لڈی ہے جمالو پا۔ زری اشرف

Print Friendly, PDF & Email

سر پہ عمامہ پہنے یا ٹوپی درس وہ ایسے دے گا کہ بس لگے دنیا کا آج آخری دن ہے۔بس آج مرے یا کل ۔دنیا پہ لعنتیں بھیجتا ہے۔لوگوں کو عاجزی اور نمازی ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے سادہ زندگی گزارنے کے مشورے دیتا ہے۔۔لوگوں کے بچوں کو جہاد پر بھجواتا ہے ۔شہادت کے فلسفے کو اجاگر کرتے ہوئے آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ہیں۔۔اس کا دین صرف نماز اور جہاد کے ارد گرد گھومتا ہے۔غریبوں کو چندے کے اور جنت کے لالچ میں حوروں کا دیدار کرواتے کرواتے مروا دیتا ہے اور اپنے بچے یورپ اور امریکہ میں اعلی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔یہ ہے میرے اسلام کا ٹھیکیدار
لڈی ہے جمالو پا ۔
لوٹتا ہے کرپشن کا بادشاہ ہے۔بیان پر بیان دیتا ہے۔۔جھوٹ ایسی روانی سے بولتا ہے کہ چلتا پانی بھی شرمائے۔اپنی کہی بات پر چوبیس گھنٹے تو درکنار چوبیس منٹ بھی قائم نہیں رہتا۔کشکول توڑنے کا دعویدار کب لوگوں کے دل توڑ دیتا ہے لوگوں کو اپنی ہوس کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے اور اسے احساس تک نہیں ہوتا۔ووٹ ایسے مانگتا ہے کہ دنیا کے سارے فقیروں کی عاجزی بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی ۔اور پھر جیت کا نشہ اسے عوام سے اتنا ہی دور کردیتا ہے جتنا کہ عوام سے چاند دور ہے کہ نظر بھی آئے آور چھو بھی نہ سکیں۔اپنے بچے آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کریں اور عام عوام کو ٹاٹ والا سکول بھی میسر نہیں ۔یہ ہے میرے ملک کے سیات دان۔۔لڈی ہے جمالو پا
وردی کالی ہے یا خاکی ۔تنخواہ کے اپنے مزے ہیں اور بونس کی اپنی ٹور۔کرنے کو کام نہیں اور بیٹھنے کو فرصت نہیں۔عوام کو کیڑے مکوڑے سے بھی کم اہمیت دینے والے عوام کے دیے گئے ٹیکس کے پیسوں سے فل عیاشی کرتے ہیں۔عوام کے تحفظ کے ذمے دار ہی عوام کو ہر ناکے پر مختلف حیلوں بہانوں سے لوٹتے نظر آتے ہیں۔ہر دوسرے دن دہشت گردوں کی کمر توڑنے کی نوید سناتے ہیں۔۔اور وہ ٹوٹی پھوٹی کمر سے پورے ملک میں دندناتے پھر رہے ہیں۔عوام کے ٹیکس سے جن اداروں اور سیاستدانوں کو علاج کی مفت سہولیات حاصل ہیں وہی عوام سرکاری ہسپتال میں ایک درد کی گولی کو ترستے ہیں۔
ہم دشمن سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔
لوہے کی فیکٹری کے علاوہ کبھی لوہا نظر نہیں آیا۔
ہم دہشت گردی کو ختم کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔
اور پھر رات کو پرسکون سو جاتے ہیں۔
ہم بے روزگاری ختم کریں گے ۔
اور پھر اپنا اور ہمارا پیسہ لوٹ لوٹ کر باہر اپنے کاروبار چمکاتے ہیں۔
واہ بھئ واہ میرے ملک کے فیصلہ سازو۔
کب تک بے گناہوں کے خون سے کھیلو گے ۔
کب تک نام نہاد شہادت کا لولی پاپ دیتے رہو گے ۔
کبھی تو یوم حساب ہوگا۔
کب تک ہم بےوقوف عوام کو اور بےوقوف بناو گے۔
اعلی افسران مریں تو ان کے بچوں کے ساتھ تصویریں اور کروڑوں کے حساب سے پیسے۔
اگر عام عوام میں تو ان کے بچوں کو دھکے ۔
واہ تیرے منصفی کے صدقے جائیں اور کہتے جائیں۔
لڈی ہے جمالو پا

Views All Time
Views All Time
505
Views Today
Views Today
1
mm

ڈاکٹر زری اشرف

ڈاکٹر زری اشرف ایک ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ سوشل ورکر بھی ہیں۔ اور اس کے علاوہ مطالعہ کی بیحد شوقین۔ قلم کار کے شروع ہونے پر مطالعہ کے ساتھ ساتھ لکھنا بھی شروع کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: