حاجی صاحب

Print Friendly, PDF & Email

حاجی صاحب کو ہر سال عمرہ زیارات اور حج میں سے کسی ایک فرض کی ادائیگی کا بہت شوق تھا اور بہت دل جمعی اور عقیدت سے ہر سال اہتمام کے ساتھ جانب سفر گامزن ہوتے۔ گلی محلے کے سب لوگ ان کی بہت عزت کرتے تھے (پیٹھ پیچھے جن القابات سے نوازتے تھے وہ ایک الگ داستان ہے)۔ بات ہو رہی تھی حاجی صاحب کے عمرہ زیارات پر جانے کی تو ایک دن اپنی ساری اولاد کو لے کر بیٹھے اور جانے سے قبل گھر کے اخراجات اور دوسرے معاملات کے متعلق بیوی بچوں کو سمجھانے لگے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ عقل صرف ان کے پاس ہی ہے باقی سب ناسمجھ اور میری غلام رعایا ہیں۔

گھریلو معاملات سمجھا کر فارغ ہوئے تو حاجی صاحب کو عزیز واقارب و دوستوں سے ملنے کا خیال آیا۔ تو بس پھر محلے کے پہلے گھر سے ہوتے ہوئے آخری گھر تک بہت عاجزانہ و ملنساری سے سب کو ملے اور ساتھ میں یہ بھی کہنا مجبوری تھی کہ اگر کوئی غلطی کوتاہی ہو گئی ہو تو معافی دے دیں۔ ویسے میرا ذاتی خیال ہے کہ اگر ایک بندہ جو ہر سال عمرہ و زیارات کی سعادت حاصل کرے تو اس کو پھر کوئی غلطی کوتاہی کرنا تو دور سوچنا بھی نہیں چاہیے۔ تین سال سے میرے ابو مجھے بہت فورس کر رہے ہیں کہ چلو ہمارے ساتھ عمرہ و زیارات پر تو میں یہ کہہ کر انکار کر دیتی ہوں کہ ابھی میں اس قابل نہیں کہ اس در ہر حاضری دوں۔ اور یہ سعادت حاصل کر کے پھر اسی ڈگر پر چلوں کیونکہ جس کو یہ سعادت نصیب ہو جائے اس کو اس قدر کرنے کے ساتھ ساتھ خود کو بھی سنبھالنا چاہیے۔

اس پاک در پر جا کر بھی آپ کے ظاہر و باطن میں تبدیلی نہ آئے تو کیا فائدہ؟ پھر آپ یوں ہی اچھے ہیں اپنی جگہ کسی ایسے بندے کو بھیج دیں جو اس قابل ہے اور جس کے من میں چاہ و حسرت ہے کعبہ و گنبد خضری کو دیکھ کر اپنی ذات کو مکمل کرنے کی۔ لیکن یہ بھی ہمت و حوصلے کی بات ہے کہ اپنی جگہ کسی اور کو دینا۔ جیسا کہ حاجی صاحب ہر سال جاتے تھے کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ مجھے بلاوا آ گیا ہے، دل روضہ حسین ع کی یاد میں تڑپ رہا ہے اور روضہ رسول ص کی جالیاں چومنے کی چاہ مجھے بلاتی ہے کہ ہر سال آؤ۔ حالانکہ ان کو سننے والے جانتے ہیں کہ یہ وہی حاجی صاحب ہیں جن کو کسی کے مرنے جینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

سامنے والے گھر میں چولہا جلا ہے کہ نہیں ان کے بچے آس پاس کے گھروں کی طرف سے آنے والی کھانے کی خوشبو کو محسوس کر کے یہ سوچ رہے ہوں گے کہ شاید ابھی کسی کو ان کی یاد آئے اور تھوڑا سا کھانا دے جائیں کیونکہ اہل محلہ جانتے تھے کہ ان کا باپ اس دنیا میں نہیں رہا۔ اہل محلہ کے چند معزز افراد کو اگر یاد تھی تو بس یاد الہی کی اور اس کے حضور حاضری دینے کی اس لیے وہ مکہ و مدینہ، نجف و کربلا جانے کی تیاریوں میں مصروف تھے لیکن ان تیاریوں میں یہ بات بھولے تھے کہ حقوق العباد کی اللہ اور اس کے رسول ص نے کے ہاں کتنی اہمیت ہے اور نجف و کربلا والے کب کہتے ہیں کہ تم انسانیت کے تقاضے نہ نبھاؤ اور ہمارے پاس آؤ۔

کربلا کا تو ذرہ ذرہ آپ کو احساس و انسانیت کا درس دے دیتا ہے۔ آپ حاجی صاحب بننے کے چکر میں یہ درس شاید بھول ہی گئے ہیں۔ یہاں واصف علی واصف کی ایک بات یاد آئی کہتے ہیں "ہر عبادت کی قضا ہے لیکن انسانی دل توڑنے کی کوئی قضا نہیں”۔ اور یہ حق بات ہے انسان چاہے جتنا بھی علی ظرف کیوں نہ ہو لیکن جو اس کے مشکل وقت میں کام نہ آئے اور دل آزاری کا موجب بنے تو معاف کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ لہذا ایک چھوٹی سی گذارش ہے ان لوگوں سے جو ابھی حاجی صاحب نہیں بنے اور بننے کا سوچ رہے ہیں تو پلیز مکمل حاجی بنیں۔

Views All Time
Views All Time
82
Views Today
Views Today
4
یہ بھی پڑھئے:   پنجابی لیفٹ اور اس کے رویے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: