رات کے سائے اور دن کے اجالے | زہرا تنویر

Print Friendly, PDF & Email

شام کے سائے جوں جوں پھیلتے جا رہے تھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے زندگی کا باب اب بس ختم ہونے کو ہے۔ لیکن یہ سلسلہ تو ازل سے ابد تک جاری و ساری رہے گا۔ پھر نجانے کیوں ہر شام کا آغاز زندگی کا اختتام سا لگتا ہے۔رات کے اندھیرے تاروں کی ٹمٹماہت میں بھی ویران سے دکھائی دیتے ہیں۔ اور ہم جیسے غافل لوگ اس تاریکی میں ڈوب جاتے ہیں۔ تاریکی کے بادل غائب ہوتے ہیں تو دن کے اجالے اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ ہر سو روشنیاں بکھیرنے لگتے ہیں۔ دن کی روشنی ہونے کے باوجود بھی پھر وہی اندھیر نگری ہوتی ہے۔ اور ہم جیسے کاہل الوجود لوگ ہوتے ہیں۔ جو شام کے سائے کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا بنا کر زندگی بسر کر دیتے ہیں۔ دن کے اجالوں میں رہ کر ان کی کرنوں سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ ان اجالوں کی روشنائی سے نہ خود فیض یاب ہوتے ہیں اور نہ دوسروں کو ہونے دیتے ہیں۔ زندگی کس ڈگر پر چل رہی ہے اور کس جانب جا رہی ہے کبھی دھیان ہی نہیں دیا۔ نہ کبھی سوچنے کی ضرورت محسوس کی ہے ۔ کہ یہ ہماری زندگی میں رات کی تاریکی کے سائے کیوں منڈلا رہے ہیں۔ آخر کب تک یوں ہی ہم گمراہی کے اندھیروں میں ڈوبے رہیں گے؟ کیا رات کی تاریکی ہی ہماری زندگی کا حصہ ہے؟ ہمارا دن کے اجالوں سے کوئی سروکار نہیں ہے؟ وہ دن جو سورج کی کرنوں سے اپنے پورے عروج سے طلوع ہوتا ہے اس دن کو ہم اپنی کاہلی کی نذر کر کے بے مول کر دیتے ہیں۔

جو لوگ صاحب شعور اور صاحب عقل ہوتے ہیں وہ ہمیشہ سورج کے نکلنے سے پہلے جاگ جاتے ہیں اور زمین پر پڑنے والی کرن کو دیکھ کر اپنے سنہری دن کا آغاز کرتے ہیں۔ اور اس پاک ذات کا شکر بجا لاتے ہیں جس نے رات کی تاریکی کو دن کے اجالے میں بدلا۔ اور جو لوگ غفلت کی نیند سے بیدار نہیں ہوتے وہ ہمیشہ اسی تاریکی میں رہ جاتے ہیں جس کی نہ کوئی صبح ہوتی ہے اور نہ کوئی رات ہوتی ہے۔ کیونکہ رات کے لطف سے بھی وہی آشنا ہوتے ہیں جو دن کی روشنی کو دیکھتے ہیں۔

زندگی بہت مختصر ہے۔ اگر ہم یوں ہی سوئے رہے تو کچھ حاصل نہیں ہو گا ۔ صرف پچھتاوے اور پشیمانیاں ہی مقدر بن جائیں گی۔ بہتر ہے خود کو جگائیں اور دن کی روشنیوں سے دوستی کریں پھر دیکھیں آپ کے سب وہ گلے شکوے دور ہو جائیں گے جو اکثر آپ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ سکون نہیں مل رہا۔ بے چینی اور عجیب سا خوف جو ہمہ وقت ساتھ رہتا ہے۔ رزق کی کمی۔ اور روزمرہ کی بے شمار پریشانیاں جو آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ جیسے ہی آپ صبح کی کرنوں کا استقبال کریں گے سب مسئلے حل ہو جائیں گے۔

Views All Time
Views All Time
506
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   "جستجو‘ علم‘ زندگی اور اقرار کا سرمدی نغمہ" | حیدر جاوید سید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: