Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ہاتھ کیا چومتی وہ انگلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں – ڈاکٹر زری اشرف

by اپریل 18, 2017 بلاگ
ہاتھ کیا چومتی وہ انگلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں – ڈاکٹر زری اشرف
Print Friendly, PDF & Email

سفید کفن میں لپٹا وجود میرے سامنے تھا اور میں کرچی کرچی روح کے ساتھ اسے ایک ٹک دیکھے جا رہی تھی۔ ایک دم سے یاد آیا جب کہ جب پانچ ماہ کی حاملہ تھی تو اس کی پہلی حرکت محسوس کی تو میں کتنی سرشار تھی ۔کیا کیا خواب دیکھنے شروع کیے کہ اس کی شکل کیسی ہو گی ۔کیسا خوبصورت بچپن ہوگا۔میرے آنگن میں آئے تو جیسے بہار آگئی۔میں اپنی ہر محرومی بھول گئی۔ مجھے تم میں اپنی ساری کائنات نظر آنے لگی ۔ پہلی بار مسکرانا اور میری انگلی تھام کر چلنا بھی کبھی نہیں بھولا ۔اسکول کا پہلا دن اور میری آنکھوں کے سامنے ہے۔بچے جوان ہوتے ہیں تو ماں باپ بڑھاپے کی طرف جانے لگتے ہیں۔تمہاری جوانی نے میرا حوصلہ بڑھایا اور مجھے پر پل جوان رکھا۔
کاش میں یہ دن کبھی نہ دیکھتی جوان بیٹے کی لاش اور لاش بھی ٹوٹی پھوٹی ۔تمہاری موت سے پہلے الزامات کی بوچھاڑ ہماری دہلیز تک پہنچی ۔ہم تو اسی لمحے مر گئے تھے۔۔پھر بھی میرا دل کیا کہ جن ہاتھوں کو پکڑ کر چلنا سکھایا تھا وہ ہاتھ آخری بار تھام کر دیکھوں شاید زندگی کی کوئی رمق باقی ہو پر وہاں تو انگلیاں بھی سلامت نہیں تھیں۔میں وہ لمحہ ساری زندگی نہ بھول سکتی ہوں اور نہ بیان کر سکتی ہوں جب تمہارا ٹوٹا پھوٹا ہاتھ میرے ضیف ہاتھ میں تھا۔
کیا طائف والوں سے بڑا بھی کوئی گستاخ ہوگا؟ ان کے لیے رحم اور ہدایت مانگی گئی۔۔کوڑا پھینکنے والی کی تعزیت کی گئی۔چچا کے قاتل کو معاف کیا گیا ۔بیوی پر تہمت لگانے والوں سے حسن سلوک کیا گیا ۔تو اس نبی پاک کے پیروکار کس راستے پر چل نکلے ہیں۔جہاں نہ بات سنی جاتی ہے نہ سمجھی جاتی ہے۔بس صرف موت ہی مقدر ٹھہرتی ہے اور وہ بہت اس قدر وحشت ناک موت کہ مائیں سوچنے لگیں کہ اپنے بچے کہاں چھپائیں۔
پھر موازنہ کرتے ہیں جنازوں سے۔ارے نادانوں جب حشر بپا ہوگا تو لاکھوں کے جنازے والے۔ اور بے گورو کفن سب ایک ہی قطار میں کھڑے ہوں گے۔ہمارے ساتھ ہمارے اعمال جائیں گے نہ کہ جنازے کا مجمع ۔میرا رب جسے چاہے گا اسے بنا حساب کے گزار دے گا ۔یہ سارے حساب کتاب میدان حشر کے لیے چھوڑ دو۔حشر سے پہلے حشر کا میدان مت لگاؤ ۔کسی کا گھر اجاڑنے سے پہلے اپنے آنگن کے پھولوں کو آیک نظر لازمی دیکھ لینا کہ کل ان کی بھی باری آئے گی ۔
مشال خان ہزاروں خواب لیے بھری جوانی میں اس دنیا سے چلا گیا ۔ماں باپ کو جیتے جی مار گیا ۔اس سے وابستہ سارے رشتے ساری عمر اک اذیت ناک صورتحال سے دوچار رہیں گے۔
مرنے والا کلمہ پڑھ رہا تھا اور مارنے والے اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے خدا کے بندے پر قہر برسا رہے تھے۔اور انتہائ افسوس کا مقام ہے کہ یہ خود کو مسلمان کہتے ہیں۔
شاید ان کو اس نہتےمسلمان کا کلمہ سنائی نہیں دے رہا تھا۔
کاش ہم اس اذیت ناک موت سے بےخبر ہی رہتے ۔

میرے سینے میں بہت برچھیاں ٹوٹی ہوئی تھیں
ہاتھ کیا چومتی وہ انگلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں

Views All Time
Views All Time
998
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: