اماں وسائی کا درد

Print Friendly, PDF & Email

شہر کی روشنیاں رات گئے بھی جگمگ جگمگ کر رہی تھیں۔ بس اسٹاپ پر معمول کے مطابق مسافر اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھے، کوئی منزل کے پہنچنے کے قریب تھا اور کوئی منزل تک پہنچنے کو بے تاب راہ تکنے میں مگن تھا۔ ایسے میں اماں وسائی کی صدا ہر ایک کو اپنی طرف متوجہ کرتی جو رات کے اس پہر بھیک مانگتی پھر رہی تھی۔ کچھ مسافر اماں کو بہت عرصے سے جانتے تھے تو آتے جاتے حال چال بھی دریافت کر لیتے۔ مجھے شہر آئے تھوڑا عرصہ ہی ہوا تھا لیکن ہر ویک اینڈ پر گھر جاتے بس سٹاپ پر اماں کو دیکھتا۔ اس دفعہ بھی بس کے انتظار میں بیٹھا تھا کہ اماں وسائی کی آواز نے مجھے متوجہ کیا اماں میرے پاس بینچ پر آ کر بیٹھ گئی اور کھانسنے لگی مجھ سے رہا نہ گیا تو اماں سے کہنے لگا! کیوں اتنی رات گئے تک سڑکوں پر ماری ماری پھرتی ہو اپنی حالت دیکھو۔۔۔اوپر سے موسم بھی سرد ہے کیوں اپنے ساتھ ظلم کرتی ہو؟

تو اور کیا کروں یہی بھیک مانگ کر تو پیٹ بھرنا ہوتا ہے ہم کون سا تمہارے جیسے صاحب لوگ ہیں ہماری یوں ہی مانگ کر کھاتے گزر گئی ہے اور باقی بھی گزر جائے گی اپنا خیال رکھیں تو کھانے کو کون دے گا؟ اماں وسائی بولی
اماں تمہارا میاں کیا کرتا ہے وہ کما کر کھلائے نا۔
ہاہاہاہا یہ تم نے خوب کہی اماں ہنستے ہوئے بولی۔

یہ بھی پڑھئے:   خوش کیسے رہا جائے؟

ساری زندگی میں بھیک مانگ کر اس کو اور اس کے بچوں کو پالتی رہی ہوں جس دن بھیک زیادہ نہ ہو تو جھگڑتا ہے۔ تو تم پہلے دن سے اسے عادت نہ ڈالتی نا اس لیے اب وہ ہڈ حرام ہو گیا ہے میں تاسف سے بولا۔

پہلے دن کی خوب کہی اس نے پہلے دن ہی کہہ دیا تھا وسائی تم سے شادی اس لیے کی ہے کہ تو خوبصورت ہے اور جب تو مانگنے جائے گی تو تجھے زیادہ بھیک ملے ہمارے ہاں رواج ہے کہ شادی سے پہلے لڑکی بھیک نہیں مانگتی لیکن شادی ہوتے ہی بھیک مانگنے بھیج دیتے ہیں۔ اماں نے تفصیلی جواب دیا۔ یہ کیسا رواج ہے؟ جس میں عورت کو دن رات کی پرواہ کئے بغیر باہر بھیج دو ان لوگوں کو شرم نہیں آتی میں غصے سے بولا۔ بس میرا بچہ اب تو گزر گئی ہے اور رواج کی تم نے خوب کہی عورت کے لیے رواج سب نے اپنی مرضی کے بنائے ہوئے ہیں۔ کیا تم اپنی زندگی سے خوش و مطمئن ہو؟ میں نے پوچھا۔

یہ خوشی کیا ہوتی ہے میں اس کی لذت سے ناآشنا ہوں، بیٹا خوشی وہ ہوتی ہے جو عورت کو اس کا مرد عزت و تحفظ والی زندگی دے اور اس کو کما کر کھلائے بدقسمتی سے میرے جیسی بھکارن ایسی خوشیوں سے محروم ہوتی ہے جو لوگوں کی گندی نظروں اور نیت کو جان کر بھی در در مانگتی پھرتی ہے لوگ ہمیں باتیں کرتے ہیں دیکھو جوان جہان عورت ہے کیسے مانگتی پھر رہی ہے ایسی عورتیں اچھی نہیں ہوتیں، کچھ لوگ حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور کچھ منہ پر پیسے پھینک کر تذلیل کرتے ہیں۔ اماں دکھ بھری آواز میں بولی۔ ٹھیک کہتی ہو اماں میں بھی ان لوگوں میں سے ہوں جو بھکارن کو اچھی نظر نہیں دیکھتے لیکن تمہارے احساسات جان کر حقیقت کا پتا چلا بس بیٹا کسی کا دل نہیں کرتا گلیوں سڑکوں میں مارا مارا پھرے عورت ہمیشہ سے رسم و رواج کی بھینٹ چڑھی ہے اور ایک بھکارن کے جذبات کوئی نہیں سمجھ سکتا اس کا بھی دل کرتا ہے وہ بھی عزت کی زندگی گزارے یہ کہتے اماں چل پڑی اور اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔ میں وہاں بیٹھتا سوچتا رہا نجانے کتنی اماں وسائی اپنے اندر ناقدری کا درد لیے مانگتی پھر رہی ہوں گی۔

Views All Time
Views All Time
387
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: