Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

گال چھو لئے تو کیا ہوا (حاشیے) | زری اشرف

by جولائی 15, 2017 حاشیے
گال چھو لئے تو کیا ہوا (حاشیے) | زری اشرف
Print Friendly, PDF & Email

آج قندیل بلوچ کے قتل کو ایک سال ہو گیا ہے۔اس کے دو قاتل جیل میں اور باقی 5 ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔قتل کا اصل محرک آج بھی دندناتا پھر رہا پے اور فتوے بانٹتا ہے۔
جی ہاں سوشل میڈیا سے شہرت پانے والی فوزیہ جو تین مرلے کے ٹوٹے پھوٹے گھر میں رہتی تھی۔ماں باپ کے ساتھ ساتھ اپنے بھائیوں کی بھی مالی مدد کرتی تھی۔اپنے حالات کی تبدیلی کے لیے جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقے سے نکل کر لاہور اور اسلام آباد کے ریسٹ ہاؤس تک پہنچنے میں کتنے لوگوں کی ہوس کا نشانہ بنی اور کتنی مشکلات کا سامنا کیا یہ تو وہی جانتی تھی جو اب مرحومہ ہو چکی ہے۔پر میں تو اتنا جانتی ہوں کہ مفتی قوی کے ساتھ تصاویر منظر عام پر آنے سے پہلے بہت کم لوگ قندیل کو جانتے تھے ۔مرنے والی مر گئی پر اپنے ماں باپ کو بے سہارا چھوڑ گئی۔آج بھی اس کا باپ روتا ہے کہ جب سے قندیل مری ہے پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوا دوا اور علاج تو بہت دور کی بات ہے۔۔

قندیل اچھی تھی یا بری پر وہ میری آپ کی اور مفتی صاحب کی طرح منافق نہیں تھی جو تھی جیسی تھی سب کے سامنے تھی ۔منافقت کا لبادہ اوڑھے بہت سے لوگوں کو بےنقاب کردیتی اگر زندگی قندیل کو مہلت دیتی۔

قندیل کے قتل کا محرک بننے والے مفتی نے آج بی بی سی کی رپورٹر خاتون کے گال چھو لیے جب وہ رپورٹر مفتی قوی سے قندیل کے قتل کا ایک سال مکمل ہونے پر اظہار خیال کے لیے گئی تھی ۔

مفتی صاحب اس بات کا کیا جواز پیش کریں گے اس بات کا تو پتا نہیں پر مجھے لگتا ہے مفتی قوی بھی اور بہت سے مردوں کی طرح ہر خاتون کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں۔کیا خواتین گھر سے باہر نکلنا چھوڑ دیں یا مفتی جیسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہتھ کڑیاں پہنا دینی چاپیں تاکہ ان کے بے قابو ہاتھ کسی خاتون کے گالوں تک نہ پہنچ سکیں۔

مفتی صاحب جن کا دعوٰی ہے کہ ان کا پورا خاندان حافظ قرآن ہے اور مفتی صاحب خود حسن پرست ہیں اور ہر حسین عورت کو دیکھنا شاید ثواب بھی سمجھتے ہیں۔ اندرون اور بیرون ملک ان کا ادارہ فتوے بانٹتا ہے اور لوگوں کے روز مرہ مسائل حل کرتے ہیں۔کیا یہ ادارہ اپنے ہی مفتی پر بھی کوئی فتوی صادر کرے گا جس کے ہاتھ اور زبان بے قابو ہو چلی ہے۔ابھی نہ جانے کتنی خواتین جو مفتی صاحب کے پاس مختلف مسائل کے حل کے لیے آتی ہوں گی اور جاتے ہوئے گھر تک ان کے ہاتھ کا لمس محسوس کرتی ہوں گی ۔
اتنے عالم فاضل کے لئے تو ہم کم علم نکمے ہدایت کی دعا بھی نہیں کر سکتے ۔بس یہی کہہ سکتے ہیں۔ چھو لینے دو نازک گالوں کو

Views All Time
Views All Time
1369
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: