زندگی ایک سفر اور ٹرین حادثہ

Print Friendly, PDF & Email

وہ26دسمبر 2016کا دن تھا جس سے ایک دن پہلے میں بائیک پر بھائی کے گھر سے اپنے گھر آتے ہوئے راستہ میں کسی چوراہے پر کچھ کھنگری اینٹیں پڑی ہوئی تھیں جوکہ شاید کسی نے جان بوجھ کر اپنے گھر کی دیوار کی نکر کی حفاظت کے لیے زمین میں لگائی ہوئی تھیں۔بدقسمتی سے گلی میں روشنی بہت کم ہونے کی وجہ سے اور میری اپنی جلدی کی وجہ سے میں ان دیوار محافظ اینٹوں کو دیکھ نہ سکا اور سیدھا پاؤں والی سائیڈ سے ان اینٹوں سے جاٹکرایا۔ٹکراتے ہی میری تو جان سی نکل گئی چیخا بھی تھوڑا سا لیکن میری چیخ سن کر کوئی بھی نہیں رکا۔میں نے جلدی سے پاؤں اوپر اٹھایا اور موٹرسائیکل کی سیٹ پر رکھا اور فوری طورپر اپنے گلے سے مفلر(سردیوں والا رومال)نکالا اور فوری طور پر اپنے پاؤں کو لپیٹ کر دباناشروع کیا تاکہ درد کم ہوسکے لیکن درد نے رکنے کا نام ہی کہاں لیااور نہ ہی درد کبھی اس طر ح سے رکتاہے؟اس وقت میری آنکھوں میں لاچار ی اوربے بسی کے آنسو بھی ٹپکے لیکن کوئی بھی شاید یہ نہ پہچان پایا کہ یہ گلی کی نکر پر کھڑاشخص کسی مشکل میں ہے یا اس کو کسی مدد کی ضرورت ہے۔وہاں سے بہت ہی قریب بھائی کا گھر تھا میں کال بھی کرتاتووہ فوری طور پر آجاتے لیکن سچ کہتے ہیں کہ’’ماں کے بغیر کوئی بھی اولاد کے درد کا علاج نہیں کرسکتا‘‘۔اسی لیے میں نے فوری طورپر دکھتے پیرو ں اور ٹپکتے آنسوؤں کے ساتھ بائیک کو سٹارٹ کیا اور سیدھا گھر(ماں کے پاس) آپہنچا۔میں بڑے ہی آرام کے ساتھ تکلیف کو برداشت کرتے ہوئے گھر میں داخل ہوا اور ماں کو اس بات کا احساس نہیں ہونے دیا کہ میرے ساتھ کوئی حادثہ پیش آیاہے۔میں بڑے آرام سے آکر اپنے بستر پر بیٹھا اور پاؤں کو اوپر رکھ کر دیکھنے لگا تو فوری طورپرماں اٹھی اوراس نے دیکھا کہ خون نکل رہاہے پاؤں سے وہ تو جیسے بہت زیادہ ہی مضطرب سی ہوگئی اورفوری طورپر بڑے بھائی کو آوازلگائی اورنہ جانے کہاں سے ڈریسنگ (پٹی)کا سامان بھی آگیااوربھائی نے پٹی کربھی دی اورخون بھی رک گیا۔اس کے بعد تھوڑاسابخار ہوگیاجس کی گولیاں بھی ماں نے دیں اورلیٹ جانے کوکہا۔صبح اٹھاتو میں پھر ڈاکٹر کے پاس گیا اس سے پٹی کروائی اوربخار کی ادویات وغیرہ لے کر گھر آیاوہ ادویات کھانے کی وجہ سے طبیعت کچھ بہتر ہوئی اورپاؤں کادرد بھی کم ہوگیا۔
میں نے آفس سے چھٹی ہوجانے کی وجہ سے دوست کو کال کی کہ آفس سے چھٹی ہو تو گئی ہے لہذا تھوڑاساباہر چل لیتے ہیں ریفریشمنٹ بھی ہوجائے گی اور قدرت کے مناظر کی سیر بھی اس کی پہلے ہی سردی کی چھٹیاں چل رہی تھیں تواس نے فوری طورپرہاں کہاکہ تم تیاری کرووہ آرہاہے۔تو میں اورمیرادوست معین ہم دونوں ٹھیک 3بجے میرے گھر سے آؤٹنگ کے لیے چناب کی اوڑ چل پڑے۔ہم نہر کے خوبصورت وحسین مناظر سے لطف اندوزہوتے ہوئے مین روڈ پر چل پڑے۔

راستے میں مختلف قسم کی باتیں کرتے جارہے تھے تو اچانک معین کی نظر بند (پانی کو روکنے کے لیے بنائی گئی رکاوٹ) پر پڑی تواس نے دیکھا کہ اس کے اندر چوہوں نے سوراخ کیے ہوئے ہیں کیونکہ لاء کاسٹوڈنٹ ہے تو اس پر معین نے کہاکہ بندمیں جو چوہوں کے بل نظر آرہے ہیں یہ خطر ہ کاباعث بن سکتے ہیں لہذا اصولاَ ان بلوں میں بھی چوہے مار ادویات ڈالی جائیں تاکہ کسی بھی وجہ سے بندمیں سوراخ نہ ہواورنہ ہی بند ٹوٹ پائے۔میں نے اس کی ہاں میں ہاں ملاڈالی اورآگے گزر گئے۔ابھی شیرشاہ والافلائی اوورپر چڑھ ہی رہے تھے کہ ہم نے اچانک اسی ٹرین کو الٹی واپس آتے دیکھا جو تب ہمارے پاس سے گزری تھی جب ہم مین روڈ پر گپ شپ کرتے ہوئے چناب کی طر ف جارہے تھے اور ہم دونوں نے ایک دوسرے سے یہ بھی پوچھ ڈالاتھاکہ یہ پاکستان ایکسپریس ہے یاکوئی اور بہرحال۔۔۔ لیکن جب ہم نے اس کو واپس الٹی آتے دیکھاتوہنسنے لگ گئیے کہ شاید یہ شیرشاہ جنکشن سے غلط لائن پر چڑھ گئی تھی اس لیے واپس پلٹ رہی ہے معین نے جلدی سے اپناموبائل نکال کر ٹرین کے واپس پلٹنے کی وڈیو بھی بناڈالی۔لیکن چند ہی لمحات میں ٹرین تھم گئی۔ہم نے آپس میں قیاس آرائیاں شروع کردیں کہ شاید کوئی ایمرجنسی مریض ہوگاجس کواتارنے کے لیے واپس پلٹ کر ٹرین رک گئی ہے۔جب ہم نے دیکھا کہ بہت سارے مسافر نیچے اتررہے ہیں تو ہم نے کہا چلوچل کر ان سے اس ٹرین کانام پوچھتے ہیں تو ہم نے ایک نوجوان مسافر کو مخاطب کر کے ٹرین کانام پوچھا تو پتا چلا کہ یہ خیبر میل ہے اورصادق آباد کراچی تک جائے گی۔

اسی نوجوان سے آپس میں سرگوشی کرتے ہوئے میں نے پوچھ لیا کہ یہ رک کیوں گئی ہے؟ تواس نے کہا کہ ٹرین سے کوئی مسافر گرگیا ہے اسی لیے رک گئی ہے۔اسی نوجوان نے ہم سے یہ کہاکہ آپ پیچھے جاکر دیکھ لو۔ ہم وہاں سے ٹرین کے آخری ڈبے کے پاس پہنچے تودیکھا کہ اس ڈبے سے کچھ ہی فاصلے پر لوگوں کاجم غفیر کھڑاہے اور لوگ کاروں،موٹرسائیکلوں اورگاڑیوں وغیرہ سڑک پر روک کراسی جم غفیر کاحصہ بن رہے ہیں تو معین نے بھی اپنی بائیک ٹرین کی پٹڑی کے ساتھ کچے راستے پر اتاری اور ہم دونوں بھی اسی جم غفیر کی جانب بڑھ گئے۔کیونکہ میرے پاؤں پر چوٹ تازی تھی تومیں نے معین کو کہاکہ آہستہ چلاؤ اورمٹی نہ اچھالو ابھی ڈاکٹر نے پاوٗ ں پر پانی ڈالنے سے منع کیا ہے بہرحال معین بڑے احتیاط کے ساتھ بائیک کو اس جم غفیرکے پاس لے گیا اب تیزی سے اترکی اس جم غفیر کی جانب بڑھنے لگاتومیں نے کہاآہستہ چل میراپاؤں درد ہورہاہے مجھ سے اتنی جلدی سے نہیں چلاجاسکناتواس نے پٹڑی پر اوپرچڑھتے ہوئے پوچھ بھی لیاکہ مدد کروں یاآجاوٗ گے اوپر تو میں نے اپنے اردگرد لوگ دیکھتے ہوئے کہا کہ نہیں میں آجاتاہوں وہ تیزی سے جم غفیر میں جاملااورمیں بھی آہستہ آہستہ وہاں جاپہنچا۔جب میں نے ٹرین کی پٹڑی کے درمیان بہت زیادہ خون دیکھاتومجھے لگاکہ شاید کوئی بہت زیادہ زخمی ہوگیاہے یااللہ خیر۔

میرے لیے ممکن نہیں کہ میں کس طر ح سے اس منظر کو قارائین کی زیرسماعت کروں لیکن کہتے ہیں کہ شاید اس طرح کے مناظر کسی کے لیے بھی زندگی بدلنے اور عاجزی و انکساری کی طر ف لوٹ آنے کا موجب بن سکتے ہیں۔جب میں بھی قریب پہنچا تو دیکھ کر حیران و پریشان ہی رہ گیاکہ ایک نوجوان آدمی جو لگ بھگ تقریباََ35یا 40سال کا لگتاہو گا یا اُ س سے بھی کم کا ہو سکتا ہے۔دوحصوں میں تقسیم ہوا پڑات ھا جس کا دھڑ اور ٹانگوں والا حصہ الگ ہوا پڑاتھا۔ یکدم مجھ پر جیسے سکتہ سا طاری ہوگیاہو۔پھر میں نے خود کوسنبھالتے ہوئے اپنے آپ کو اس بھیڑ سے الگ کیا اور معین کو آواز دی کے چلیں۔معین ریلوے پولیس کے سپاہی کے ساتھ اس کا شناختی کارڈ پڑھ رہا تھاجس پر اس نوجوان کے دوایڈریسز لکھے ہوئے تھے جو سب سے قریبی تھا وہ شیرشاہ کے قریب ہی کسی بستی علی والا کا ایڈریس تھا۔اس کے بعد ریلوے پولیس کا سپاہی ریسکیو کا نمبر ملا رہاتھا جوکہ مسلسل مصروف جارہاتھا۔وہاں پر بہت سارے لوگ جو گاڑیاں کھڑی کر کے آرہے تھے ان کو میں کانوں کو ہاتھ لگاتے اور ہاتھ جوڑکر استغفراللہ کرتے دیکھا اکثریت ہی اللہ سے اپنے گناہوں کو یاد کرکے توبہ کررہے تھے ہاں میں اور معین بھی ان توبہ کرنے والوں میں شامل تھے۔اس کے علاوہ جو دوسرا منظر تھا وہ یہ تھا کہ اس جم غفیر سے کچھ ہی دور بہت سارے کوے اکٹھے ہوئے بیٹھے تھے جسیے ان کو انسانی گوشت کی بدبو نے اپنی طر ف مدعوکیاہو لیکن وہ صرف بہت سار ے زندہ انسانوں کے وہاں پر موجود ہونے کے وجہ سے اس لاش سے دورتھے۔اس دوران مجھے میری تکلیف (پاؤں والی چوٹ)بھول گئی اور وہاں سے ہم ایسے اترے ہوئے چہرے اور کلیجہ منہ کوآنے والے اندازسے وہاں سے چل پڑے۔

ہم پھر تھوڑٰی دیر بعد دریائے چناب پر پہنچ گئے دریا کے کنارے جاکر پہلے توسوچاکہ تصویریں بنائیں گے لیکن دل نے ساتھ نہ دیا اورنہ ہی چہروں پر وہ مسکراہٹ لاپائے جو تصویریں بنانے کے لیے لائی جاتی ہے۔ہم وہاں کچھ دیر کے لیے کھڑے رہے اوراس واقعہ سے خود کو نکالنے کے لیے پھر وہی پرانی گپ شپ شروع کرنی شروع کی لیکن کوئی خاص مزہ نہ آیا تھوڑی دیر وہاں گزارنے کے بعد ہم نے مچھلی کھانے کے لیے چل پڑے وہاں ہم نے کچھ مچھلی کاآرڈردے تو دیا لیکن جب وہ مچھلی ہمارے سامنے آئی تو پتہ چلا کے مچھلی والے نے مچھلی کی صفائی ٹھیک سے نہیں کی اس کاسر والی ہڈی اوردمچی ساتھ ہی تل کربھجوادی۔مچھلی کے آتے ہی ہم نے دیکھ کر لانے والے کو کہاکہ یہ صحیح نہیں بنی ہوئی تواس نے کہا کہ یہ ٹھیک بنی ہوئی ہے یہ ایسے ہی بنتی ہے کسی سے مرضی پوچھ لیں تب تو ہم چپ کرگئے لیکن جیسے ہی کھاناشروع کی توہم سے کھائی نہ گئی اورہم نے وہ ساری مچھلی کتوں کے آگے پھینک دی اوروہاں سے شکستہ ذہن کے ساتھ چل پڑے۔ذہن شکستہ اس مچھلی والے کی باتیں سن کرہواجس نے بیس روپے توصرف دو عدد روٹی کے لگاڈالے اورہماری بحث وتکرارکے باوجود اس نے خود کو سچاثابت رکھا۔خیر جیسے تیسے ہم وہاں سے جان چھڑواکر واپسی کے لیے چل پڑے۔

یہاں پر میں نے تینوں ہی مختلف قسم کے واقعات ذکر کیے ہیں لیکن ان تینوں واقعات کاتعلق ہماری زندگی سے جڑاہے۔ ہم اپنی تکلیف کے لیے بہت زیادہ تگ ودوکرتے ہیں تاکہ کسی بھی طریقے سے آرام آجائے لیکن ہمیں لوگوں کی تکالیف اتنی محسوس نہیں ہوتیں جتنی ہم اپنی تکالیف کو محسوس کررہے ہوتے ہیں۔کیوں نہ کچھ اس قسم کا ماحول ہو جیساکہ جسم کے کسی بھی اعضاء پر چوٹ لگے تو پورے جسم میں تکلیف ہوتی ہے یہ توعام مشاہد ے کی بات ہے کہ چوٹ لگی اوربخارہوا؟اسی طرح اگرانسانیت کوبھی ایک جسم کی مانند سمجھاجائے کسی بھی انسان کے دکھ کو اپنادکھ درد سمجھاجائے توہمارا یہی معاشرہ بہت زیادہ ترقی اورسکونِ قلب کا باعث بن سکتاہے۔انسانیت کے دکھ درد کوسمجھنے کے بہت سارے فائدوں میں سے ایک یہ بھی ہوگا کہ یہ جوآئے روز خودکشیاں ہورہی ہیں ان کو کم کیاجاسکے گا۔اگر یہ کام حکومتی لیول پر ہوجائے توسونے پہ سہاگہ والی بات ہے لیکن اگر حکومت اس کام کی طرف متوجہ نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ آنے والے الیکشنز کے لیے اپنے مہرے مضبوط کرنے پر لگی ہوگی تو ہم خود اپنے ساتھی مسافر حضرا ت سے تعاون کرسکتے ہیں۔کم ازکم ایک صوبہ،ایک شہر،ایک قصبہ یا حتی ٰ کے ایک گاؤں کے لوگ بھی اپنے اندر انسانیت والا جذبہ رکھناشروع کردیں توہمارے معاشر ے میں کوئی بھی مشکل میں نہیں ہوگااورتمام مسافروں کاسفر بڑے ہی مزہ سے کٹ جائے گا اوراسی گاؤں سے متاثر ہوکرآہستہ آہستہ پوراملک اس جیسابن سکتاہے۔ پھر ہمارے معاشرے کے اندر ایسے انسان بھی موجود ہیں جواپناپیٹ پالنے کی خاطر دوسروں کاپیٹ خراب کرتے ہیں اورپھر اس کے بعد اپنی غلطی بھی تسلیم نہیں کرتے شاید یہ وہ لوگ ہیں جو جنازے دیکھ کران کی مغفرت اوراپنے لیے توبہ واستغفار توکرتے ہیں لیکن وہ خالی لوگوں کے رکھ رکھاؤ کے لیے ہوتاہے ان کوشاید اللہ کی پہچان نہیں ہے بس ان کو اتناپتاہوتاہے کہ اللہ دیکھ رہاہے ہمیں اللہ نے کتنادیاہے جوہم ایمانداری سے جیے۔حتی ٰ کہ وہ گناہ کوگناہ تک نہیں سمجھتے پتہ نہیں ان کی پرورش کیسے کی جاتی ہے ویسے وہ بڑے نرم دل اورسمجھدارمحسوس ہوتے ہیں لیکن جب ان کے کاموں کو دیکھ کر جب کوئی ان سے یہ کہہ دیتاہے کہ میاں یہ غلط کام ہے گناہ ہوگا نہ کرو تواسکاآگے سے یہ کہناہوتاہے کہ آپ بس خاموش رہومیں تویہ کام کر کے رہوں گا۔2016بھی باقی گزرے سالوں کی طرح ہماری زندگی کے ایک اورسال کومزیدکم کرکے جارہاہے گزرے سالوں کی طرح ہم اس سال میں بھی وہ کچھ نہ کرسکے جوہمیں کرناچاہیے تھا۔یہ سال ہمارے لیے بہت بڑی نعمت اورغنیمت تھالیکن ہم نے صرف اپنی حرص ولالچ کے لیے خوب محنت کی ہوگی البتہ ہم نے ایساکچھ نہیں کیاہوگاجسکا فائدہ صرف ہم کو نہ ہواہوبلکہ پورے مسافر ہمارے کام سے مستفید ہوئے ہوں۔کیوں نہ ہم نئے سال کاسورج طلوع ہونے سے پہلے اس بات کوسمجھ لیں کہ زندگی ایک سفرہے اورہم تمام مسافرہیں اورہم کس سفرپرنکلے ہوئے ہیں؟ہماری منزل کہاں ہے اورہم کہاں کی تیاری کررہے ہیں تو ایک ایسامعاشرہ بن جائے گاجہاں پر ہرانسان دوسرے انسان کی قدرکرتا ہوا نظرآئے گا۔

Views All Time
Views All Time
162
Views Today
Views Today
3
یہ بھی پڑھئے:   ایک لڑکی - زرمینہ سحر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: