Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پرائیویٹ ملازمت والے نوجوانوں کی آہ – ضیغم عباس

by دسمبر 14, 2016 بلاگ
پرائیویٹ ملازمت والے نوجوانوں کی آہ – ضیغم عباس
Print Friendly, PDF & Email

کہتے ہیں کہ ہر ملک کی حکومت اپنے ملک کے ہونہار نوجوانوں کو ترقی کی طرف لے کرجانے میں بھرپور مواقع فراہم کرتی ہے۔اس کے علاوہ بہت سارے ممالک ایسے بھی ہیں جہاں پر بچے کے پیدا ہونے سے لے کر اس کے پروفیشنل ہونے تک کی منصوبہ بندی حکومت کرتی ہے۔یہاں پر یہ کہنا بے جانہیں ہوگا کہ بچے کے ماں باپ سے زیادہ فکر وہاں کی سرکار کو ہوتی ہے کہ اگر ہم نے اس نئے پیدا ہونے والے بچے کے لیے مناسب انتظامات نہ کیے تو یہی بچہ کل کو حکومت پر بوجھ بنے گا۔دوسرا یہ کہ سرکار بچے کے بارے میں اس لیے بھی فکر مند ہوتی ہے کہ کل کو یہی بچہ اپنے دماغ کا اوران تکنیکوں کااستعمال جو سرکار نے بچے کو سکھاڈالی تھیں کا بھرپوراستعمال کرکے سرکار کودرپیش مشکلات سے نکالے گا بھی اورسرکارپر بوجھ بننے کی بجائے الٹا سرکار کے لیے سرمایہ اکٹھابھی کرے گا۔اس طرح سے پورے ملک سے نوجوانوں سے جڑی اس طرح کی چین ان کے معاشرے اورنوجوانوں کو پسماندہ ممالک کے نوجوانوں کے لیے ایک نصیحت آمیزچیزبھی ہے۔

اب بات کرتے ہیں پاکستان ہمارے پیارے دیس کی اور ہمارے پیارے دیس کی حکومت کی جو اپنی پوری طاقت کے ساتھ پاکستان کو جدید دنیا کی صف میں لا کھڑا کرنے کے لیے پھڑپھڑاتی ہوئی نظر آرہی ہے۔یہ حکومت پتہ نہیں کس کس طرح کے سہانے خواب نوجوانوں کو دکھا رہی ہے۔میرا نہیں خیال کہ کسی بھی حکومت میں کام کرنے والے عہدیداران اپنے اندرانسانیت جیسے سچے جذبے سے ہاتھ دھوبیٹھے ہوں۔یہ الگ بات ہے کہ مجبوری کسی بھی افسر سے کچھ بھی کرواسکتی ہے لیکن اس مجبوری کی بھی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔جو کام جو کرے گا وہ اس کا پوراپورا ازالہ کرے گا۔لیکن بدقسمتی سے ابھی تک سرکار کے کاموں میں اگر قصورسرکاری آدمی کا ہی ہو لیکن ہمیشہ قصوروار وہی بنے گا جو مظلوم ہوگا۔ میں نے ابھی پوری دنیا نہیں گھومی لیکن پھر بھی یقین سے کہی سکتاہوں کہ جتنے خراب ہمارے سرکاری ادارے ہیں شاید ہی دنیا میں کسی اورملک کے ہوں۔یہی وہ ادارے ہیں جو ہزاروں نوجوانوں کو نوکری کے لیے انٹرویویاٹیسٹ کے لیے بلاتے ہیں لیکن پتا پھر کچھ اس طرح چلتاہے جب ہزاروں نوجوانوں میں سے صرف پرچی والے نوجوانوں کوترجیح دے دی جاتی ہے۔اس بات میں توراقرم الحروف کا کافی تجربہ ہے۔

گورنمنٹ کی ملازمت تونوجوانوں کو پرچی نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ملتی پھر بچارے اپنے آپ کو پرائیویٹ کمپنیزکے ہاتھوں بیچ دیتے ہیں ۔اب جو پرائیوئیٹ کمپنیز پوری دنیا میں مشہور ہوچکی ہیں وہاں بھی نوجوانوں کی تعلیم اور تجربہ نہیں دیکھا جاتابلکہ وہاں پر بھی گارنٹر اور پرچی سسٹم متعارف ہوچکاہے۔رہی بات چھوٹی موٹی پرائیویٹ کمپنیز کی جن کاصرف ایک واحد سیٹھ یا مالک ہوتاہے وہاں پر نوکری تو بڑی آسانی سے ملنے کی امید ہوتی ہے لیکن وہاں نوکری کرنے کا مقصد یہ ہوتاہے کہ آپ اس سیٹھ کے زر خرید غلام بن جاتے ہو۔وہ سیٹھ جب بھی دل کرے آپ کو گھر سے آفس بلاسکتاہے وہ سیٹھ بغیر کسی اضافی بونس کے رات کو گیارہ بجے تک بھی آفس بٹھائے توبیٹھناپڑتاہے ۔مزے کی بات یہاں پر کسی بھی قسم کے اوورٹائم پے منٹ کاتصورنہیں ہوتا چاہے آپ کتنا بھی زیادہ وقت آفس میں لگا لوبے شک دن رات ایک کر لو اور نہ ہی وہاں پر حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ بلکہ ان چھوٹی کمپنیوں کے مالک ایکسٹرااوورپروفیشنل ہونے کا مظاہرہ کرتے ہیں جس طرح پوری دنیاکے کاروباری حضرات پاگل ہوں اور وہ سمجھدارہوں۔بس وہ صرف اپنا رعب جماتے ہیں تاکہ کوئی ان کے آگے سر نہ اٹھائے۔

یہ بات تو تھی چھوٹی کمپنی کے چھوٹے مالکوں کی غیرضروری پروفیشنل ہونے کی۔اب بات کرتے ہیں ان غیرضروری پروفیشنل مالکوں کی جو اپنے پاس کام کرنے والوں کی ضروریات کاخیال رکھتے ہیں۔سب سے پہلے توبات کرتے ہیں چھٹیوں کی مہینہ میں کوئی ایک چھٹی بھی نہیں ہوتی اتوار کو جب وہ فارغ ہوتے ہیں تو ملازم کو اس وجہ سے آفس بلوالیتے ہیں کہ آج وہ فارغ ہیں چلیں کام کرلیتے ہیں۔اس کے علاوہ سال میں جتنی بھی سرکاری چھٹیاں ہوتی ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے ملازم زیادہ محنتی اور بہت تیزی سے بڑھتے ہوئے کاروبار کاحصہ ہیں اگر اس نے سرکاری چھٹی دے دی تو اس کو کروڑوں روپے کانقصان ہوجائے گااس لیے وہ یہ بھی نہیں سوچتا کہ راستے بند ہوں گے یا کھلے ہوں گے بلکہ وہ یہی سوچتا ہے کہ بس میرے ملازموں نے آفس آنا ہے ہر صورت تاکہ اس کے کاروبار میں کروڑوں کانقصان نہ آئے۔اور راقم یہ بات دعویٰ کے ساتھ کہتا ہے کہ اس چھوٹے کاروبار کے مالک کو کسی ملازم کے آفس نہ آنے سے سینکڑوں کانقصان بھی نہیں ہوتا۔بس نقصان ہوتا ہے تو اس مالک کو احساس کمتری کا کہ میرا آفس تو دنیا کے مشہور آفسز میں سے ایک ہے جہاں پر دن رات محنت کی جاتی ہےاور اس کا کاروبار دن دگنی رات چگنی ترقی کررہاہے۔یہ سب اس غیرضروری پروفیشنل انسان کی گندی سوچ ہوتی ہے نہ تو اس کاآفس اتنامشہورہوتاہے اور نہ ہی اتنی ترقی کر رہا ہوتا ہے بلکہ کہیں نہ کہیں وہ کرپشن کاگڑھ بنا ہوتاہے ۔رہی بات ملازموں کی طبی سہولیات کی تو اس کا موقف یہ ہوتا ہے کہ میں نے ان کا ٹھیکہ نہیں لیا ہوا یہ تنخواہ لیتے ہیں مجھ سے تنخواہ میں سے دوائی بھی لیں۔ رہی بات تنخواہ کی تو وہ اتنی زیادہ دی جاتی ہے کہ بیچارہ ملازم اس سے ایک ماہ کا خرچ بھی پورا نہیں کرپاتا اور ماہ سے پہلے دوستوں سے قرض لے کر اگلی تنخواہ تک گزارہ کرتاہے۔اس کے علاوہ عیدین پر بھی کسی قسم کا بونس نہیں دیا جاتا بلکہ عیدین پر بھی ایمرجنسی ڈیوٹی لگا کر ملازموں کو آفس بلا لیا جاتاہے تاکہ دنیا کو اس بات کا پتا چلے کہ یہ وہ آفس ہے جہاں پراتنی زیادہ غیر ضروری محنت ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کے ملازموں کو عید والے دن بھی چھٹی نہیں دی جاتی۔عموماَ یہ بہت زیادہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسے غیر ضروری پروفیشنل مالکوں کے پاس کرنے والے ملازم ہمیشہ قرض دہندہ ہی بنے ہوتے ہیں کبھی بھی راقم نے اس طرح کے ملازموں کو دل سے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا بس وہ ہمیشہ ہی ہلکی پھلکی پھیکی سی مسکراہٹ دیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ دوستوں سے ہمیشہ دور ہی رہیں تاکہ کسی بھی جگہ ان کو شرمندگی کا باعث نہ بننا پڑے ۔

پاکستان میں لیبر پالیسی بنی ہوئی ہے جہاں پر نوجوانوں کے تحفظ اور پرائیویٹ ملازموں کی حوصلہ افزائی کے لیے بہت سارے اچھے اور عمدہ قوانین موجود ہیں ۔لیکن ایسے قوانین ان غیر ضروری پروفیشنل مالکوں کے آفس میں کام کرنے والے ملازموں پرلاگونہیں کیا جاتا۔ایسے غیر ضروری پروفیشنل مالک گورنمنٹ کے اداروں کو لاکھوں روپے رشوت کے عوض تو دے دیتے ہیں تاکہ وہ ان کے دفاتر کااستحصال نہ کریں۔لیکن اپنے ملازموں کو نہیں دیتے کہیں وہ خوشحال نہ ہوجائیں۔آخر میں میری حکومت سے گزارش ہے کہ اگر یہ چھوٹے پرائیویٹ اداروں میں کام کرنے والے لوگوں کے مسائل کے لیے ایک الگ سیل بنا دیا جائے تو کیا  ہی بات ہے کیونکہ یہ پرائیویٹ ادارے اپنے ملازموں کو اولڈایج بینیفٹ اور سوشل سکیورٹی جیسی دو واحد سہولتوں سے بھی مبرا رکھتے ہیں ۔ان غیر ضروری پروفیشنل مالکوں کے لیے کتاب بھی لکھ دی جائے تو بہت کم ہے لیکن اتنا سالکھ دیا تاکہ قارئین کی دلچسپی دیکھ کر مزید بعد میں لکھا جائے۔

Views All Time
Views All Time
395
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کچرا بابا
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: