Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بلوچستان یونیورسٹی: ناہل انتظامیہ ، بے بس طلبہ | ظریف رند

by اگست 4, 2017 بلاگ
بلوچستان یونیورسٹی: ناہل انتظامیہ ، بے بس طلبہ | ظریف رند
Print Friendly, PDF & Email

جامعہ بلوچستان وہ ادارہ ہے جسے اگر بلوچستان کی سیاست اور حالیہ تحریک کا مرکز کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ بلوچ سماج کی واحد نرسری ہے جہاں نوجوان نسل سیاسی سرکلوں سے بنیادی تربیت لیکر اپنی وجود اور اپنی محرومیوں سے روشناس ہوتی ہے اور یہیں سے سیاسی رائے پورے بلوچستان میں پھیلتی اور اس پر متفقہ عملدرآمد ہوتا رہا ہے۔ پاکستان میں ضیاءالحق کے دور سے طلبہ یونین پر پابندی کے بعد تعلیمی اداروں میں طلبہ طاقت منتشر ہوئی اوراس وقت سے ادارے کے فیصلہ جات میں صرف انتظامیہ کی ہی اجارہ داری قائم رہی مگر بلوچستان میں حالات مختلف رہے ہیں اور تعلیمی اداروں میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی طاقت کو زیر کرنے میں انتظامیہ ہر طرح سے ناکام رہی ہے مگر یونین کو قانونی اختیار نہ ہونے کی وجہ سے یہ طاقت کیمپس کے اندر تو اپنا مضبوط اظہار رکھتی رہی ہے مگر آفس میں آئینی اختیار نہ ہونے کے سبب فیصلہ جات پر یونیورسٹی انتظامیہ زور آور ہوتا گیا اور ساتھ ہی بی ایس او کی اپنی ٹوٹ پھوٹ سے طلبہ طاقت بری طرح منتشر ہوتے ہوئے آج اس نوبت تک آن پہنچی ہے کہ وائس چانسلر کُھلی بدمعاشی پر اُتر آیا ہے جبکہ طلباء ہر طرح سے بے بس بھٹک رہے ہیں۔ اکیسویں صدی کی ابتداء میں بی ایس او ایک طاقتور ادارے کے طور پر بلوچستان کے تمام تعلیمی میں موجود تھی جہاں سے وہ قومی سیاست کو بھی قابو کرتی تھی جو نا صرف نام نہاد قوم پرست قیادت کوناقابل قبول تھی بلکہ ریاست بھی ان نوجوان سرفروشوں سے حسبِ روایت تنگ تھی جو کسی بھی صورت قابو نہیں آرہے تھے۔ یونیورسٹیاں اور کالجوں کے ہاسٹلوں میں بی ایس او کے باقائدہ لائبریری اور دفاتر موجود ہوتے تھے جہاں روزانہ سرکل لگتے تھے جس میں موجودہ عہد و حالات اور سیاسی ایشوز پر بحث مباحثے اور فیصلہ جات ہوتے تھے۔ پرویز مشرف نے جب اپنی دور حکومت میں بلوچستان پر تابڑ توڑ حملے شروع کر دیئے اور بلوچ وسائل کو سامراجی ممالک کو بیچنا اور بلوچستان کی کالونائزیشن میں شدّت لانا شروع کی تو بی ایس او ہی وہ واحد منظّم طاقت تھی جو مسلسل مزاحمت کرتی رہی اور بلوچ سماج میں ریاست کے خلاف ایک مضبوط رائے قائم کرنے میں کامیاب ہوئی جس کی پاداش میں ریاست نے سب چھوڑ کر سب سے پہلے بی ایس او کو ہی زیر عتاب بنایا۔ ریاست نے ایک طرف اپنی سامراجی پالیسیوں سے بی ایس اوپر حملے شروع کیئے تو دوسری جانب اپنی تابعدار نام نہاد قوم پرست پارٹیوں کے زریعے اس عظیم ادارے کی طاقت کو منتشر کرنے میں لگ گئے۔ بی ایس او کی قیادت نے جس بڑے محاذ کو کھولا تھا اور جس دشمن سے ٹکر لی تھا اس کیلئے جذبات تو قطعی طور پر مضبوط اور پر خلوص تھے لیکن شاید تیاری مکمل نہیں تھی اس لئے مختصر عرصے میں ہی دشمن بی ایس او کو اداروں سے دور کرنے میں کامیاب ہوا اور اس کی باقیات کو موقع پرست پارٹیوں کی چھتر چھایا میں چاپلوسی کی حد تک محدود کر دیا گیا۔ اس طرح کیمپس کے جوشیلے سرفروش باہر ہوئے اور پالتو دُم چھلّے اپنے آپ کو کیمپس کے راجہ سمجھ بیٹھے جن کی بقاء چاپلوسی کرنے پر ہی منحصر ہے۔ اس دورانیئے میں ہر اُس آواز کو زیر کیا جاتا رہا جس سے نوجوانوں میں کرود اُبھارنے کے آثار موجود تھے اور اس کام میں موقع پرست قیادت نے ہر لحاظ سے بلوچ دشمن قوتوں کی معاون کاری کی اور اپنے ہی قوم کے مستقبل پر قدغن لگائے ۔ جامعہ بلوچستان سمیت بلوچستان کے تمام تعلیمی اداروں کے فیصلہ جات تعلیمی ادارے اور محکمہ تعلیم کے فورم کے بجائے کہیں نادیدہ بینچوں پر ہوتے ہیں اور ان اداروں کے منتظمین بھی وہیں سے بھیجے جاتے ہیں جن کو یہ مخصوص احکامات جاری کیئے ہوتے ہیں کہ کیمپس کے اندر ترقی پسند سوچ کوکسی بھی صورت پروان چڑھنے نہیں دینا ہے اور طلبہ پر مسلسل دباؤ برقرار رکھنا ہے تاکہ سوچوں پر تالے ہوں اور دوبارہ کوئی ایسی کیفیت نا بنے جس سے بلوچستان کی سیاست ان تعلیمی اداروں سے ڈکٹیٹ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آج بلوچستان یونیورسٹی تعلیمی ادارہ کم اور سیکیورٹی ہیڈ کوارٹر زیادہ لگتا ہے۔ اس ادارے کے انٹرنس سے لیکر ہر ڈیپارٹمنٹ اور ہاسٹل سے اسپورٹس کمپلکس تک تمام ایریا چوکیوں اور رہائشی کمپلکس میں منتقل کر دئیے گئے ہیں جبکہ طلبہ کو اس قدر دبایا گیا ہے کہ ان کیلئے اپنی کلاس لینا بھی عذابِ الٰہی بن چُکا ہے۔ جس وائس چانسلر اور رجسٹرار کی کل تک ہمّت نہیں ہوتی تھی کہ طلبہ کے ساتھ کوئی غلط بات کر سکے آج وہ کسی فوجی جنرل کی طرح کھڑے ہو کر نوجوانوں کے کسی بھی گروپ کو ہتھکڑیاں بھی لگاتا ہے اور ان کی ہر طرح سے تذلیل بھی کر تا ہے۔ یونیورسٹی کی غنڈہ گردی ناصرف طلبہ پر ہر طرح سے آشکار ہو چُکی ہے بلکہ نام نہاد قومی لیڈران بھی ان کی بدمعاشی سے واقف ہیں اور خاموش تماش بین بنے بیٹھے ہیں۔ جبکہ کیمپس میں موجود جو چند طلبہ گروپ ہیں وہ ایک طویل عرصے سے انہی انتظامیہ کی چاپلوسی میں مصروف رہے ہیں اور بلیک میلنگ کر کہ سیٹ حاصل کرنا اور آگے بیچنا، بھتّہ خوری کرنا ، ہاسٹل کے کمرے لیکر اس پر سیاست کرنا ، اچھے نمبر لیکر گولڈ مڈل حاصل کرنا وغیرہ ان کا پیشہ رہا ہے جن سے طلباء کی اکثریت واقف رہی ہے اور وہ ان کو کسی بھی صورت اپنی نمائندہ تسلیم نہیں کرتے مگر جس طرح یہ گروہ خود انتظامیہ کو مضبوط کرنے میں ذمہ دار رہے ہیں آج وہی انتظامیہ ان کو کسی بھی کھاتے میں نا لاتے ہوئے ان کی بلیک میلنگ اور ڈیمانڈ کو ریجیکٹ کر چُکی ہے جس سے ان طلبہ گروپوں نے آپسی اتحاد بنا کر پچھلے دو مہینے سے زائد کےعرصے سے سراپہ احتجاج ہیں مگر کوئی خاطر خواہ رسپانس نہیں مل رہا ہے اور کل ہی جب انہوں نے یونیورسٹی کے اندر احتجاجی ریلی نکالی تو انتظامیہ نے چڑھائی کرتے ہوئے ان کے نمائندگان کو گرفتار کیا ہے اور یقیناًسزائیں بھی ہونگی جوکہ قابل مذمت اور ناقابل برداشت عمل ہے۔ اس واقعہ کی ذمہ داری جتنی وائس چانسلر اور انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے ، طلبا گروپ اتنا ہی اس کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے اپنی ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے ایک طویل عرصے سے باقی طلبہ کے حقوق کو لوٹتے اور لُٹاتے رہے ہیں جس سے ناصرف مجموعی طور پر بلوچ قوم کو نقصان ہوا ہے بلکہ آج ان کی اپنی دکانوں کو بھی آگ لگ چُکی ہے اور طلبہ کا اکثریت ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے کنارہ کشی اختیار کر چُکے ہیں کیونکہ ان کی مسلسل کرتوتوں سے اعتماد کا شدید فقدان پیدا ہو چُکا ہے۔نام نہاد نمائندہ تنظیموں کی کردار کی وجہ سے جہاں دیگر اہم نقصانات ہوئے ہیں وہیں طلباء بھی مایوسی اور بیگانگی کی دلدل میں گِر کر تباہ ہو چُکے ہیں جس سے سماج دھیرے دھیرے بانجھ ہوتا جا رہا ہے۔ نظریاتی جدوجہد ، سائنسی تعلیم اور نئی قیادت کے جنم کی امیدیں معدوم ہو رہیں جوکہ سماج کیلئے عظیم ترین قہر ہے جس سے نئی نسل تاریکیوں میں آنکھیں کھولیں گی جنکا نا حال آسودہ ہوگا اور نا روشن مستقبل کی امید نظر آئیگی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے یہ قابل نفرت عمل جہاں مزاحمت کرنے کا متقاضی ہے وہیں طلباء اتحادکا شدید تقاضہ کرتا ہے جوکہ محض ردعمل کی بناء پر نہیں بلکہ سائنسی بنیادوں پر بننے ۔ ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر تمام طلباء کو آگے بڑھنا ہوگا تاکہ اجتماعی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے اور انتظامیہ کی بدمعاشیوں کابھرپور جواب دیا جا سکے۔ تعلیمی ادارے طلبہ کے حقیقی گھر ہوتے ہیں جہاں وہ زندگی کے سنہرے پل گزارتے ہیں، یہیں سے تربیت لیتے ہیں اور یہیں سے مستقبل کے لئے تیار ہوتے ہیں جو آگے چل کر قوم کے راہنما بنتے ہیں۔ اگر حکمران ہم پر حملے کرکے ہمارے مستقبل کو تباہ کرنے پر بضد ہیں تو ہمارے پاس کھونے کو اور کچھ بھی نہیں رہتا سوائے خوف کی ان مصنوعی دیواروں کو توڑنے اور اپنے مقدر کو اپنے ہاتھ میں لینے کے۔ اسی اثناء میں ہم بالخصوص بلوچستان یونیورسٹی اوربالعموم پورے ملک کے تمام طلباء کو یہ صدا لگاتے ہیں کہ آؤ، تمام تفریقوں کو مٹاتے ہوئے ایک بار پھر متحد ہوں اور طلباء کی کھوئی ہوئی طاقت کو دوبارہ چھین لیں ۔

Views All Time
Views All Time
268
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   جنت سے مشعال شہید کا خط - حیدر جاوید سید
Previous
Next

One commentcomments

  1. سنگت جیئند بلوچ

    بی ایس او کے دوست ظرئف رند آپ کو بخوبی علم ہے اورملک بھر کے باشعور نوجوانوں کو بھی علم ہے کہ بی ایس او نے طلبا سیاست کی تاریخ میں لازوال قربانی دی ہے جب ملک میں داہیں بازو کی سیاست کو لانچ کیا گیا تو بی ایس او سمیت دیگر ملکی ترقی پسند طلبا تنظموں کے لیے عرصہ حیات تنگ کرنا شروع کیا گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: