Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

ادب اور گمنام ادیب

Print Friendly, PDF & Email

ادب کسی بھی زبان میں ہو ادب ہی کہلاتا اور سمجھا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگ ادب میں یوں طبع آزمائی کرنے پر تل جاتے ہیں جیسے ان سے بڑا ادب کی دنیا میں کوئی اور لکھاری نہ ہو۔ ادب کے ساتھ جب بے ادبی سے پیش آیا جائے تو ادب بھی ایسے لوگوں کو اپنے دائرے میں جگہ دینا مناسب نہیں سمجھتا۔ کچھ عاقبت نااندیش لوگ ادب کی ایسی دھجیاں اڑاتے ہیں کہ سوائے افسوس کرنے اور کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ اردو ادب میں بھی ایک سے بڑھ کر ایک ادیب ہیں جن کے نام لئے جائیں تو فہرست بہت طویل ہو جائے گی۔ ادیب کا کام ہوتا ہے کہ اپنے قلم کی روشنی سے معاشرے میں جنم لینے والی برائیوں اور اخلاقی قدروں کے معیار کو بلند کرے نا کہ پست اور مردہ خیالات کو سب کے سامنے پیش کر کے ادب کو بدنام کرے۔

آپ کا قلم آپ کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے آپ چاہے سیاست پر لکھیں، عورت پر لکھیں، انسانی حقوق پر لکھیں، معاشرتی بگاڑ پر لکھیں یا پھر مذہب پر اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ آپ کی تحریر آپ کی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ کوشش کریں کہ اپنی سوچ کے محور کو مثبت رکھیں تا کہ آپ کی تحریر میں کسی کو کہیں آپ کی مردہ سوچ کا رنگ دکھائی نہ دے۔ ہمارے ہاں آج کل یہ ٹرینڈ چل پڑا ہے کہ ہر کوئی اپنی تحریر کو مذہبی رنگ دے کر شہرت حاصل کرنے چکروں میں پڑا ہے۔ مذہب اتنی سستی اور معمولی چیز تو ہے نہیں کہ جس کا جب دل کرے مذہب کے نام کو استعمال کر کے مفکر بن جائے۔ ہم نہ مذہب سے آشنا ہیں نہ ادب سے۔شہرت مذہب کے نام سے نہیں ملتی۔ اگر آپ شہرت کے حصول کے متمنی ہیں تو بہتر ہے کہ اپنے خیال کی رو کو جانچیں وہ کس جانب بہہ رہی ہے جب آپ کو اپنے خیال کا اندازہ ٹھیک سے ہو جائے گا تب ہی آپ بہتر انداز سے اپنے قلم کا استعمال کر سکیں گے۔ ہم لوگوں کا یہ حال ہے کہ اپنی صلاحیت کا پتا چل جائے کہ ہم یہ کام کر سکتے ہیں تو ہم اس میدان میں سوچے سمجھے بغیر کود جاتے ہیں ہر کام کرنے کا کوئی طریقہ کار ہوتا ہے جس کو سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے لیکن سمجھنے کی طرف آنے کو ہم اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ جب بھی کسی کام کا آغاز کیا جاتا ہے تو اس کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ اس کام میں آپ کو کب کہاں اور کیسے قدم رکھنا ہے اس طرح سے جب آپ اپنے قلم کو تھامتے ہیں تو یہ ضرور سوچیں کہ آپ کے قلم سے روشنی کی شعاعیں پھیلیں نا کہ فرسودہ مردہ الفاظ کی گھن دکھائی دے۔ ہم لوگ ایک پنڈولم کی طرح ہیں جو اپنی مرضی سے کبھی ادھر کبھی ادھر ہلتا رہتا ہے یکسوئی سے کوسوں دور ہوتا ہے لیکن جیسے ہی کوئی پینڈولم کو ہلاتا ہے تو وہ اس لحاظ سے ہلتا ہے پھر اپنی اصل حالت میں ہے۔ بالکل اسی طرح سے ہم میں سے کچھ ادیب اپنا قلم دوسروں کی مرصی سے چلاتے ہیں اور جب ان کا مقصد پورا ہو جاتا ہے پھر اپنی اصل جگہ پر آ جاتے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ آپ اپنی صلاحیتوں کو دوسروں کے ناجائز امور میں کیوں ضائع کرتے ہیں۔ ادب کو باادب بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو مثبت اور تعمیری سوچ کو اپنائیں۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم چڑھتے سورج کو سلام کرتے ہیں چاہے وہ سورج کے نکلنے کی سمت درست ہی کیوں نہ ہو مگر ہم اس کو ہی سلام کریں۔ اس کے برعکس ایسے لوگ جن کی سمت درست ہو گی لیکن شہرت کی سند سے محروم ہوں گے ان کو کوئی پوچھنا گواراہ نہیں کرے گا کہ آپ کون ہیں؟ لکھنے کا شوق کب اور کیسے ہوا؟

یہ بھی پڑھئے:   منٹو مرگیا تب اچھا ہوا

تاریخ ایسے گمنام ادیبوں اور ادب کی نگارشات سے ہمیشہ محروم رہی ہے اور یہ شریف النفس گمنام لوگ بھی ایسے تھے اور ہیں جن کی زبان پر کبھی کوئی شکوہ شکایت نہیں آیا۔ اس موضوع پر حضرت واصف صاحب کا ایک تفصیلی مضمون ان کی کتاب "دل، دریا، سمندر” میں پڑھنے کو ملا ( یہاں ایک بات کی وضاحت کر دوں کہ میں خود کو ابھی اس قابل نہیں سمجھتی کہ واصف صاحب کے افکار کو ٹھیک سے سمجھ سکوں اور بحث کروں)

تو اس مضمون میں گمنام ادیبوں کی علی سوچ کے متعلق جان کر خوشی کے ساتھ افسوس بھی ہوا کہ ان کو ادب میں وہ مقام کیوں نہیں ملا جس کے یہ لوگ حق دار تھے۔ حضرت واصف کہتے ہیں کہ گمنام ادیبوں اور گمنام شعراء کی کاوشیں کسی نہ کسی نام سے شائع ہوتی رہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک گمنام ادیب کے مرنے سے کئی نامور ادیب مر جاتے ہیں۔ ایک اور جگہ فرماتے ہیں ہمارا المیہ یہ ہے کہ وہ دانشور’ جن کی عمر اسلام اور خدا پر بے باک بلکہ گستاخ تنقید میں گزری’ آج نعت کی محفلوں میں موجود ہیں۔ گمنام ادیب میں کم از کم ایک خوبی ضرور ہوتی ہے’ وہ کبھی منافق نہیں ہو سکتا۔ وہ دانشور’ جو اونچی کرسیوں پر براجمان تھے’ وہ کیسے کسی اجنبی کو اپنے دانش کدے میں داخل ہونے دیتے۔ آج بھی حالات اس سے مختلف نہیں ہیں پیسے اور سستی شہرت کے حصول کے لئے ادیب اپنا ادب بیچ رہے ہیں اور جن کے دل اور نیت صاف ہیں وہ آج بھی وہیں گمنام کھڑے ہیں جہاں پہلے کھڑے تھے۔

Views All Time
Views All Time
528
Views Today
Views Today
2

One thought on “ادب اور گمنام ادیب

  • 27/12/2017 at 12:37 صبح
    Permalink

    ادب اور ادیب
    ادب کیا ہے ؟ جو ہم نصابی کتابوں میں پڑھتے تھے ۔ میر تقی میر ۔ غالب ۔ داغ ۔سودا۔ علامہ اقبال کی شاعری یا پھر منشی پریم چند ۔پطریس ۔آزاد کے مضامین کیا ادب میں شمار ہوتے ہیں ؟
    یا ادب وہ ہے جو آج کل فیس بک کی زینت بنتا ہے شوسل میڈیا پر شئیر کیا جارہا ہے ؟
    ادیب وہ ہیں جو شوسل میڈیا کاپی پیشٹ کا کام کررہے ہیں ۔
    اخبار اور کتابوں کا زمانہ ختم ہوگیا ۔کتابیں صرف اردو لیٹچرل فیسٹول میں صرف نمائش کے بعد واپس دوکانوں کی زینت بن جاتی ہیں ۔
    ادیب کہلانے کا شوق ہر کسی کو ہوتا جارہا ہے ۔ آج ایک اور فیشن عروج پر ہے کسی سے بھی تحریر کرواکے اپنے اپنے ناموں سے شوسل میڈیا پر پوشت کردی جاتی ہیں ۔اور لاکھوں کی تعداد میں شوسل میڈیا پر فین ہوجاتے ہیں ۔
    کچھ یہی حال اخبار میں چھپنے والے کالموں کا بھی ہے کسی سے بھی نوٹ خرچ کرکے لکھوا لیا اور اپنے اپنے ناموں سے شائع کروالیا ۔
    یہ ہے آج کا ادب اور یہ ہیں آج کے ادیب ۔چوری اور سینہ زوری اب سمجھ آتا ہے ۔

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: