Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

سوشل میڈیا اور ہمارے دوست

Print Friendly, PDF & Email

سوشل میڈیا کی بدولت بہت سے لوگوں سے جان پہچان کا واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ طرح طرح کی سوشل ایپس پر جہاں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع پر ملتا ہے وہیں بہت سے لوگ ہماری فرینڈ لسٹ میں بھی شامل ہوتے ہیں۔ فرینڈ لسٹ میں ہمارے فیملی ممبرز، قریبی دوست اور کچھ باہر کے دوست ہوتے ہیں۔ باہر کے دوستوں سے مراد وہ دوست ہیں جو ہمیں سوشل میڈیا پر ملتے ہیں۔ ان میں سے کچھ افراد کی دوستی ہماری پوسٹ کو لائیک اور کومنٹ کرنے کی حد تک محدود ہوتی ہے اور کچھ کی بات چیت پر مبنی ہوتی ہے۔ کبھی کبھار ہمیں یہ دوستی نہ تو کوئی نفع دے رہی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی نقصان۔

میرا ذاتی خیال ہے اگر آپ کے اردگرد رہنے والے لوگ مشکل وقت میں آپ کا ساتھ دینے کے اہل نہیں ہیں تو ہماری زندگی مین ایسے لوگوں کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے۔ کچھ روز قبل ایک کام کے سلسلے میں اپنے آس پاس نگاہ دوڑائی تو اپنی چار سو کی فرینڈ لسٹ میں سے فقط ایک دو لوگوں پر نظر گئی کہ اگر ان سے یہ کام کہا جائے تو ضرور کریں گے اور شکر ہے ہمارے یقین پر ثبت کی مہر لگی۔ کام تو ہو گیا لیکن اس دوران ایک بات ذہن میں آئی کہ کیا فائدہ ایسے دوستوں کا جو کسی کام کے ہی نہیں اور ایسے لوگ جن  سے سوشل میڈیا پر جان پہچان ہوئی انہوں نے آپ کے مسئلے کو سمجھا اور اس کو حل کرنے میں مدد کی۔

یہ بھی پڑھئے:   کچھ تلخ و شیریں باتیں اور وعدہ

اس سب سے ایک بات سمجھ آئی کہ زندگی میں بہت سے لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے، ان لوگوں کا عمل دخل ہماری زندگی کے مختلف امور پر بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس لیے کوشش کریں میل ملاپ بڑھانے اور دوستی کرنے سے قبل اس بات کی یقین دہانی کر لیں کہ اس انسان کی سوچ اور کیا ہے۔ کیا یہ بامقصد زندگی گزارنے کا متمنی ہے؟ یا پھر باہدف زندگی کی تلاش میں ہے؟ آیا ضرورت کے وقت آپ کے کام آئے گا؟
جب کسی انسان کو پرکھنے کے لیے اس کے کردار، خیالات اور شخصیت کا جائزہ لیا جاتا ہے تو ہمیں کہیں نہ کہیں اس کی ذات سے جڑی کوئی خوبی اپنا عکس ضرور دکھاتی ہے جس کی بدولت اس ہم اپنے تعلقات کو بڑھانے کے متعلق سوچتے ہیں۔ اس کے برعکس جب کسی ایسی شخصیت سے پالا پڑتا ہے جو نہ کسی کے اچھے میں ہوتے ہیں نہ برے میں۔ ایسے افراد کو ہم بروں میں بھی شمار نہیں کر سکتے کیونکہ ان کی دوستی بےضرر سی ہوتی ہے۔ یہ معصوم اور فرشتہ صفت لوگ خاموشی سے اپنی خوش حال زندگی گزارتے ہیں نہ کسی کے اچھے میں نہ برے میں۔

اب ایسے لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا وقت کا ضیاع ہوتا ہے کیونکہ جن کو اپنے اردگرد بسنے والوں سے کوئی غرض نہیں ان لوگوں کا ہونا بھی ویسا ہے جیسے گھر کے کسی کونے میں پڑی کوئی بے کار سی چیز، جو ہمیشہ جوں کی توں پڑی رہتی ہے نہ ت​​و ہم اس کو باہر پھینک سکتے ہیں اور نہ ہی کسی الماری اور شوکیس میں جگہ دینے کے قابل سمجھتے ہیں۔ اس لیے ہم ایسے دوستوں کے متعلق فیصلہ نہیں کر سکتے کہ ان کی جگہ ہماری قریبی فہرست ہے یا پھر فہرست سے باہر۔ یہ بھی کسی کونے میں پڑے اونگھتے رہتے ہیں۔ کوشش کریں انسان شناسی کی اہمیت کو سمجھیں تاکہ بامقصد اور باصلاحیت لوگ آپ کی زندگی میں شامل ہو کر آپ کو بھی نئی منزلوں کی جانب بڑھنے کی ترغیب دلائیں

Views All Time
Views All Time
303
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: