Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

آزادی اور انسان

Print Friendly, PDF & Email

ہر انسان اپنی زندگی اچھے انداز سے بسر کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ بعض اوقات زندگی اپنی مخصوص رفتار کے مطابق گزر رہی ہوتی ہے لیکن کبھی کبھار کچھ لمحات میں وہ سکون اور بہاؤ نہیں ہوتا جس کی انسان تمنا کرتا ہے۔ اور جب کوئی تمنا پوری نہ ہو تو بندہ کسی کام میں یکسوئی سے محنت نہیں کرتا۔ وہ اپنے روزمرہ کے امور کو بے دلی سے سرانجام دیتا ہے۔ اور جو کام مجبوری میں کیا جائے اس کا نتیجہ اتنا مثبت نہیں ہوتا ہے۔
دل بھی کسی کام کو کرنے پر تب ہی راضی ہوتا ہے جب آس پاس سکون کا بسیرا ہو۔ اور بنیادی وسائل میسر ہوں۔ جب کسی کام کو کرنے کے لیے اس کے تمام بنیادی اجزاء ہی نہ ہوں ۔ تو ذہن بھی وہ کام کرنےکی مکمل آمادگی ظاہر نہیں کرتا۔ یوں انسان دوسروں سے پیچھے رہ جاتا ہے۔ اس طرح سے معاشرتی ترقی کی رفتار بھی متاثر ہوتی ہے۔ اگر معاشرے میں ترقی کی شرح کم ہوں گی تو ریاستی ترقی پر خودبخود اثر پڑے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ریاست میں بسنے والے تمام خاص و عام مرد و عورت کو تمام بنیادی وسائل فراہم کیے جائیں۔ تاکہ سب ترقی کی راہوں کو مل کر ہموار کر سکیں۔

ان وسائل میں سب سے اہم اور بنیادی چیز آزادی ہے بو زندگی کی اہم اور بہت قیمتی متاع سمجھی جاتی ہے۔ آزادی ہو تو جینے کی امنگ ملتی ہے اور سانسوں کی ڈور کو ہر لمحہ ایک نئی جستجو سے آشکار کرتی ہے۔ آزادی ہی انسان کو تحفظ دیتی ہے۔ انسان کا جب دل چاہے اپنی زندگی کے نشیب و فراز سے اپنی مرضی کے مطابق مقابلہ کرے۔ اب اگر آزادی ہی نہ ہو تو تو ایسی صورت میں انسان بے بس و لاچار ہو جاتا ہے۔ وہ کوئی روشنی کی ایسی کرن کا متلاشی ہوتا ہے جو اس کو اس قید کی خندق سے نکالنے کی آس دلاتی ہو۔ آزادی نہ ہو تو انسان کے خوشی و غم کے رنگ بھی ملے جلے دکھنے لگتے ہیں نہ خوشی کا اندازہ ہوتا ہے اور نہ غمی کا۔ کسی کا غلام بن کر رہنا شاید ہم جیسے لوگ اس کرب کو نہیں جان سکتے جو غلامی کو طوق گلے میں پہنے اس کے تنگ دائرے میں مفلوک الحال زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ شاعر مشرق فرماتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   پاکستان ہماری آن ہماری شان

‘غلامی کیا ہے ذوق حسن وزیبائی سے محرومی
جسے زیبا کہیں آزاد بندے ہے وہی زیبا ‘

آزادی ہی سے ہی کچھ ممکن ہے چاہے آزادی ریاستی ہو، مذہبی ہو، شخصی ہو، کسی بھی طرح سے کوئی راستے میں رکاوٹ حائل کر دی جائے تو ایسی صورت میں اس انسان اور اس بستی کے سب حقوق سلب کر لیے جاتے ہیں تاکہ اپنی جبرئیت اور حکمرانی کا پیمانہ دنیا کو دکھایا جا سکے۔ آج جتنی بھی قومیں اور بستیاں آزادی کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ اور لاتعداد قربانیاں دے رہیں ہیں۔ سب ان جابر حکمرانوں کے سائے سے نکل کر اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی آرزو رکھتی ہیں۔ جابر حکمران اپنی انا اور بربریت کی وجہ سے ان مظلوم بستیوں کو اپنے دست نگر رکھ کر نجانے کون سی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ شاید ان کے گھر کبھی کسی جوان بیٹے کی مسخ شدہ میت نہیں آئی یا پھر کبھی کسی نے کئی روز تک ان کو گھروں میں محصور نہیں کیا ہو گا۔ جو وہ یہ دکھ سمجھ سکیں کتنی اذیت دیتی ہے وہ زندگی جس کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا۔ بے معنی اور تذلیل سے بھری۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایسی قوموں اور بستیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جہاں طاقتور ریاستیں اپنا تسلط قائم کرنا جائز حق سمجھتی ہیں۔ ایسے شعور اور علم کا کیا فائدہ جو انسان کو نرمی کی جگہ حیوانیت کی جانب راغب کرے۔ اور اقوام کی آزادی چھین لے۔ آخر کب انسان کو شعور ائے گا؟ اور جن کو آزادی کی نعمت اتنی قربانیوں کے بعد ملی وہ اس نعمت کی قدر کرنا تو دور اس کی خوشی منانے پر بھی راضی نہیں۔ سچ ہے انسان کسی حال میں بھی خوش نہیں. جو خوش ہیں ان کو جشن آزادی مبارک.

Views All Time
Views All Time
253
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: