ہمارا جینا حرام نہ کریں

Print Friendly, PDF & Email

ایک جگہ پڑھا تھا کہ "اگر حادثاتی طور پر آپ دو چار کتابیں پڑھ چکے ہیں تو ہضم کرنے کی کوشش کریں، دوسروں کا جینا حرام نہ کریں”۔ کچھ لوگ اس تعریف پر پورا اترتے ہیں۔ خاص طور پر وہ لوگ جو ہر جگہ درس دینا اولین فریضہ سمجھتے ہیں اور خود کو عقل کل گرادنتے ہیں۔ ان لوگوں کے خیال میں وہی سب احکام شریعت جانتے ہیں دوسروں کو نہ دین سے آگاہی ہے اور نہ ہی شریعت سے۔ اچھے خاصے اہل علم حضرات کو بتا رہے ہوتے ہیں۔ وضو ایسے کرتے ہیں۔ غسل کا طریقہ کار یہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس پر ایک بات یاد آئی کچھ دن قبل ایک محترمہ محفل میں تشریف لائیں۔ اور کہنے لگیں آپ کو دین کے متعلق کچھ بھی پتا نہیں اس علاقے میں اصلاح کی ضرورت ہے اور کھڑی ہو گئیں وضو کا طریقہ بتانے۔ وہاں پر موجود سب مستورات ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگیں کبھی ان محترمہ کو دیکھیں اور کبھی ایک دوسرے کو۔ لیکن اس وقت حاضرین محفل نے میزبان کا لحاظ کیا کہ کسی قسم کی تنقید اور بات سے محفل کا حسن خراب نہ ہو۔ خیر آخر میں محترمہ کہنے لگیں کہ کل آپ کو غسل کا طریقہ بتایا جائے گا۔ اس طرح کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں جو بیان کیے جا سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو اپنا علم جھاڑنا پسند کرتے ہیں۔ کسی گروپ میں بحث ہو تو یہ ہر کوئی اپنا راگ الاپنا پسند فرماتا ہے جس بات کا بحث سے تعلق نہیں ہوتا۔ اس بات کو خوامخواہ بول دیا جاتا ہے اور بس ایک ہی بات پر کچھ افراد زور دیتے ہیں کہ آپ کو دین کی سمجھ نہیں۔ آپ کے علم میں اگر دین بس وضو اور غسل تک ہی محدود ہے تو مہربانی فرما کر اپنے اذہان کو تازہ ہوا سے معطر کریں۔ ہمیں یہ احکام شریعت ہماری ماوں بہنوں نے بتائے اور سکھائے ہیں ہم کوئی نیے نئے دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے۔ درس وہاں دیا کریں جہاں حقیقی معنوں میں ضرورت ہو۔ ان لوگوں کی اصلاح کریں جو نئے نئے آپ کے مکتب میں آئے ہیں۔ ان کو نہیں جو نسل در نسل سے غلام رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ آج کل کے چھوٹے چھوٹے بچے جب بتاتے ہیں اور کہتے ہیں آپ کو کیا پتا "مومن” کی تعریف کا؟ تو ان معصوم ذہنوں پر افسوس ہوتا ہے جن کو صرف تنقید کرنا اور دوسرے کو غلط ثابت کرنا ہی سکھایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   احساس کا جذبہ-زہرا تنویر

ہمارا وتیرہ بن گیا ہے کہ دو تین لوگ مل کر بیٹھ جائیں تو سب اپنی اپنی بولی بولنا شروع کر دیتے ہیں نہ ایک کے خیالات جاننے کی ضرورت محسوس کریں گے نہ دوسرے کے۔ بس اپنی بات اور سوچ کو دوسروں پر مسلط کرنے کے درپے ہوں گے۔ اگر دو تین لوگ آپس میں اچھے ماحول میں اخلاقیات کا دامن تھامے ایک دوسرے کے خیالات کو سن لیں اور سمجھ لیں تو یقین کریں یہ جو ہر طرف افراتفری پھیلی ہے اس میں زیادہ تو نہیں لیکن تھوڑی بہت کمی ضرور آئے گی۔ درس اور نصیحت وہاں کی جاتی ہے جہاں ضرورت ہو یہ نہیں کہ کسی کو جانے بناء آپ اپنے علم کی ندیاں بہانا شروع کر دیں۔ ایسے میں جو لوگ صاحب علم ہوتے ہیں وہ آپ کے بچگانہ پن پر ہنس دیتے ہیں اور آپ کو اندازہ ہی نہیں ہوتا اپنی بےوقوفی کا۔ بلکہ الٹا فخر محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے آج فلاں کی کلاس لی۔ اس کو تو نہ دین سے آگاہی تھی نہ احکام شریعت سے آج تو سب کچھ بتایا۔ شکر ہے ہم دین کی خدمت کر رہے ہیں اور لوگ ہماری بدولت سمجھ اور سیکھ رہے ہیں۔ اہل علم کی نگاہ میں ایسے لوگ قابل ترس ہوتے ہیں جو تین چار کتابیں پڑھ کر عالم و فاضل کی نشست پر براجمان ہوتے ہیں۔ اب یہ کیا جانیں عالم محض دو تین کتابیں پڑھ کر نہیں بنا جاتا بلکہ برسوں کی ریاضتیں بھی کبھی کبھار اس مقام پر نہیں پہنچا پاتیں۔ علم کے خزانے ان دنیاوی تین چار کتابوں میں نہیں ہیں۔ بلکہ اس کتاب ہدایت میں ہیں جس میں پرودگار نے کلّ کائنات اور کلّ انسانیت کے اصول بتائے ہیں۔ اس کو کھولیں پڑھیں اور سمجھیں۔

یہ بھی پڑھئے:   صبر،لیکن کیسے؟-عبداللہ ابن علی

اس درس مافیا سے چھوٹی سی گذارش ہے کہ اپنے علم کو ہوا لگوائیں۔ کب تک لکیر کے فقیر بنے رہیں گے؟ آپس میں الجھنا چھوڑ دیں۔ مسائل اور بھی ہیں جو آپ کے منتظر ہیں۔ کبھی ان کے گھروں میں بھی جا کر دیکھیں جو شہید ہوئے اور آپ یہاں درس دیتے رہے۔ ان کے اہل و عیال کی خیر گیری کریں اپنے وقت کو ضائع نہ کریں اور ہاں یہ وضو اور غسل کے چکر سے نکل آئیں وہ نہ ہو بتاتے بتاتے آپ خود بھول جائیں کیونکہ زیادہ نصحیت کرنے والا بھی اچھی نظر سے دیکھا نہیں جاتا۔ اصلاح کرنی ہے تو وہاں کریں جہاں آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ آخر میں اتنا کہوں گی ہمارا جینا حرام نہ کریں۔ اپنے علم کی روشنی سے دیے جلائیں نہ کہ انتشار و افراتفری۔

Views All Time
Views All Time
354
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: