دم توڑتی رحمتیں – زری اشرف

Print Friendly, PDF & Email

چھ سال کی بچی کو زیادتی کے بعد گلا گھونٹ کر مار دیا اور لاش ویران مکان میں پھینک دی ۔۔۔۔بظاہر یہ ایک خبر ہے اور خبر بھی ایسی جو جبر سے بھر پور ہے۔۔۔۔جس وقت 6 سال کی بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا وہی لمحہ تو اس کی موت تھی ۔۔پھر بھلا گلا گھونٹنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ویران تو وہ اسی وقت ہو گئی تھی جب ایک نام نہاد مسلمان اپنی ہوس پوری کر رہا تھا پھر بھلا اسے آباد مکان میں پھینکو یا ویران سڑک پر اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔اگر اس جوان سے پوچھیں تو وہ کہے گا کہ میں بہت شرمندہ ہوں۔۔شیطان سوار ہو گیا تھا ۔۔۔جبکہ میرا ماننا یہ ہے کہ اللہ پاک کے بعد اس دنیا میں انسان سے زیادہ طاقتور کوئی اور مخلوق نہیں۔۔۔ہم ہر برے کام کا ذمہ شیطان کے سر ڈال کر خود بری ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔کیا نفس پر قابو پانا اتنا مشکل ہے کہ آپ کسی کی عزت بھی لیں اور جان بھی۔۔۔۔
ویسے میں حرام خور قاتل کے اس ظلم کی حمایت کرتی ہوں کہ اس نے بچی کا گلا گھونٹ کر بہت اچھا کیا۔۔۔کیسے جیتی وہ ان درندوں کے معاشرے میں۔۔۔کیا وہ ساری زندگی اس واقعے کو بھول پاتی؟ پرسکون نیند کے لئے وہ تاحیات ترستی۔۔وہ کبھی سیکس کے خوف سے نکل ہی نہیں سکتی تھی۔۔۔اگر وہ بچ جاتی اور سر راہ چلتے کسی کی خونخوار نظریں اس کا تعاقب کرتیں تب بھی تو اسے اپنی زندگی بوجھ ہی لگتی۔۔۔بازار میں کسی اجنبی کا جان بوجھ کر ٹکرانا بھی تو اسے ایک اذیت ناک صورتحال سے دوچار کرتا۔۔۔کسی بس سٹاپ پر لفٹ دینے کے بہانے جب کوئی اس کے گرد چکر لگاتا تب بھی تو سے تقریبا مرنا ہی تو تھا۔۔۔جب کسی بھیڑ بھاڑ والی جگہ پر اسے کسی انجانے ہاتھ سے چٹکی کاٹی جاتی تو اس کیفیت سے وہ کیسے نجات پاتی۔۔کوئی بہت قریبی رشتے دار جب اسے ہراساں کرتا تو وہ کیسے جیتی ۔۔تو اچھا ہوا کہ وہ مر گئی ۔۔
کسی بچی پر اتنا ظلم ہو اور عدالت میں ثبوت یا عدم ثبوت کی بنا پر ملزم آزاد پھرے تو ایسے معاشرے میں عورت کا وجود باقی رہنا بنتا تو نہیں پر پھر بھی بیٹیاں پیدا ہوتی ہیں۔۔۔ان کو رحمت کہا جاتا ہے تو پھر وہ اتنی زحمت کیوں اٹھاتی ہیں۔۔۔۔
کاش میں اپنی زندگی میں ایسے بندے کو پھانسی کی سزا ملتے دیکھوں جو زیادتی کا مجرم ہو۔۔۔۔
کاش زیادتی کے مجرم کو بھی غیرت کے نام پر قتل کیا جائے۔۔۔
کاش مرد اپنے آپ پر اتنا قابو پانے میں کامیاب ہو جائے کہ آئندہ کوئی بچی نہ زیادتی کرنے سے مرے نہ اس کا گلہ دبانے کی نوبت آئے اور نہ ہی اسے کسی ویران مکان میں پھینک کر سارا ملبہ شیطان پر ڈالا جائے۔۔۔۔۔۔

Views All Time
Views All Time
430
Views Today
Views Today
1
mm

ڈاکٹر زری اشرف

ڈاکٹر زری اشرف ایک ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ سوشل ورکر بھی ہیں۔ اور اس کے علاوہ مطالعہ کی بیحد شوقین۔ قلم کار کے شروع ہونے پر مطالعہ کے ساتھ ساتھ لکھنا بھی شروع کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: