Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ایک کالم، کالم نگاروں کی خدمت میں – ظہوردھریجہ

by فروری 2, 2017 کالم
ایک کالم، کالم نگاروں کی خدمت میں – ظہوردھریجہ
Print Friendly, PDF & Email

وزیر اعظم برسوں بعد ملتان تشریف لائے ۔ وسیب کے لوگوں کی تمنا ہے کہ وزیراعظم ان کے مسائل کی طرف توجہ کریں ۔ مگر ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان مسائل سے ان کو آگاہ کون کرے گا ؟ یہ ذمہ داری ان کی جماعت کے قائدین کے ساتھ ساتھ ارکان اسمبلی اور منتخب عوامی نمائندوں کی ہے مگر بد قسمتی سے ہمارے وسیب کے عوامی نمائندوں میں یا تو اتنی ہمت نہیں یا ان کی اس طرح کی سوچ یا اپروچ نہیں کہ وہ وسیب کے دکھوں سے وزیراعظم کو آگاہ کر سکیں۔ مجھ جیسے وسیب کے کروڑوں باشندوں کی آخری امید میڈیا ہے ، اس لئے یہ عریضہ آپ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں کہ خدارا وزیر اعظم اور دوسرے مقتدر اصحاب کی خدمت میں وسیب کی محرومی کا مقدمہ پیش کریں ۔ اس کے لئے وسیب کے کروڑوں افراد آپ کے دعاگو اور شکر گزار ہونگے ۔
* سرائیکی صوبے کی تحریک قریباً نصف صدی سے سرائیکی وسیب میں جاری ہے ۔ وسیب کے لوگ نہ تو علیحدگی پسند ہیں اور نہ ہی ملک دشمن ۔ ان حالات میں جب کہ خود کو بانیانِ پاکستان کی اولاد کہنے والوں کی طرف سے پاکستان مردہ باد اور کچھ علیحدگی پسندوں کی طرف سے آزادی کے نعرے سنائی دیتے ہیں تو سرائیکی وسیب کے لوگ وفاق پاکستان کا حصہ بننے کے لئے بے تاب ہیں ۔ مگر افسوس کہ ان کی بے تابی کی قدر افزائی نہیں ہو رہی ۔ سرائیکی صوبہ سرائیکی وسیب کے کروڑوں افراد کے علاوہ وفاق پاکستان کی بھی ضرورت ہے کہ 62 فیصد آبادی کا ایک صوبہ اور 38 فیصد آبادی کے تین صوبے ۔ وفاق کے عدم توازن کی وجہ سے صرف سرائیکی وسیب ہی نہیں چھوٹے صوبے بھی پنجاب سے نالاں احساس محرومی کا شکار ہیں اور ایوانِ بالا یعنی سینٹ میں خود پنجاب کا بھی استحصال ہو رہاہے کہ 62 فیصد کو سینٹ میں محض 25 فیصدنمائندگی حاصل ہے جبکہ 38 فیصد 75 فیصد نمائندگی حاصل کئے ہوئے ہے ۔ مزید برآں پنجاب کے وہ کروڑوں افراد، جن کا پنجاب کے دیو ہیکل حجم میں کوئی کردار نہیں یا پھر تخت لاہور کے استحصالی رویئے اور توسیع پسندانہ عزائم میں کوئی شیئر نہیں ، اس کے باوجودسرائیکی قوم اور چھوٹے صوبوں کے غیض و غضب کا شکار ہونا ان کے لئے تکلیف دہ بات ہے ۔
* سرائیکی وسیب میں تعلیم ، صحت اور روزگار کے مسائل نے گھمبیر شکل اختیار کر لی ہے ۔ سرائیکی وسیب میں اناج کے گودام بھرے ہیں مگر پیٹ خالی ہیں ۔ بے روزگاری کے باعث وسیب میں خود کشیوں کی شرح سب سے زیادہ ہے ۔ بچے برائے فروخت کے بورڈ بھی سرائیکی وسیب میں سب سے زیادہ نظر آتے ہیں ۔ تعلیمی سہولتیں نہ ہونے اور تعلیمی اخراجات کی استطاعت نہ ہونے کے باعث وسیب کے غریب لوگ اپنے بچوں کو مدارس میں بھیجتے ہیں اور پھر وہ بچے دہشت گردی کی آگ کا ایندھن بنا دیئے جاتے ہیں ۔ وسیب کے پھول جیسے بچے دہشت گردی کی بھینٹ بھی چڑھا دیئے جاتے ہیں اور پھر مقتدر طبقوں کی طرف سے طعنہ بھی دیا جاتا ہے کہ سرائیکی خطہ دہشت گردوں کا سپلائی مرکز ہے ۔ ہماری درخواست ہے کہ دہشت گردی کے ساتھ ساتھ اس کے اسباب کو بھی ختم کیا جائے ۔
* سرائیکی وسیب میں بہت سے علاقے ایسے ہیں کہ انسان اور حیوان ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے ہیں ۔سرائیکی وسیب کے صحرائے تھل اور چولستان میں آج بھی لوگ پیاس سے مر جاتے ہیں ۔ حکمرانوں نے سرائیکی وسیب کو بیگار کیمپ کے ساتھ ساتھ شکار گاہ بھی بنا دیا ہے کہ چولستان کے بعد تھل اور دمان کے بہت سے علاقے عرب شیوخ اور عیاش شہزادوں کو شکار کے طور پر الاٹ کر دیئے ۔ وہ تمام علاقے اب نو گو ایریا شمار ہوتے ہیں ۔ وہ صحرائے چولستان جہاں 17 سال بیٹھ کر عظیم صوفی شاعر خواجہ غلام فرید نے محبت ، امن اور پیار کے نغمے گا ئے ، آج وہ علاقے مقتل گاہ بنے ہوئے ہیں آج وہاں کسی بھی ذی روح کو کوئی چین اور سکون حاصل نہیں ۔ اور نہ ہی ان کی زندگی محفوظ ہے ۔ شکار پر سپریم کورٹ کی طرف سے لگائی گئی پابندی کے باوجود عمل درآمد نہیں ہو رہا ۔ ان عرب شیوخ کے ساتھ حکمرانوں کے ذاتی مراسم ہیں اور عرب شیوخ کو سروسز مہیا کرنے والوں کی بھی حکمرانوں کے درباروں میں رسائی حاصل ہے ۔ لیکن ہماری سرائیکی ماں دھرتی اجڑ رہی ہے 145 تباہ ہو رہی ہے 145 خدارا ! ہماری اس مقدس سرزمین کو بیگار کیمپ اور شکار گاہ نہ بننے دیجئے اور اس ظلم کے خلاف آواز بلند فرمایئے ۔
* سرائیکی وسیب کو سپت سندھو یعنی سات دریاؤں کی سرزمین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے مگر دریاؤں کی سرزمین کے لوگ آج خود پیاسے ہیں ۔ دریائے ستلج کی فروخت کے بعد سرائیکی وسیب میں ایک اور چولستان وجود میں آ رہا ہے ۔ زیر زمین پانی کا لیول بہت نیچے چلا گیا ہے اور زیر زمین پانی کڑوا ہو چکا ہے۔ پینے کے پانی کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔ پینے کے غیر شفاف پانی اور ماحولیاتی آلودگی سے سرائیکی وسیب میں بیماریوں نے سر اٹھا لیا ہے۔ شوگر ملز ، کھاد کے کارخانے ، مظفر گڑھ بجلی گھر وسیب میں موت اور بیماریاں بانٹ رہے ہیں ۔ انسانیت زمین میں دھنستی جا رہی ہے اور ڈاکٹروں کے محلات بلند ہو رہے ہیں ۔ سرکاری ہسپتالوں میں کوئی سہولت نہیں ۔ وزیراعظم نے ملک میں110 ارب روپے کے 39 جدید ہسپتال بنانے کا اعلان کیا ہے مگر تاحال سرائیکی وسیب کے حصے میں ایک بھی ہسپتال نہیں آیا ، ضرورت اس بات کی ہے کہ وسیب کو ان ہسپتالوں میں سے آبادی کے مطابق حصہ ملنا چاہئے ۔
* این ایف سی ایوارڈ میں سے سرائیکی وسیب کو حصہ نہیں ملتا، صوبائی ایوارڈ کی ضرورت ہے تاکہ صوبے تمام اضلاع میں مساویانہ طور پر این ایف سی ایوارڈ جاری کریں ۔ سرائیکی وسیب میں ٹیکس فری انڈسٹریل زون کی ضرورت ہے تاکہ علاقہ ترقی کرے اور لوگوں کو روزگار حاصل ہو ۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ سرائیکی وسیب میں خام مال اور افرادی قوت وافر مقدار میں موجود ہے۔ روزگار نہ ملنے کے باعث کروڑوں لوگ کراچی ، اسلام آباد، کوئٹہ اور دوسرے بڑے شہروں میں چلے گئے ، ان کی جگہ لینڈ مافیا ناجائز الاٹیز اور دوسرے قبضہ گیر لے رہے ہیں جس کے باعث سرائیکی وسیب کے لوگ اقلیت میں تبدیل ہو کر اپنے ہی گھر میں مہاجر بنتے جا رہے ہیں ۔ سرائیکی وسیب کے اپنے وسائل اتنے زیادہ ہیں کہ اگر وہ وسیب کے لوگوں پر خرچ ہوں تو کسی طرح کے مسائل پیدا نہ ہوں ۔
* انٹری ٹیسٹ کے نام پر فراڈ ہوتاہے 1455 روجھان کالج اور ایچ ای سن کالج کے طالب علموں کا مقابلہ کرانا انصاف کا قتل ہے ۔ سی ایس ایس میں سندھ اربن اور سندھ رورل کی طرح الگ کوٹہ ہونا چاہئے اور سی ایس ایس میں پنجابی ، سندھی ، پشتو اور بلوچی مضمون کی طرح سرائیکی مضمون بھی شامل ہونا چاہئے کہ اب سرائیکی میٹرک سے شروع ہو کر پی ایچ ڈی تک پڑھائی جا رہی ہے۔ جو سہولت دوسرے مضامین پڑھنے والوں کو حاصل ہے ، وہ سہولت سرائیکی طالب علم کو نہ دینا غیر آئینی ہی نہیں انصاف کا قتل بھی ہے ۔ سرائیکی وسیب کے لئے سی ایس ایس کا الگ کوٹہ نہ ہونے کی بناء پر آج پورے سرائیکی وسیب سے ایک بھی ڈی سی او، ڈی پی او ، ایڈیشنل کمشنر، کمشنر یا سیکرٹری نہیں ۔ وسیب کے لوگوں کو محتاج بنا دیا گیا ہے۔ تمام اختیارات باہر کے لوگوں کو حاصل ہیں ۔ ملازمتوں اور وسائل پر ان کا قبضہ ہے ۔ ریونیو بورڈ اور پبلک سروس کمیشن سب کچھ ان کے قبضے میں ہے ۔ فوج ، عدلیہ ، انتظامیہ اور فارن سروس میں سرائیکی وسیب کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے ، جس سے وسیب میں صرف احساس محرومی ہی نہیں ۔خوف اور تشویش کی خطرناک صورتحال پیدا ہو چکی ہے ۔ تاریخ کا مطالعہ کریں تو محرومی کا زخم ہی جغرافیے بدلنے کا باعث بنا ، اہل قلم سے دردمندانہ درخواست ہے کہ سرائیکی وسیب کا یہ دکھڑا حکمرانوں تک پہنچائیں ۔
* اس سال اردو لغت کی طباعت کے لئے 500 کروڑ روپے رکھے گئے جو کہ پاکستانی زبانوں کی حق تلفی کے مترادف ہے۔ اتنی رقم پاکستانی زبانوں کو بھی ملنی چاہئے اور جس طرح لاہور میں پنجابی زبان کی ترقی کیلئے اربوں روپے کی لاگت سے ادارہ قائم کیاگیا ہے 145 اسی طرح سرائیکی زبان کی ترقی کیلئے بھی وسیب میں ادارہ قائم ہونا چاہئے ۔ شناخت اہم عنصر ہے کہ سرائیکی مزدور بلوچستان اور کراچی میں پنجابی کا نام دیکر قتل ہوئے حالانکہ وہ پنجاب کے ہی استحصال کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑ کر مزدوری کے لئے وہاں جانے پر مجبور ہوئے تھے ۔
* سرائیکی وسیب میں موٹر ویز نہیں بنائی گئیں ، ملتان ، میانوالی ، بلکسر موٹر وے براستہ مظفر گڑھ ، بھکر ، ڈی آئی خان کو سی پیک منصوبے کا حصہ بنایا جائے اور سی پیک منصوبے کے تحت انڈس ہائی وے کو آٹھ رویہ بنایا جائے کہ اس سے پشاور ، کراچی کے درمیان 450 کلومیٹر فاصلہ کم پڑتا ہے ۔ اسی طرح بہاولنگر ، بہاولپور ، رحیم یارخان موٹر وے کو بھی سی پیک کا حصہ بنا کر انہی جگہوں پر صنعتی بستیاں آباد کی جائیں تاکہ سرائیکی خطہ سی پیک منصوبے سے محروم نہ رہے ۔ سرائیکی وسیب کے کروڑوں لوگ امید کرتے ہیں کہ ہمارے کالم نگار وسیب کے ان سلگتے مسائل پر بات کریں گے اور وسیب کے لوگوں سے دعائیں لیں گے ۔

Views All Time
Views All Time
286
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ایک ’’مبینہ ‘‘کتاب کا سیاپا
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: