تھر کی یاد میں

Print Friendly, PDF & Email

زمین بنجر ہو، ہری بھری ہو، صحرا کی ہو، چولستان کی ہو یا پھر تھر کی۔ تروتازہ تب ہی ہوتی ہے جب اس کو سیراب کیا جاتا ہے۔ کچھ زمینیں تو قدرت کی طرف سے ہی ہریالی سے لہلہاتی ہیں اور کچھ پیدا ہی بنجر ہوتی ہیں۔ روتی سسکتی آہیں بھرتی ہوئی، بےآباد اور ویران سی۔ جیسے ان کا کوئی ہمدرد اور غم آشنا نہ ہو۔

زمین ہو یا پھر انسان آبیاری کے بغیر مرجھا جاتے ہیں۔ زندگی کی سانسوں کے لیے سیرابی بہت ضروری ہوتی ہے۔ بھوک اور پیاس انسان کی بنیادی ضروریات میں سب سے اہم ہیں۔ ان کی طلب تب ہی ختم ہو گی جب یہ سانس کی ڈوری ٹوٹے گی۔ جب تک سانسوں کی ڈور ہے بھوک بھی لگے گی اور پیاس بھی۔
اور اگر بھوک اور پیاس تھر کی ہو اور اس پہ بسنے والوں کی۔ تو نجانے کب ختم ہو گی۔ کیونکہ تھر تو خود صدیوں سے پیاسا ہے۔ وہ آج تک خود کی پیاس ٹھیک سے نہیں بجھا سکا خود پر بسنے والوں کی کیا بجھا پائے گا۔ پیاس تو پیاس ہے آب جتنا بھی میسر کیوں نہ ہو پیاس بجھانے میں ناکام رہتا ہے۔ اور جن کی پیاس کے لئے صرف دعوے اور اعلان کیے جائیں عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہوں تو وہ انسان پھر سسکیوں اور آہوں کی زندگی سے منہ موڑ کر موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔ اگر کسی ریاست کے ایک حصے میں اس کی عوام کے کچھ لوگ بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں تو کیا ہوا؟ مرنے والے تو قحط سالی کا شکار ہوئے۔ ان کو کسی نے مارا تھوڑی ہے جو ریاست کے قانون ساز ادارے کوئی ایکشن لیں گے۔ ان کو کسی نے اپنے ہاتھوں سے تھوڑی مارا ہے یا پھر کوئی ان کا قتل کروا رہا ہے جو ان کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ بھلا جب انسانی جانیں مردہ ضمیر کی وجہ سے ضائع ہو رہی ہوں۔ تو کون پوچھتا ہے؟ ضمیر اگر زندہ نہ ہو تو پھر یوں ہی بھوک اور افلاس سے زندگی تھک ہار کر سو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   کیا واقعی 2025 تک پاکستان میں پانی کا خاتمہ ہو جائے گا؟

قحط سالی سے بجھی ویران حسرت زدہ نگاہیں یہی سوال کرتی ہیں کہ ہمارا اس ریاست میں جو حق بنتا ہے وہ اگر مل جاتا تو ہم بھی خوشحال ہوتے۔ یوں قحط میں گھٹ گھٹ کر نہ جیتے۔ موت تو برحق ہے لیکن اس طرح تشنہ لبی کی موت تو نہ مرتے ہم عام سے انسان ہیں کون سا ولی اور فرشتہ صفت لوگ ہیں جو اتنی تنگ دستی برداشت کر سکتے ہیں۔ کاش ہمارے لئے جو دعوے اور امدادی سامان کا اعلان کیا جاتا ہے وہ ہی مل جایا کرے تو کچھ ڈوبتی کشتی کو سہارا ملے۔ یہ جو دعوے کرتے ہیں ہم یہ کریں گے وہ کریں گے ان کے دعوے سے سسکتی سانسوں کو کچھ سہارا ملتا ہے۔ نگاہیں اس راہ کو تکتی تکتی بند ہو جاتی ہیں۔
ان شکستہ حال لوگوں کی ساتھی زمین کا حوصلہ ہے جو خود تو بنجر ہے ہی ، خود پہ بسنے والوں کی آہ و بکا بھی سہتی ہے اور اپنی آغوش میں ان کو ہمیشہ کے لیے سلاتی بھی ہے۔

آج تھر کے واسیوں کے بجائے تھر کی زمین خود شکوہ کناں ہے ان صاحب اقتدار سے جو دعوے تو کرتے ہیں زبانی کلامی لیکن عملی طور پر کوئی اقدام نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھئے:   بیادِ سید سلمان ندوی

کیا یہ نہیں جانتے بھوک اور پیاس کی موت کیسی ہوتی ہے؟ جب کوئی ماں اپنے بچے کو پیاسا مرتے دیکھتی ہے تو میں اس کا درد خود میں سمو لیتی ہوں۔
مجھ پہ بسنے والے بھی مردہ اور میرے اندر بھی مردہ بستے ہیں۔ خوشحالی کیا ہوتی ہے ہم بانجھ کیا جانیں۔

میرا سوال ہے ان لوگوں سے جو انسانیت کے علم بردار بنے پھرتے ہیں بہت نام کماتے ہیں تھر کے نام پہ ۔ کیا کبھی اس درد کو محسوس کیا ہے جو اس سرزمین کو دن بدن بنجر کر رہا ہے۔ میں تو خود صدیوں کی پیاسی زمین ہوں میں بھلا ان معصوم لوگوں کی پیاس کیسے بجھاؤں گی۔ اپنے ضمیر جگاؤ اور اس مفلوک الحال بستی کا سوچو۔ جہاں زندگی کو جینے کی تمنا ہے۔ جہاں ننھے ننھے گلاب کھل کر کچھ بننا چاہتے ہیں۔ زندگی کا جو حق ان کا ہے اس کو لینا چاہتے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
371
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: