فریاد سننے والا ہی نہیں ہے.
اک بستی ایسی بستی ہے
جہاں موت ہمیشہ برستی ہے
اس بستی کی میں باسی ہوں
اور رات کو بھوکی سوتی ہوں
ہر پل جو موت کا سایہ
وہ سر پہ میرے رہتا ہے
میرا نام بھی تو ہے زینب
مسلک پہ مار دی جاوں گی…
میرے ماں باپ نے میرا نام زینب رکھا خانوادہ رسول پاک ﷺکی محبت میں.بہت لاڈ سے پالا اب میں 30 سال کی ہونے والی ہوں اس دوران میرے مان باپ نے مجھے کبھی گالی نہیں دی اور نہ تھپڑ مارا کہ میرے نام کی نسبت بہت خاص ہے۔ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی باسی ہوں..اس دھرتی کی بیٹی ہوں جہاں ہر سو سبزا اگتا ہے کھیت لہلہاتے ہیں پرندے گیت سناتے ہیں ندیاں شور مچاتی ہیں..
جس نام کی نسبت اور لاج میں نے خود سے زیادہ سنبھالے رکھی اسی نام کی شناخت پہ مجھے گولیاں مار دی گئیں .
میر ا نام زینب ہے
مولا حسین ؑ کے نام کی مجلس میں جاتی ہوں تو ایک بم کی نظر ہو جاتی ہوں نہ صرف خود جان سے جاتی ہوں بلکہ میرے ساتھ میرا گود میں کھیلنے والا بچہ بھی ہمیشہ کے لیے مسکرانا بھول جاتا ہے
کب تک ؟
آخر کب تک یہ ظلم ہوتا رہے گا کہ نہ میں راستوں اور راہداریوں میں محفوظ ہوں
نہ گھر کی چار دیواری میں محفوظ
نہ بازار میں جائے پناہ ہےاور نہ ہی مسجد اور امام بارگاہیں محفوظ.
میں زینب اس نام کی لاج کو نھباتے نبھاتے خو ہی نبھ گئی ہوں.
اور کیا ماتم صرف کوفے کی گلیوں میں ہوا تھا
کرب و بلا کیا صرف کربلا تک ہی محدود ہے
نہیں نہیں
آج اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے اس ملک میں روز کوئی نہ کوئی زینب جان سے جا رہی ہے
کبھی مسلک کی آڑ میں
کبھی مذہب کی اوٹ میں
اور کبھی غیرت کے نام پہ
آج میری لاش اس سفید کفن میں لپٹی ہوئی ہے
وہ صحن جو جائے امان تھا
آج کربلا کا منظر پیش کر رہا ہے
میرے بچے تڑپ رہے ہیں
میرے ماں باپ میری لاش کو حسرت سے دیکھ رہے ہیں

میرا قصور کیا ہے ؟
میرا نام زینب ہے ؟
میری نسبت بہت اعلیٰ ہے ؟
میرا مسلک آپ سے مختلف ہے ؟
یا پھر میرے جینے کا حق آپ کے پاس ہے ؟
وہ ماتم جو کوفے کی گلیوں میں یزید اور اس کے ظالم ساتھیوں کے ظلم کے باعث شروع ہوا تھا وہ آج بھی کسی نہ کسی صورت میرے ملک کی کوئی نہ کوئی زینب بھگت رہی ہے
میری دعا ہے
کہ میرے ملک کو کربلا بنانے والے نیست و نابود ہو جائیں
اور میرا ملک ہر زینب کے لیئے جائے امان بن جائے

Views All Time
Views All Time
493
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: