Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

جہیز اور پڑھے لکھے جاہل

Print Friendly, PDF & Email

کچھ دن قبل ایک دوست سے بات ہو رہی تھی تو کہنے لگی کہ جہیز پر لکھو۔ تو میں نے کہا کہ اب تک اس موضوع پر بہت لکھا جا چکا ہے میرے لکھنے سے کیا ہو گا۔ کوئی بھی میگزین دیکھ لیں، ڈائجسٹ دیکھ لیں مارننگ شو دیکھ لیں تقریبا ہر جگہ ہی جہیز پر لکھا اور بولا جاتا ہے لیکن اصلاح کتنے لوگوں کی ہوئی معلوم نہیں۔ جس گھر دیکھو وہی بیٹیاں ہیں، وہی مسائل ہیں اور وہی پرانے حالات ہیں۔ پھر الگ سے کوئی کیا بات کرے۔ لیکن جب میں اپنے آس پاس فلاحی تنظیموں اور کچھ دوست احباب کو دیکھتی ہوں کہ وہ کسی مستحق خاندان کی مدد کے طور پر شادی کے اخراجات اٹھاتے ہیں تو سوچتی ہوں کہ یہ جس گھر میں لڑکی بیاہ کر گئی کیا ان میں انسانیت نام کی چیز نہیں؟ ان کو کسی سے امداد کا جہیز لیتے ہوئے شرم نہیں آتی؟ اگر یہ لوگ ہی تعاون کریں اور لڑکی والوں کو جہیز سے منع کر دیں تو کسی غیر کے در پر جا کر بیٹی کے ماں باپ منت سماجت نہ کریں کہ ہماری مدد کریں۔

ماں باپ کے لیے ہمیشہ سے بیٹی بوجھ ہی بنی رہی ہے خاص طور پر ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں وہاں اپنی محنت سے زیادہ پکی پکائی کھانے پر زیادہ ترجیح دی جاتی ہے چاہے کوئی امیر ہو یا غریب اس معاملے میں کوئی بھی رعایت نہیں دیتا۔ بلکہ امیر زیادہ جہیز کا لالچ کرتے ہیں کیونکہ ان کو اپنی فیملی میں یہ دکھانا مقصود ہوتا ہے کہ ہم اونچے گھر کی بہو لائے ہیں اس چکر میں اونچے گھر والوں کا بھی دیوالیہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ڈیمانڈز حیثیت دیکھ کر کی جاتی ہیں۔ لہذا جب جہیز کی بات آئے تو امیر غریب بیٹی کے والدین کو ایک جگہ رکھ کر سوچیں کیونکہ ہمارے ہاں زیادہ تر غریب کی بیٹی کا یہ مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔ جو مالی لحاظ سے تو بالکل ٹھیک ہے کہ مزدور پیشہ آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا سامان کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ساتھ بھی بیٹی کے جہیز کی ذمہ داری نما بوجھ۔ لیکن امیر کی بیٹی اس مسئلے سے کبھی آزاد نہیں ہوئی۔
خدائے ارض! میں بیٹی کے خواب کات سکوں
تو میرے کھیت میں اتنی کپاس رہنے دے
شہزاد نیر

یہ بھی پڑھئے:   ایک منٹ

یہاں لوگ شادی کے نام پر ایک بزنس ڈیل کرتے ہیں کہ عورت کو تحفظ کے طور پر نام دیا ہے تو اس کا معاوضہ بھی وصول کرنے میں حق بجانب ہیں۔ اس لیے بےچارے والدین بیٹی پیدا ہوتے ہی جہیز کے نام پر سامان بنانا شروع کر دیتے ہیں اور ایسے والدین کو بھی لوگ طرح طرح کی باتیں سناتے ہیں کہ آپ کو اتنی جلدی کیا ہے؟ ابھی تو بچی چھوٹی ہے ابھی کاہے کی فکر؟ پھر یہی لوگ کچھ عرصہ بات یہ کہتے ہیں کہ آپ کی بیٹی کی اتنی عمر ہو گئی ہے شادی کیوں نہیں کی؟ اب شادی تب ہی ہو گی جب کسی کے شایان شان وہ سامان آئے گا جو بیٹی کے بچپن سے لے کر اب تک بچت کر کے بنایا۔
باپ بوجھ ڈھوتا تھا، کیا جہیز دے پاتا
اس لئے وہ شہزادی آج تک کنواری ہے
منظر بھوپالی

بات ہو رہی تھی کسی سے امداد لے کر بیٹی بیاہنے کی تو اس پر بھی لڑکے والے دوسروں کے خرچ پر بارات کے نام پر خاندان کی پوری کھیپ لے کر آتے ہیں کہ بھئی شادی بہت دھوم دھام سے ہوئی۔ ایسے لوگ ولیمے کے نام پر زیادہ تر اپنی طرف سے بہت کم لوگوں کو مدعو کرتے ہیں کیونکہ اپنی دفعہ سادگی کا بخار سر چڑھ کر بولتا ہے۔ کاش یہ سادگی نکاح کے وقت بھی اپنا لی جائے تو ایک مثبت سوچ پروان چڑھے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم خود کو بدلنا ہی نہیں چاہتے ہمارے خاندان کے یہ رسم و رواج ہیں برے بیٹے کی شادی پر یہ ہوا تھا منجھلے کی شادی پر اس کے سسرال والوں نے یہ دیا تھا۔ اب یہ چھوٹا ہے تو سارے ارمان اس کی شادی پہ پورا کرنے کا شوق ہے۔ یہ شوق بھی 4، 5 بچے بیاہ کر ہمیشہ جوان رہتا ہے۔ اس شوق میں چاہے بیٹی والا بک جائے لیکن ان لوگوں کے کبھی نہ ختم ہونے والے ارمان اور حسرتیں ضرور پوری ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے:   پاڑہ چنار کا ننھا زین - ایم الیاس خان

جب اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگ اور مذہبی لوگ بھی اس ڈگر پر چلتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کہ جگہ جگہ درس دیتے ہیں کہ جہیز نہیں لینا چاہیے لیکن اپنی دفعہ سب بھول جاتے ہیں چھوٹی سی مثال سوشل میڈیا کی ہے کہ سب ہی کوئی نہ کوئی ایسی پوسٹ شیئر کرتے ہیں جن میں جہیز لینے کی سخت مذمت کی جاتی ہے جو مجھے بس واہ واہ سمیٹنے کی حد تک ہی لگتی ہے کہ اس انسان میں ہمدردی کا جذبہ ہے لیکن اصل واہ تو تب حاصل ہو جب آپ کوئی عملی قدم اٹھائیں اور ان رسم و رواج پر مبنی جہیز کی لسٹ کو ختم نہ سہی کم کرنے میں تو اپنا کردار ادا کریں۔ کیونکہ جہالت کبھی خود پھلتی پھولتی نہیں اس کو پھیلانے میں پڑھے لکھے لوگوں کا زیادہ عمل دخل ہے۔ ان پڑھ تو لاعلم ہے اور جاہل ہے اس کی سوچ کا دائرہ محدود ہے لیکن جو لوگ پڑھ لکھے اور باشعور ہیں وہ کیوں جہالت کا مظاہرہ کرتے ہیں؟

Views All Time
Views All Time
227
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: