Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ناک کے نیچے (حاشیے) | زین العابدین

by مئی 20, 2017 حاشیے
ناک کے نیچے (حاشیے) | زین العابدین

ناک کے نیچے – زین العابدین
قرآن اور سنت کے مطابق جیسے ہی اولادیں جوان ہوں ان کی شادی کر دیں تاکہ شیطان ان پر حائل نہ ہوسکے ، اس پر پاکستان کے علاوہ تمام اسلامی  ممالک میں عمل درآمد ہوتا ہے ۔
ایک نیشنل سروے کے مطابق پاکستان میں تقریبا چالیس سال زیادہ عمر کی  12 فیصد عورتیں شادی جیسے فریضے سے محروم ہیں یہ تعداد تقریبا کل تعداد کا پانچواں حصہ ہے ! یعنی ہر پانچ میں سے ایک عورت شادی جیسے فریضے سے محروم ہے۔
پاکستان جو اسلام کا قلعہ کہلاتا ہے اس میں اسلام کے اس قانون کی کوئی اہمیت نہیں کیوں کہ پاکستان میں جو اس چیز کے خلاف جو چیز حائل ہوتی ہے وہ ہے ہماری ناک ۔
جیسے ہی والدین شادی کا سوچتے ہیں یہ فریضہ ایک بلا سے زیادہ خطرناک نظر آتا ہے۔ لڑکے والے تو پہلے سوچتے ہی نہیں اگر سوچ لیے تو پہلے ہی خیال آتا ہے کہ ہم لڑکی کو دیں گئے کیا ؟ ہمارے پاس ہے ہی کیا ؟ بھلا چار لوگوں میں ناک کٹوانی ہے کیا ! خود ہی لڑکا کمائے گا کچھ بنے گا تو کر لیں گئے شادی اور فورا شادی کا خیال ترک ۔
اور اگر لڑکے والے اردہ کر بھی لیں تو لڑکی والے پہلے تو اتنا ٹائم مانگتے کے لڑکے والے خود بھاگ جائیں کیونکہ انہیں جہیز جو بنانا ہوتا ہے۔ اگر جہیز نہیں دیں گے تو چار لوگوں میں تو ناک کٹ جانی ہے کہ بھلا بیٹی کو دیا کیا ہے۔ اور اگر لڑکی والے اپنی غربت کا احساس دلا کر جہیز سے انکار بھی کر دیں تو تب لڑکے والوں کے طعنے شروع بھائی لوگ کیا کہیں گئے ہماری بہو کیا لائی ہے؟
بس انہیں چکروں میں لڑکے کہ بھی اتنی عمر ہو جاتی ہے کہ اسے شادی کرنے سے شرم آتی ہے اور لڑکیاں بیچاری بھی بس دل میں ارمان لیے پھرتی ہیں
ہم لوگوں نے خوامخواہ شادی کو اتنا مشکل بنا دیا ہے اتنی رسومات ، اتنے اخراجات والدین کو تو سوچ کر بھی ڈر لگتا ہے ! یہاں تو ہماری ناک کٹ جانے کا خدشہ ہوتا ہے مگر یقین جانیے پاکستان میں اسقاط حمل اور ایدھی گہوارہ سنٹر میں کیسز بڑھتے ہی جارہے ہیں

Views All Time
Views All Time
178
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: