Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

افسانے کا شکوہ

by دسمبر 8, 2017 بلاگ
افسانے کا شکوہ
Print Friendly, PDF & Email

بہار کے موسم میں جہاں بھی دیکھو وہیں پہ خوشنما اور رنگ برنگے پھولوں نے بسیرا کیا ہوتا ہے۔ فضا مہکتی ہوئی کلیوں کی خوشبو سے رچی ہوتی ہے۔ کہیں پر جشن بہاراں کا اہتمام کیا جاتا ہے اور کہیں پر ادبی محفلوں کا انعقاد ہوا ہوتا ہے۔ اس دفعہ میرا ایک ادبی محفل میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ہر طرف ادب سے وابستہ لوگ دکھائی دے رہے تھے۔ جن میں سے کچھ کتب بینی کے شوقین اپنے پسندیدہ مصنفین سے ملنے کی خواہش لیے آئے تھے۔ کہیں پر بیت بازی کا مقابلہ ہو رہا تھا۔ کہیں پر کتابوں کے اسٹال لگے تھے۔ یہ سب دیکھتے ہوئے میرا گزر ایک میز کے قریب سے ہوا جہاں گرما گرم گفتگو کا آغاز ہوا تھا۔ تھوڑا سا پاس جانے پر معلوم ہوا کہ یہاں پر صنف شاعری، افسانہ، ناول، ڈرامہ اپنے اپنے دکھڑے بیان کر رہے ہیں۔

شاعری کا کہنا تھا کہ میری نازک مزاجی اور حسن و آرائش کے قصیدے سننے کو سب بے تاب ہوتے ہیں۔ کم الفاظ میں جذبات کی ترجمانی کرنا بس میرا کمال ہے۔ ہمیشہ مجھے سراہا جاتا ہے اور داد و تحسین نے نوازا جاتا ہے۔
شاعری ابھی اپنی تعریف بیان کرر ہی رہی تھی کہ ناول بحث میں کود پڑا۔ اور کہنے لگے اب ایسی بھی بات نہیں کہ لوگ شاعری کے پیچھے ہی دیوانے ہیں۔ آج کل میری مانگ سب سے بڑھ کر ہے۔ ہیرو کی چارمنگ پرسنالٹی بس مجھ میں ہی دیکھنے کو ملے گی۔ جتنی خوبصورت ہیروئن میرے پاس ہوتی ہے اور کہیں نہیں ملے گی۔ جس کو دیکھو میرے ہیرو ہیروئین پر جان فدا کرنے کو تیار رہتا ہے۔ حسینائیں آنسو بہا بہا کر ہیرو ہیروئین کے لیے دعا گو ہوتی ہیں۔ لوگ میرے کرداروں میں خود کو دیکھتے ہیں۔ اپنے جذبات کے ٹوٹنے بکھرنے کے کرب کو میرے کرداروں میں ڈھونڈتے ہیں۔ اپنی ہنسی خوشی مجھ میں پنہاں لوگوں میں دیکھ کر اچھا محسوس کرتے ہیں۔ ناول نے فخریہ انداز میں کہا تو سب کی بولتی اس کی سچائی کے سامنے بند ہو گئی۔

یہ بھی پڑھئے:   جوانانِ جنت کے سردار، اِمام حسن المجتبی علیہ السلام ۔ حنان صدیقی

خیر ناول کی اس بات سے میں بھی اتفاق کرتی ہوں کہ ناول کی دلکش دنیا میں ہم کھو کر رہ جاتے ہیں۔ اپنے سپنوں اور خوابوں میں ان ہیرو ہیروئین کی شخصیت کے خاکوں کو مقید کر کے وقتی طور پر حقیقت سے فرار حاصل کر لیتے ہیں۔
اپنوں کے منافقت سے بھرپور رویے ہمیں ان خیالی کرداروں اور مناظر سے محبت کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ میں اپنے خیالوں میں گم تھی کہ اچانک سے مسڑ افسانہ بھی میدان میں کود پڑے۔ اور جذباتی ہو گئے۔ افسانے کا کہنا تھا۔ کہ افسانہ لکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ بات جتنی بھی دقیق اور پیچیدہ معنی والی کیوں نہ ہو۔ اس بات کو چھوٹے سے پیرائے میں مقید کرنا افسانے کا ہی کمال ہے۔اور افسانے کو تخلیق کرنے والوں کی ہمت کو داد دینی چاہئیے جن کو آج تک وہ داد اور خراج نہیں مل سکا جس کے وہ حق دار ہیں۔ آج تک تعریفوں کے جتنے انبار شاعری، ناول اور اصناف کے لگے ہیں۔ افسانے کے حصے میں کم ہی آئے ہیں۔ آخر لوگ میرے ہیرو ہیروئین کو اپنا آئیڈیل کیوں نہیں بناتے۔ حقیقت پر مبنی اور قریب تر چیز کو کیوں اپنانے اور سراہنے کی ہمت نہیں کرتے۔ اگر آپ دلکش نظاروں، نرم مزاجی، حسن کے قصیدے ہی سن کر خوش رہیں گے پھر مجھ میں موجود حقیقت کو کون سمجھے گا۔ میرا مقصد اور پیغام تو معاشرے میں چھپے چہروں کو بے نقاب کرتا ہے۔ لوگ کیوں حقائق سے نظریں چرا کر خوابوں میں رہنا پسند کرتے ہیں شاید اس کی بنیادی وجہ ہمارے اپنے ہی ہیں جن کے رویے ہمیں مصنوعی دنیا میں پناہ لینے میں مجبور کرتے ہیں۔
افسانے نے بہت جامع انداز میں اپنا موقف اور شکوہ سب کے گوش گزار کیا۔

میں آپ کی بات سے اتفاق کرتی ہوں اور آپ کی گفتگو میں خلل ڈالنے کے لیے معذرت خواہ ہوں میں نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ تو سب میری جانب دیکھنے لگے۔ نہیں کو ئی بات نہیں آپ ہی کی بدولت تو آج ہم یہاں ہیں۔ ہمارے قارئین ہی ہمیں سراہتے اور داد سے نوازتے ہیں۔ اچھا آپ کا کیا موقف ہے۔ افسانے نے پوچھا۔ میرے نزدیک سب کی اہمیت اپنی اپنی جگہ بہت زیادہ ہے۔ شاعری کے دم سے محفلوں میں رونق ہے اور جذبات کی ترجمانی کو مٹھاس بھرے لفظوں میں سینچنا شاعری کے دم سے ہی ہے۔ اور ناول ہو یا پھر کوئی اور صنف سب ہی لاجواب ہیں۔ لیکن جہاں تک افسامے کی پذیرائی کی بات ہے تو یہ بات افسانے کی بالکل درست ہے کہ ہم لوگ خیالی دنیا میں پناہ لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جو ہمیں حقیقت سے وقتی فرارحاصل کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ اور قاری وقتی طور پر سکون حاصل کر لیتا ہے لیکن اس کے برعکس افسانے کو بس پڑھ کر چھوڑ دیا جاتا ہے نہ اس کے کرداروں سے کوئی اتنی محبت کرتا ہے نہ ہی کوئی اس میں چھپے درد کو محسوس کرتا ہے۔ بہرحال میں سمجھتی ہوں کبھی کبھی ان افسانے کے کرداروں سے بھی محبت کر لینی چاہئیے اس میں پنہاں پیغام کو بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ جو ہمارے حالات و واقعات کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔ یہی پیغام ہمارے لیے سبق آموز ہوتے ہیں۔ شام کے سائے ڈھل رہے تھے اس کے ساتھ ہی میں نے سب سے اجازت چاہی اس بات کے ساتھ کہ یہ میرا موقف ہے اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت۔ اور اپنی واپسی کی منزل کی طرف قدم بڑھا دیے۔

Views All Time
Views All Time
198
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: