ذوالفقار علی بھٹو سے آخری ملاقات – ظہور دھریجہ

Print Friendly, PDF & Email

آئین پاکستان کے خالق اور منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو جس طرح راستے سے ہٹایا گیا وہ تاریخ عالم میں اپنی نوعیت کا اندوہناک واقعہ ہے ، یہ بھی اپنی جگہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ آئین پاکستان میں آئین شکنی یا آئین کو ختم کر کے مارشل لاء لگانے والے کو ملک و قوم کا غدار قرار دیا گیا ہے اورآئین میں اس کی سزا ’’سزائے موت‘‘ مقرر کی گئی ہے ۔ مگر یہاں عدالتوں نے نظریہ ضروت کے تحت آئین کے غداروں کوں نہ صرف ملک کا سر براہ تسلیم کیا بلکہ ان کو آئین میں ترامیم کی اجازت بھی دی ۔ ہمارے ہاں تیزاب کے ڈرموں میں ڈال کر بچوں کے قاتل کو تو رعایتیں ملتی رہیں مگر ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ جو سلوک ہوا اس کی ایک ہلکی سی جھلک محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے آخری ملاقات کی یاد داشتوں کو قلمبند کر کے قوم کے سامنے پیش کی ہے ۔ وہ لکھتی ہیں !
3اپریل 1979ء کو ایک تیز رفتار جیپ میں ہمیں سہالہ سے راولپنڈی جیل پہنچا دیا گیا۔ جیل کی میٹرن نے میری والدہ اور میری تلاشی لی۔ ایک مرتبہ جب ہم سہالہ کے قید خانہ سے روانہ ہوئیں اور دوسری مرتبہ جب ہم راولپنڈی جیل پہنچیں ۔ ’’ آج تم دونوں اکٹھی کیوں آئی ہو؟‘‘ میرے والد نے کال کوٹھڑی کے دوزخ سے آواز دی۔
میری والدہ نے کوئی جواب نہ دیا۔
’’ کیا یہ آخری ملاقات ہے ؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
اس وقت میری والدہ جواب دینے کی سکت نہ رکھتی تھیں۔
’’ میرا خیال ہے ایساہی ہے۔ ‘‘ میں نے جواب دیا۔
وہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو اشارہ کرتے ہیں جو پاس ہی کھڑا تھا ( یہ لوگ ہمیں پاپا کے ساتھ تنہا چھوڑنے پر کبھی تیار نہیں ہوئے )۔
’’ کیا یہ آخری ملاقات ہے؟ میرے والد پوچھتے ہیں۔ ‘‘
’’ہاں‘‘ جواب میں جیلر کہتا ہے ۔ حکومت کا پیغام دیتے ہوئے شرمسار محسوس ہوتا ہے۔
’’ کیا تاریخ کا تعین ہو گیا ہے ؟‘‘
’’کل صبح ‘‘ جیل سپرنٹنڈنٹ کا جواب ہے۔
’’ کتنے بجے؟‘‘
’’ جیل قواعد کے مطابق صبح پانچ بجے۔ ‘‘
’’ یہ اطلاع تمہیں کب ملی ؟‘‘
’’ کل رات ‘‘ اس نے رکتے رکتے جواب دیا۔
میرے والد اسے نظر بھر کے دیکھتے ہیں۔
’’اپنے اہل و عیال سے ملاقات کا کتنا وقت دیا گیا ہے ؟‘‘
’’نصف گھنٹہ ‘‘۔
’’ جیل قواعد کے مطابق ہمیں ایک گھنٹہ ملاقات کا حق ہے۔ ‘‘ وہ کہتے ہیں
’’ صرف نصف گھنٹہ ‘‘ سپرنٹنڈنٹ دہراتا ہے۔ ’’ یہ میرے احکامات ہیں۔ ‘‘
’’غسل اور شیو کرنے کیلئے انتظامات کرو۔ ‘‘ میرے والد اسے کہتے ہیں۔ دنیا خوبصورت ہے ، اسے میں اسی حالت میں الوداع کہنا چاہتا ہوں۔ ‘‘
’’ صرف نصف گھنٹہ ‘‘ اس شخص سے ملاقات کیلئے ۔۔۔ صرف نصف گھنٹہ و مجھے زندگی کی ہر شئے سے زیادہ عزیز ہے۔ سینے میں درد سے گھٹن محسوس ہوتی ہے۔ مجھے رونا نہیں چاہیے۔ مجھے اپنے ہوش بھی نہیں کھونے چاہئیں کیونکہ اس طرح میرے والد کی اذیت بڑھ جائے گی۔
وہ فرش پر پڑے گدے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کی کوٹھڑی میں اب صرف یہی فرنیچر باقی رہ گیا ہے ۔ جیل حکام کرسی اور میز لے جا چکے ہیں۔ چار پائی بھی وہاں سے اٹھائی جا چکی ہے۔ میگزین اور کتابیں جو میں پاپا کیلئے لاتی رہیں تھی وہ میرے حوالے کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ’’انہیں لے جاؤ، میں نہیں چاہتا یہ لوگ میری کسی چیز کو ہاتھ لگائیں۔ ‘‘
وہ چند سگار جوان کے وکلاء وہاں چھوڑ گئے تھے۔ میں آج شب کیلئے صرف ایک رکھ لیتا ہوں ۔ شالیمار کو لون کی شیشی بھی رکھ لیتے ہیں۔ وہ اپنی انگوٹھی بھی مجھے دینا چاہتے ہیں لیکن میری والدہ انہیں کہتی ہیں ’’ اسے پہنے رکھیں ‘‘۔ وہ کہتے ہیں ’’ اچھا ابھی میں رکھ لیتا ہوں لیکن بعد میں بینظیر کے حوالے کر دی جائے۔ ‘‘
’’ میں نے ایک پیغام باہر کی دنیا تک پہنچا دیا ہے۔ ‘‘ میں نے بہت آہستہ آہستہ انہیں بتایا (جیل کے حکام میری آواز سننے کی کوشش کرتے ہیں۔
میں تفصیلات بتاتی ہوں، وہ اطمینان محسوس کرتے ہیں ۔’’ یہ سیاست کے اسرار و رموز میں ماہر ہو چکی ہے‘‘ ان کے چہرے کے تاثرات سے ظاہر ہوتا ہے ۔ موت کی کوٹھڑی میں روشنی مدھم سی ہے۔ میں انہیں صاف طور پر نہیں دیکھ سکتی۔ اس سے قبل ہر ملاقات کوٹھڑی میں ان کے پاس بیٹھ کر ہوتی رہی لیکن آج ایسانہیں ہے۔ کوٹھڑی کے باہر دروازے کی سلاخوں کے ساتھ میں اور میری والدہ سکڑ کر بیٹھی ہوئی ہیں۔ باتیں کھسر پھسر کے انداز میں کرتے ہیں۔ ’’ دوسرے بچوں کو میرا پیار دینا ‘‘ وہ میری ممی سے کہتے ہیں۔ ’’ میر، سنی اور شاہ کو بتانا میں نے ہمیشہ ایک اچھا باپ بننے کی کوشش کی ہے اور میری خواہش ہے کہ کاش انہیں بھی الوداع کہہ سکتا‘‘ میری والدہ سر ہلاتی ہیں ، منہ سے کچھ نہیں بول سکتیں۔
’’ تم دونوں نے بہت تکالیف اٹھائی ہیں۔‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’ وہ آج مجھے قتل کرنے جا رہے ہیں۔ میں تمہیں تمہاری مرضی پر چھوڑتا ہوں۔ اگر چاہو تو پاکستان سے اس وقت تک باہر چلے جاؤ جب تک آئین معطل ہے اور مارشل لاء نافذ ہے۔ اگر تمہیں ذہنی سکون چاہیے اور زندگی نئے سرے سے گزارنا چاہتی ہو تو یورپ چلی جاؤ۔ میری طرف سے اجازت ہے۔ ‘‘
(ہمارے دل ٹوٹ رہے ہیں ) ’’ نہیں نہیں ۔ ‘‘ ممی کہتی ہیں۔ ’’ ہم نہیں جا سکتے۔ ہم کبھی نہیں جائیں گے۔ جرنیلوں کو کبھی یہ تاثر نہیں دیں گے کہ وہ جیت چکے ہیں۔ ضیاء نے انتخابات کا دوبارہ پروگرام بنایا ہے۔ اگرچہ کوئی نہیں جانتا کہ وہ ایساکرنے کی جرأت بھی کرے گا یا نہیں۔ ہم باہر چلی جائیں تو پارٹی کی رہنمائی کیلئے کوئی نہیں ہوگا اور یہ وہ پارٹی ہے جس کی آپ نے بنیاد رکھی اور پروان چڑھایا۔ ‘‘
’’ اور تم پنکی ! میرے والد پوچھتے ہیں۔
’’ میں کبھی نہیں جا سکتی ۔‘‘ میرا جواب ہے۔
وہ مسکراتے ہیں ’’ میں بہت خوش ہوں۔ تم نہیں جانتی مجھے تم سے کتنا پیار ہے۔ ‘‘
’’ تم میری لعل ہو اور ہمیشہ ہی رہی ہو۔‘‘
’’ وقت ختم ہو چکا ۔ ‘‘ سپرنٹنڈنٹ پکارتا ہے۔ ’’ وقت ختم ہو چکا۔ ‘‘ میں سلاخوں کو پکڑ لیتی ہوں۔ ’’ برائے مہربانی کوٹھڑی کا دروازہ کھول دو۔ ‘‘ میں اسے کہتی ہوں۔ ’’ میں اپنے پاپا کو الوداع کہنا چاہتی ہوں۔ ‘‘
سپرنٹنڈنٹ انکار کر دیتا ہے۔ میں دوبارہ التجا کرتی ہوں۔
’’ میرے والد پاکستان کے منتخب وزیراعظم ہیں۔ میں ان کی بیٹی ہوں۔ یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔ مجھے ان سے مل لینے دو۔ ‘‘
سرنٹنڈنٹ انکار کر دیتا ہے۔ سلاخوں کے درمیان سے میں اپنے والد کے جسم کو چھونے کی کوشش کرتی ہوں۔ وہ اس قدر نحیف و نا تواں ہو چکے ہیں ۔ ملیریا ، پیچس اور نا کافی خوراک کھانے کی وجہ سے جسم بالکل نحیف اور باریک ہو چکا ہے لیکن وہ سیدھا اُٹھ بیٹھتے ہیں اور میرے ہاتھ کو چھو لیتے ہیں۔
’’ آج شب ملائم دنیا سے آزاد ہو جاؤں گا۔ ‘‘ چہرے پر ایک چمکتی روشنی لیے کہتے ہیں۔
’’ میں اپنی والدہ اور والد کے پاس چلا جاؤں گا۔ میں لاڑکانہ میں اپنے اجداد کی زمینوں کی طرف واپس جا رہا ہوں تاکہ ا س سر زمین کا اس کی خوشبو اور اس کی فضا کا حصہ بن جاؤں۔ ‘‘
’’ خلق خدا میرے بارے میں گیت گائے گی۔ میں اس کی کہانیوں کا جاوداں حصہ بن جاؤں گا۔ ‘‘
وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں’’ لیکن لاڑکانہ میں آج کل بہت گرمی ہے۔ ‘‘
’’ میں وہاں ایک سائبان تعمیر کر دوں گی۔ ‘‘ میں بمشکل کہہ سکی۔ جیل حکام آگے بڑھتے ہیں۔ ’’ الوداع پاپا!‘‘ میں والد کی طرف دیکھ کر پکار اٹھتی ہوں اور میری ممی سلاخوں میں سے ان کو چھو لیتی ہیں ۔ ہم گرد آلود صحن سے گزرتے ہیں۔ میں مُڑ کر پیچھے دیکھنا چاہتی ہوں لیکن حوصلہ نہیں پڑتا۔ مجھے معلوم ہے میں ضبط نہیں کر سکوں گی۔ ’’ ہم جب پھر ملیں گے ، اس وقت تک خدا حافظ‘‘۔ مجھے ان کی آواز سنائی دیتی ہے۔

Views All Time
Views All Time
363
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   شہرِ وبال، احساسِ زیاں کی موت، اور میڈیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: