Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

یہ قندیل نہیں بجھے گی | زری اشرف

یہ قندیل نہیں بجھے گی | زری اشرف

شرمندگی ہوئی مجھے جب ایک عورت نے قندیل کو غلط الفاظ میں یاد کیا۔۔پہلی بات تو یہ کہ قندیل مر گئی ہے اسے کے معاملات وہ جانے اور اس کا اللہ جانے۔۔
قندیل مجھے اس لیے بہت اچھی لگتی ہے کہ وہ میری آپ کی اور مفتی صاحب کی طرح منافق نہیں تھی۔وہ اچھی تھی یا بری سب کے سامنے تھی۔اس کے قتل کے بعد جب قندیل کے باپ نے کہاتھا کہ وہ میری بیٹی نہیں بیٹا تھی۔مطلب وہ اپنے بوڑھے ماں باپ کی دیکھ بھال بھی کر رہی تھی جبکہ ان کے چار بیٹوں میں سے ایک بھی اس قابل نہیں تھا کہ اپنے ماں باپ کا خیال رکھ سکتا ۔تو لعنتی کردار کون ٹھہرا؟ قندیل یا اس کے بھائی۔
ہاں قندیل بہت بری تھی۔معاشرے کے منہ پر بدنما دھبہ تھی جسے اس بے غیرت بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کیا ۔اس کا مطلب ہے کہ وہ مولانا جو دم درود کے بہانے عورتوں کو گلے لگانے سے لیکر حاملہ کرتے ہیں ان کے بھائی بہت بے غیرت ہیں جو ایسے حضرات کو قتل ہی نہیں کرتے۔کیا شریف خاندانوں کی غیرت مر گئی ہے؟
قندیل بری تھی۔بہت بری تھی۔تو کیا وہ اینکر بہت اچھا ہے اسے شرافت کا انعام ملے گا جس نے قندیل کو اپنے پروگرام میں بلا کر اپنا اور چینل کا قد بلند کیا ۔روٹین میں ایک گھنٹہ کیا جانے والا پروگرام دو گھنٹے کیا ۔اس لڑکی کا سرعام تماشا بنایا ۔کیونکہ قندیل کم پڑھی لکھی اور غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اس لیے میڈیا کا آسان ٹارگٹ تھی۔ہمارے ملک کے بہت سے امیر زادے ہر روز ایک نئی لڑکی کے ساتھ گھومتے پھرتے اور ہوٹلوں میں عیاشی کرتے ہیں پر کسی مائی کے لال کی جرات نہیں کہ ان پر ایک لفظ بھی بولے کہ نام نہاد دانشوروں کے بھی پر جلتے ہیں ان کا نام لیتے ہوئے۔
قندیل بہت بری تھی اس کے کام بھی برے تھے پر مفتی صاحب کا تو ایک نام ہے وہ خود کہتے ہیں کہ میرا سارا خاندان حافظ قرآن ہے۔تو پھر ان کا حلالے کا سینٹر بھی ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے اور کبھی میڈیا اور شرفاہ کی زبان سے ایک لفظ بھی ادا نہیں ہوا۔کیوں ؟
واقعی قندیل کو مر ہی جانا چاہیئے تھا اور بہت اچھا ہوا وہ اس منافق معاشرے سے جلدی چلی گئی ۔۔جس میں بڑے بڑے بنگلوں اور پوش علاقے کی کوٹھیوں میں کوٹھوں والے کاروبار چلیں اور چلانے والے کیا مرد کیا عورتیں سب ہی باعزت ٹھہریں کیونکہ ان کا رہن سہن اور رکھ رکھاؤ بہت اعلی ہے۔
قندیل بہت بری تھی ۔پر وہ اس منافق معاشرے کو ننگا کر گئی۔اگر وہ دوچار سال اور جیتی تو نجانے کتنے مکروہ چہرے سامنے آتے جو شرافت کا لبادہ اوڑھے خود کو حاجی اور نمازی ثابت کرتے نہیں تھکتے ۔
قندیل تم بری تھیں۔ پر تمہارے جانے سے بہت سے دانشوروں کی اصلیت اور اوقات بھی سامنے آ رہی ہے۔خود کو لفظوں کے جادوگر کہنے والے بھی بری طرح بےنقاب ہوئے جا ریے ہیں۔ قندیل تم۔مرنا بھی چاہو تو یہ نام نہاد جہلا تمہیں مرنے نہیں دیں گے ۔کیونکہ تمہارے اس بھائی کی نام نہاد غیرت تو جاگ ہی گئی جسے تم کھلا بھی رہی تھیں اور اس کا کاروبار بھی سیٹ کردیا تھا۔پر آن مولویوں اور نقادوں کے خاندانوں میں غیرت یا بےغیرتی کا کوئی پیمانہ ہے ہی نہیں ۔
اس لئے تم ایسے ہی زندہ رہو گی جیسے منٹو کے افسانے زندہ ہیں۔

Views All Time
Views All Time
497
Views Today
Views Today
3
mm
ڈاکٹر زری اشرف ایک ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ سوشل ورکر بھی ہیں۔ اور اس کے علاوہ مطالعہ کی بیحد شوقین۔ قلم کار کے شروع ہونے پر مطالعہ کے ساتھ ساتھ لکھنا بھی شروع کر دیا ہے۔
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: