ہمارے رویے ہماری پہچان | زہرا تنویر

Print Friendly, PDF & Email

ہمارے رویے ہی ہماری شخصیت کی عکاسی ہوتے ہیں۔ رویہ انسانی زندگی کا ایک ایسا جزو ہے جس کے اثرات انسان کے ظاہری و باطنی کردار پر گہرا تاثر چھوڑتا ہے۔ ہمارے ہاں عموما لوگ ایک دوسرے کو اپنے رویوں کی بدولت ہی جانچتے پرکھتے ہیں۔
لیکن بعض اوقات انسانی رویے اتنے مشکل اور پچیدہ ہوتے ہیں۔ کہ ان کو سمجنے میں بہت دشواری پیش آتی ہے۔ نہ سمجھ میں آنے والے الفاظ اور لہجے ہی کسی کے رویے کو اچھا برا بناتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے عمدہ رویے سے دوسروں کو خود سے اتنا قریب کر لیتے ہیں کہ ہر کوئی ان کی اچھائی کے گن گاتا پھرتا ہے۔ اب یہ لوگ دوسروں کو اپنی قیمتی شے یا پھر کوئی تحفہ تو دیتے نہیں جو سب ان کے گیت گاتے ہیں بس ان کے اچھے رویے کی بدولت ہی سب عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو اپنے تلخ رویے کی وجہ سے دوسروں کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ لوگ ان کے برے رویے کی وجہ سے ان سے کوسوں دور بھاگتے ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کی محفل میں بھی شریک ہونے سے پہلے ہر کوئی کئی بار سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ آیا وہ اس آدمی کی محفل میں شامل ہو یا نہ ہو۔ وجہ صرف اس آدمی کا نامناسب رویہ ہوتا ہے ۔ ایسے تلخ رویے کے مالک لوگ اچھے رویے کے حامل لوگوں سے بھی حسد کرتے ہیں۔ اب اگر دیکھا جائے تو ان کے حسد کرنے کی کوئی وجہ تو نہیں بنتی لیکن یہ اپنی فطرت سے مجبور ہوتے ہیں۔ تلخ اور ترش رویوں سے زندگی کی مٹھاس کو ختم کردیتے ہیں۔ نہ خود خوش رہتے ہیں نہ دوسروں کو خوش دیکھ سکتے ہیں۔
رویہ انسان کا سائے کی طرح جدا نہ ہونے والا ساتھی ہے۔ جو پوری زندگی ساتھ رہنے کے باوجود انسان کے مرنے کے بعد بھی اس کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ مثال کے طور پر ہمیں یہ اکثر سننے کو ملتا ہے کہ مرنے والا بہت اچھے رویے کا مالک تھا کبھی کسی کا برا نہیں چاہا۔ ہمیشہ اچھے اخلاق سے بات کرتا تھا۔ جب کہ دوسری جانب جن لوگوں کا رویہ و اخلاق اچھا نیہں ہوتا۔ ان کو بھی کچھ اس انداز سے یاد کیا جاتا ہے۔ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے لیکن کبھی کسی سے سیدھے منہ بات نہیں کی تھی۔ ہمیشہ ترش رویہ ہی اپنایا۔ اب دونوں مختلف فطرت کے لوگوں کو یاد کرنے والے تو یاد کرتے ہیں۔ لیکن انداز الگ الگ ہوتے ہیں۔ کسی کی اچھائی بیان کی جاتی ہے تو کسی کی برائی۔ اس میں قصور یاد کرنے والے لوگوں کا نہیں بلکہ ان لوگوں کے رویوں کا ہے جنہوں نے اپنی زبان اور عمل سے معاشرے میں اپنا تاثر قائم کیا۔ اب یہ ہمارے سوچنے کا کام ہے کہ ہم خود کو کن الفاظ میں یاد کروانا پسند کریں گے۔
رویوں کو سمجھنے کے لیے انسان کا پڑھا لکھا ہونا اتنا ضروری نہیں ہوتا جتنا کہ بندے کی جانچ پرکھ کرنے کی حس ضروری ہوتی ہے۔ لوگوں کے رویے ہی ہمیں ان کی طرف قدم بڑھانے کا حوصلہ دیتے ہیں اور قدم پیچھے رکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ لہذا ضروری ہے کہ ہم اپنی رویوں کو جانچنے کی صلاحیت میں بہتری لائیں تاکہ آنے والی زندگی میں مشکلات سے بچ سکیں۔ اگر آج آپ کسی کے رویے کو سمجھ جائیں گے کہ وہ اپنے انداز اور بات سے آپ کو کیا کہہ رہا ہے تو بہت آسانی سے آپ سمجھ جائیں گے کہ یہ بندہ آپ سے بات کرنا مناسب سمجھتا ہے یا نہیں کیونکہ بعض لوگ اپنی ازلی معصومیت کی بناء پر دوسروں کے برے رویے کو نظرانداز کر کے ان کے ان کے آس پاس منڈلاتے پھرتے ہیں اور اپنا مذاق بنواتے ہیں۔ اور جب عقل کبھی ساتھ دیتی ہے تو سوچتے ہیں کہ بیٹا اتنا عرصہ تم سمجھ نہیں پائے دوسرے کا لہجہ اور باتیں کیا جتاتی ہیں وہ تمہیں اپنی محفل میں برداشت نہیں کرتا پھر تم کیوں اس کے آس پاس منڈلاتے پھرتے ہو۔ تو ایسی صورت حال اس بندے کے لیے بہت پریشان کن ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کی نیت صاف اور رویے میں سادگی ہوتی ہے وہ دوسروں کے انداز کو اپنی نیک نیتی کی بدولت جان نہیں پاتا۔ جب ہمیں کوئی نو لفٹ کا سائن بورڈ اپنے رویے سے دکھاتا ہے مثال کے طور پر اپ کو کسی کام میں کسی کی مدد کی ضرورت ہے آپ اس کو مدد کے لیے کہتے ہیں لیکن آگے سے کوئی جواب موصول نہیں ہوتا تو آپ کو اس بندے کے رویے کا ادراک ہو جاتا ہے کہ اپ کی مدد نہیں کرنا چاہتا۔
اس طرح انسانی رویوں کو سمجھنا ہمارے لیے بہت ضروری ہے ان ہی کی وجہ سے ہم یہ تعین کرتے ہیں کہ کن لوگوں سے میل ملاپ رکھنا ہے اور کن سے کنارہ کرنا ہے۔ ہمارے رویے ہی ہماری پہچان ہیں ہمارے کردار کی، شخصیت کی، لہجے کی، عمل کی اور سب سے بڑھ کر ہمارے علم کی۔ اس لیے اپنے رویوں کو بہتر کریں۔ رویے کی عمدگی ہی ہمیں معاشرے میں عزت دلاتی ہے اور مرنے کے بعد بھی لوگ اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
800
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   ہم کس راہ جارہے ہیں | شاہانہ جاوید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: