Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بے معنی زندگی

by دسمبر 15, 2017 بلاگ
بے معنی زندگی
Print Friendly, PDF & Email

زندگی جب بےمعنی لگنے لگے تو سمجھ جائیں کہ کہیں نہ کہیں کچھ غلط ضرور ہے۔ جو آپ کو بے چین اور پریشان کر رہا ہے۔ اپنے روزمرہ کے امور کا جائزہ لیں گے تو آپ کو محسوس ہو گا کہ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے کہیں کوئی جھول نہیں۔ لیکن جیسے ہی آپ اپنے اندر جھانکیں گے تو بہت سی گرہیں لگی ملیں گی۔ جو نجانے کب سے الجھی ہوئی پڑی ہیں اور آپ کے پاس ان کو کھولنے کا وقت تو دور کی بات ہے سوچنے تک کا وقت میسر نہیں۔ کیونکہ کبھی ذہن اس جانب گیا ہی نہیں۔ ذہن اور سوچ بھی تب ہی یکجا ہوتے ہیں جب کسی بات اور چیز پر غوروفکر کیا جائے۔ بدقسمتی سے ہم لوگ غوروفکر کرنے سے کوسوں دور بھاگتے ہیں، جیسے کوئی موذی مرض نہ لگ جائے۔ ہمارے ہاں سوچنے اور غوروفکر کے الفاظ کو پریشانی سے ماخوذ کیا جاتا ہے۔ جو کہ سراسر جاہلانہ خیال ہے۔ اگر آپ اپنے حالات و واقعات سے مطمئن نہیں ہیں اور کسی پریشانی میں مبتلا ہیں تو آپ کو اپنے اندر جھانکنے کی اشد ضرورت ہے۔

اپنے اعمال کا جائزہ لیں، عبادات دیکھیں کہیں نہ کہیں کوئی کمی ضرور دکھائی دے گی جو زندگی یوں بے معنی لگنے لگتی ہے۔ زندگی تو خالق کا سب سے قیمتی اور حسین تحفہ ہے۔ پھر یہ ذندگی بے معنی کیسے ہو سکتی ہے؟ جب دینے والی ذات اتنی عظیم ہے اور اس ذات نے کائنات کی کوئی چیز بے معنی بنائی ہی نہیں پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ زندگی کا کوئی معنی نہیں لگتا۔ یہ معنی تو آپ کو ڈھونڈنا ہے اور جیسے ہی اپنے جھانکیں گے تو آپ کو اپنے لاتعداد ایسے اعمال نظر آئیں گے۔ جو آپ کے منتظر بیٹھیں ہوں گے کہ کب آپ ان کو درست کر کے صحیح سمت کا رخ دکھاتے ہیں۔ ان اعمال میں سب سے بڑی بات آپ کا حسن اخلاق یوں پڑا ملے گا جیسے چاند کالی گھٹاؤں میں چھپا ہوا ہو اور تاریکی کے چھٹنے کا انتظار کر رہا ہو کہ کب یہ کالی گھٹائیں رستہ دیں اور کب میں اپنی چمک سے رات کے اندھیرے کو روشنی دوں۔ یوں ہی آپ کا اخلاق بھی آپ کی توجہ کا منتظر ہوتا ہے کہ کب اسے رستہ ملے اور وہ آس پاس اپنی مٹھاس سے سب کے دلوں میں بسیرا کرے۔

آپ کے اندر وہ سب جو کہیں چھپ کر روپوش ہوا ہے اس کی کھوج لگائیں اور اس کی آواز سنیں۔ جو بے معنی لگتا ہے اس کے معنی بھی سمجھ آنے لگیں گے۔ بے معنی کچھ نہیں ہوتا بس یہ ہمارے ذہن کا کیڑا ہوتا ہے جو پھنس جائے تو مشکل سے نکلتا ہے۔ اس کیڑے کو نکالنے کا آسان طریقہ یہی ہے کہ جو بات سمجھ نہ آئے اور جو بے معنی لگے اس کے معنی تلاش کریں اور پھر جائزہ لیں پہلے اور اب میں کیا فرق ہے۔ پہلے جو بات بے معنی تھی اب وہ معنی لگے لگی ہے۔فرق صرف اتنا سا ہے کہ پہلے آپ نے غوروفکر نہیں کیا کہ بےچینی کی وجہ کیا رہی ہے۔ اب جب غوروفکر کیا تو اس بات کے معنی بھی سمجھ آ گئے اور پریشانی بھی کم ہو گئی۔ جب بھی زندگی بے کار اور بے معنی لگنے لگے تو اس کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

جب سمجھ جائیں تو اس پاک ذات کا شکر ادا کریں جس نے ہر چیز کو کسی نہ کسی مقصد کے تحت پیدا کیا ہے۔ کوئی بھی چیز بے معنی نہیں بنائی۔ لیکن انسان کو عقل وشعور دے کر ان چیزوں اور باتوں پر غور کرنے کی صلاحیت عطا کی ہے۔ لہذا اپنی پریشانی اور بے چینی کو سکون میں بدلنے کے لئے اپنے اندر کی دنیا میں جائیں اور دیکھیں کہاں کیا غلط ہے اور اس غلط کو کیسے درست کیا جا سکتا ہے۔

Views All Time
Views All Time
250
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   مفلوج تعلیمی پالیسی اور حکومتی سنجیدگی - محمد نعمان کاکاخیل
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: