Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پاکستان میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی پر قابو کیسے پایا جائے | زیدی ایس مریم

by مئی 18, 2017 بلاگ
پاکستان میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی پر قابو کیسے پایا جائے | زیدی ایس مریم

اس شدت پسندی کا سوچ کر شدت سے احساس ہوا کہ اتنی ہی شدت سے اس کی روک تھام کی ضرورت بھی ہے ۔
سمجھ نہیں آیا کہ جب ملک چھوڑا تھا ،اس وقت سب ایک پلیٹ میں کھاتے تھےکسی کی دال ختم تو کوئی بریانی کی خوشبو پر آ کھڑا ہوا ،کسی نے زردہ کی فرمائش کی ،محلے میں کسی کو کچھ اچانک ہو جائے تو سب جمع ہو جاتے ، بیٹیوں کی شادی سب سے پوچھ کر رکھی جاتی ۔کوئی حساب نہ کتاب ۔ کوئی شیعہ نہ کوئی سنی ۔ ۔میری سکولنگ کرسچین اسکول میں ہوئی ۔ پہلا استاد ہندو تھا ۔پڑوس اکثریت سنی ۔دادی زیارات پر گئیں تو سنی دوست ساتھ ہو لیں کہ ہم بھی کریں گے ۔
پردیس میں روز صبح ٹی وی کھولتی تو سمجھ نہ آتی یہ کون سے ملک کی بات ہے ،جب ملک چھوڑا تو ایسا نہ تھا ۔ٹی وی ڈراموں میں دوسری عورت کے علاوہ کوئی موضوع نہیں ۔ مورننگ شوز کس طبقہ کے لئے ہیں وہ آج تک decide ہی نہ ہو پایا ۔بچوں کے لیے بڑوں کے ڈرامے ۔تفریح کس بلا کا نام ۔ٹی ؤی پر صبح صبح جوان لاشہ یا عریاں بدن ۔ پورا دن آنسوں میں نکل جاتا ۔۔اس پر APS کے بعد واحد علاج یہ کہ ٹی وی دیکھنا ہی چھوڑ دیا۔
یہاں پردیس میں کوئی غیر نہیں ہوتا ۔پڑوسی عربی ، ہندو ، بنگالی ،افریقی ، مصری ملے ۔بس کوئی پاکستانی پڑوسی مل جائے۔ مجال ہے کسی پاکستانی کو یہاں کوئی مسئلہ ہو دسویں محرم کی نیاز میں خاص طور پر سنی دوست پہلے ہی فون کر دییتں کہ ہمارا حصہ رکھنا اور وہ شب برات میں میرا حصہ رکھا کرتیں۔
ایسے ہی ایک پڑوسن تازہ شفٹ ہوئیں ۔ پہلے ہی دن آئیں ،دو چھوٹے بچے ساتھ تھے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ چلو اپنی ہیں مگر باتوں باتوں میں بولیں ۔ انسان کتے کا کھا لے مگر شیعہ کا نہیں ۔ میں نے خاموشی سے مسکرا کر بات پلٹ دی ۔ وہ روز شام میرے ہاں آتیں ،اور رات گئے جاتیں ۔پھر دو تین روز نہ آئیں ۔ مجھے فکر ہوئی ۔ دروازہ کھٹکھٹایا تو بازوؤں پر نیل اور بچے بیسن کے پکوڑے کھا رہے تھے ۔نہ تو رمضان تھا اور نہ پکوڑے کھانے کا ٹائم ۔۔!پوچھنے پر پتا چلا کہ گھر میں کچھ کھانے کو نہیں ۔ مجھے خود سے شرمندگی ہوئی اور اس سے معافی مانگی ۔ہم ماؤں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔ممتا سانجھی ہوتی ہے ،اس لئے شاید درد زیادہ تھا ۔ بس اتنا معلوم ہے کہ جب وہ واپس وطن جا رہی تھی تو میرے گلے لگ کر بہت روئی اور بولی "میں اپنے بچوں کو کبھی وہ نہیں سکھاؤں گی جو مجھے سکھایا گیا "۔
بحیثیت قوم ہم ہنسنا بھول گئے ، سوائے جب دوسروں کا مذاق ہو ، دل شکنی ہو ۔ معافی کیا ہوتی ہے کیا معلوم ، اگر وہ میرے فرقہ کا نہیں تو بس کافر اور تمام ۔ مارو اور حور حا صل کرو ۔
مسلۂ مشکل نہیں ۔صرف ایک ہی حل ہے لوگو کہ خدا بننا چھوڑ دو ۔ خود کو نعوذ با اللہ پیغمبر سمجھ کر جنت و دوزخ کا فیصلہ مت کرو۔روز جزا کو روز جزا پر رہنے دو ۔ لوگوں کے منکر و نکیر نہ بنو ۔
مذہب کو مدام بیچتے ہیں یہ لوگ
ایمان تو یہ عام بیچتے ہیں یہ لوگ
جنت کے اجارہ دار بن کر یہ لوگ
الللہ کا نام بیچتے ہیں یہ لوگ
احمد فراز

Views All Time
Views All Time
238
Views Today
Views Today
3
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: