Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

دکھی آتما، عشق و عاشقی

Print Friendly, PDF & Email

کچھ لوگوں کو شعر و شاعری سے انتہا کا عشق ہوتا ہے کہنا تو شغف چاہیے لیکن ہم یہاں بات کریں گے ان دکھی آتماؤں کی جو ہر وقت عشق و عاشقی پر مبنی شاعری سن کر اور پڑھ کر ٹھنڈی آہیں بھرتے رہتے ہیں۔ اور اس محبت پر پٹ سیاپے ڈالے رکھتے ہیں جو ان لوگوں کو نے کبھی کی ہی نہیں۔ اب محبت کرنے لیے کوئی نازک اندام حسینہ کا بھی ہونا ضروری ہوتا ہے نا جو ان feeling sad اورfeeling love والوں کو ملتی ہی نہیں اور اگر کبھی قسمت ان پر مہربان ہو ہی جائے تو صبا ایزی لوڈ والی بیلنس لے کر یہ جا وہ جا۔ اور پھر یہ دکھی آتما ایک عدد روتے منہ بسورتے ماڈل کی تصویر کے ساتھ ایک شعر پوسٹ کر کے اپنے ناکام عشق کی تعزیت وصول کرتے ہیں۔ تعزیت دینے والے بھی ان سے بڑھ کر ہوتے ہیں ایسی ہائے وائے کرتے ہیں کہ الامان۔ ایک موصوف تو اپنے دوست کو کہنے لگے کہ وہ تمہارے قابل ہی نہیں تھی یہ پڑھ کر تو دل میں ان کی ڈی پی کو غور سے دیکھنے کا خیال آیا بس پھر ہم بھی اس بات سے (تھوڑے سے ردو بدل کے ساتھ) سو فیصد متفق ہو گئے کہ واقعی وہ اس (سزا کے) قابل نہیں تھی.

خیر بات ہو رہی تھی شاعری کی تو ایسی شاعری جس میں نینوں کے تیر کی جگہ محبت کے تیر و کمان ہوں، جدائی کی جگہ موت سے کم پر راضی نہ ہوا جائے، وعدے زبان کلامی نہ ہو بلکہ registry کروا کر سائن لے کر کیے جائیں اور آنسوؤں کی جگہ خون کی بات ہو۔ اب اس شاعری کے دیوانے خون سے کم پر بات کرنے کو اپنی توہین مانتے ہیں۔ خون نہ ہو گیا پانی ہو گیا وہ بھی اب دن بدن کم ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن یہ عاشق حضرات خون کے بغیر بات کرنے پر تیار ہی نہیں۔ کچھ تو محبوب کو خط بھی خون سے لکھتے رہے ہیں اب سوشل میڈیا کا دور ہے تو فوٹو شاپ کی سہولت سے استفادہ کر کے خون کی بچت کرتے ہیں۔ لیکن ایک بات سوچنے والی ہے کہان کی خوراک کیا ہے جو خون و تیر ہی ہر بات کا آغاز و اختتام ہوتے ہیں۔

ایک بات اس طرح کی شاعری کے دلدادہ حضرات کے حوالے سے یاد آئی کہ جب موبائل اتنا عام نہیں تھا تو اس عاشقی قبیلے نے ایک ڈائری رکھی ہوتی تھی جس پر چن چن کر ایسے شعر نوٹ کیے جاتے تھے جو بوقت ضرورت محبوب کو خط لکھتے یا پھر ملاقات پر سنائے جاتے۔ ہم تو اس محبوب کی ہمت کو داد دیے بناء نہیں رہ سکتے جو اتنی خونی اور لنگڑی شاعری سن کر محبت پر یقین لے آتا ہے۔ سچ کہتے ہیں پیار اندھا ہوتا ہے چاہے کوئی شکل و صورت پر مر مٹے یا پھر ظالم شاعری پر۔ آپ میں سے کچھ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر یہ کون سی شاعری ہے جس کی ٹانگیں توڑی جا رہی ہیں تو آپ کی سماعتوں کی نظر چند اشعار کرتے ہیں تاکہ آپ بھی فیض یاب ہوں۔ ہم تو اکثر و پیشتر یہ سعادت حاصل کرتے رہتے ہیں۔ شعر ملاحظہ فرمائیں۔

یہ بھی پڑھئے:   افسانے کا شکوہ

جنازہ دیکھ کر میرا وہ بے وفا بول ہی پڑی معصومیت سے
وہ ہی مرا ہے نا جو مجھ پہ مرتا تھا

اب حقیقت کی نظر سے دیکھیں تو مرنے کے بعد کس کو کچھ پتا چلت ہے کہ میرے جنازے میں کون آیا لیکن ہمارے ہاں کچھ لوگ مرنے سے پہلے یہ وصیت کرتے ہیں کہ مجھے کچھ ہو گیا تو فلاں فلاں رشتے دار کو میرے جنازے میں نہ آنے دینا۔ اب اس شعر میں بھی کچھ ایسی صورت حال ہے کہ زندہ رہتے تو قدر نہ ہوئے لیکن جنازہ دیکھ کر محبوب بول پڑا یہ تو وہی ہے جو مجھ پر مرتا ہے۔ تو پہلے کیا سوئی تھی جب زندہ تھا۔ اور جو زندہ تھا اس کو اتنی حسرت تھی یہ سننے کی تو کوئی ڈرامہ ہی کر لیتا مرنے کا۔ کچھ مزید اشعار
فاصلہ رکھیں ورنہ
پیار ہو جائے گا
ان فاصلہ ہی رکھنا ہے تو پھر یہ شعر کہنے کا مقصد؟؟؟
میرے مذہب میں شراب پینا حرام ہے
اس لیے تیری جدائی میں لسی پی رہا ہوں
یہ شدید قسم کے مذہبی عاشق کے جذبات کی ترجمانی کی گئی ہے جو نہ تو حرام کو پینا چاہتا ہے اور نا ہی محبوب کو ناراض۔ اس لیے محبوب کی خوش کے لیے لسی کا جام نوش فرما کر رجسٹرڈ عاشق بننے کی تمنا کر رہا ہے۔
اگر تیری یاد کا کوئی میٹر ہوتا
تو سب سے زیادہ بل ہمارا ہوتا
یہاں بجلی کے بل دیے نہیں جاتے اور یہ موصوف اتنے امیر ہیں کہ جدائی کے بل دینے کو تیار ہیں۔
نا بندوق رکھتے ہیں
نا تلوار رکھتے ہیں
شکر گڑھ کے شہزادے ہیں
جگر اور جگر میں، جان رکھتے ہیں
کیا شاہانہ کلام ہے اس کی تشریح دل گردہ رکھنے والے ہی کر سکتے ہیں۔
آگ لگی ہو جب دل میں
پھر حرج کیا ہے پینے میں
یہ والے عاشق تو خون کو چھوڑ کر آگ میں کود پڑے۔ اللہ ان کے دل کو ٹھنڈا کرے نہیں تو ریسکیو 1122 کال کرنی پڑے گی۔
زہر کے قابل بھی نہ تھے کچھ لوگ
افسوس ہم انہیں جگر کا خون پلاتے رہے۔
ان حضرت کی ہمت کو داد دینی چاہیے جو جگر کا خون پلاتے رہے ورنہ لوگ تو خون کی تلاش میں مارے مارے پھرتے۔ آخری شعر مخدوم سرکار نامی دانشور نے کے پسندیدہ کلام میں سے جس کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیں.    آج تو دل بھی دھمـــــــکیاں دے رہا ہے                                                                                    کـــــــرو یاد اسے ورنہ دھـــــــڑکنا چھوڑ دوں گا.                                                                      یہ شعر سن کر کہا کہ دل چھوڑتا ہے تو چھوڑ دے دھڑکنا شاعرہارٹ پیشنٹ لگ رہا ہے. اس بات پر دوسری جانب سے وار ہوا اور کہا گیا آپی یہ کہہ کر آپ بھی سرکاری ہسپتال کی ڈاکٹر لگ رہی ہیں. بس پھر اس معصوم جان کو دکھی شاعروں کے دکھ کی گہرائی معلوم ہوئی.

یہ بھی پڑھئے:   پروین شاکر کی مُردہ انگلیاں - مستنصر حسین تارڑ

اب جاتے جاتے ان اشعار میں موجود جو تخلص ہوتے ہیں ان کا مختصر سا ذکر کریں تو میری نظر سے جو تخلص گزرے ہیں سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ کے طور پر لکھے جاتے ہیں۔ جن میں سرفہرست دکھی آتما، سونی، گجر، چوہدری، شہزادی وغیرہ ہوتے ہیں۔ ہم اس خودساختہ عشق و عاشقان شاعری کے لیے ہمہ وقت دعاگو ہیں کہ یہ کسی صورت جنازے اور خون سے کم پر راضی ہو جائیں .

Views All Time
Views All Time
133
Views Today
Views Today
3

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: