Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

بے نظیر کی تصاویر سے ریحام کی کتاب تک

Print Friendly, PDF & Email

پنجابی کی گالیوں،منٹو کے افسانوں اور مسلم لیگ( ن) کے چند قائدین کی تقریروں میں سے اگر عورت کو نکا ل دیا جائے تو صرف کومہ ، فُل سٹاپ اور نا زیبا اشارے ہی باقی بچیں گے ۔ بھٹو نے ڈرائنگ روم کی سیاست کو گلی محلوں تک پہنچا دیا ، جبکہ اسّی کی دہائی میں اسے کھینچ کر کوٹھے پر چڑھا دیا گیا۔ اس دور میں بے نظیر بھٹو اور نصرت بھٹو کی ہیلی کاپٹر سے پھینکوائی جانے والی قابل اعتراض تصا ویراسی’’ کوٹھائی سیاست‘‘ کی ایک کڑی تھی۔( علامہ ماچس ہر اُس تصویر کو قابل اعتراض سمجھتے ہیں جو اپنی ذاتی اہلیہ کے سامنے نہ دیکھی جا سکے )۔ جمائمہ خان پر مقدمہ اور عائشہ گلالئی کے الزامات تک آتے آتے بات اب ریحام خان کی کتاب تک جا پہنچی ہے ۔ مظفر گوند کے خیال میں مسلم لیگ (ن) کی سیاست میں سے اگر ان خواتین کا ذکر نکال دیا جائے تو باقی صرف چند سڑکیں ، کچھ انڈر پاس اور ایک موٹر وے ہی رہ جاتی ہے ۔

جن احباب کے کانوں تک کتاب کی بھنک پہنچی ہے ان کا یہی کہنا ہے کہ جیسے مغرب میں کئی فلموں کے اشتہارات پر لکھا جاتا ہے ’’ بالغوں کے لئے ‘‘۔ اس کتاب کے سرورق پر بھی ضرور لکھنا چاہئیے ’’ سیاسی نا بالغوں کے لئے ‘‘۔ کچھ بچے اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے بالغ ہو جاتے ہیں لیکن کئی لیڈر تیس پینتیس سال کی سیاسی زندگی گزار کے بھی بالغ النظر نہیں ہوتے ۔اُن کی مشتاق نظریں حریف پارٹی میں کسی نہ کسی صنفِ مخالف و نازک کو تلاش کر لیتی ہیں۔ یہ کسی مرد کا بھی پھوُلا ہواپیٹ دیکھ لیں تو میٹر نٹی ہوم جانے کا مشورہ بڑی سنجیدگی سے دیتے ہیں ۔ ان کی تقاریر سُن کر صاف پتہ چلتا ہے کہ جس کُرسی پر بیٹھ کر تقریر لکھی گئی تھی انگریزی میں اُسے کموڈ اور اردو میں پتہ نہیں کیا کہتے ہیں ۔

سیانے لوگ کہتے ہیں بھانڈ کی جگت ، فقیر کی گالی ، اور سیاستدان کے الزامات کو سنجیدہ نہیں لینا چاہئیے ۔ دیکھا جائے تو ریحام خان کی کتاب دنیا کی پہلی کتاب ہو گی جس کی تقریب رونمائی اشاعت سے پہلے ہو رہی ہے ( مظفر گوند اسے تخریب رونمائی کہتا ہے)۔ کتاب اتنی چٹخارے دار لگتی ہے کہ اس کا نام Tell-Allکی بجائے ’’املی بیگم ‘‘ہونا چاہئیے۔ کتاب کی صورت میں رائی اور املی کا جو ملا جُلا پہاڑ کھڑا کیا گیا ہے، قریب الزچگی خواتین دل خراب ہونے کی صورت میں صفحے چاٹ کرتسکین قلب کر سکتی ہیں۔ مسلم لیگی قائدین تو ابھی سے چندجملے چاٹ چاٹ کر پٹاک پٹاک کی آوازیں نکال رہے ہیں۔ وسیم اکرم کی مرحوم و مغفور اہلیہ بارے جو کچھ لکھا گیا ( استغفر اللہ ) ، سعادت حسن منٹو بھی پڑھ لے، تو اپنی کتابیں پھینک کر ریحام خان سے بیعت ہو جائے ۔ کیا عجب عصمت چغتائی زندہ ہوتیں تو یہی سوچتیں کہ اگر عمران خان سے شادی کے بعد ایسی بلند پایہ Adultکتاب لکھی جا سکتی ہے ، تو ایک بار خان سے بھی شادی کر لینے میں کیا حرج ہے ؟

یہ بھی پڑھئے:   اساں جان کے میچ لئی اکھ وے - رضی الدین رضی

ریحام خان نے کتاب لکھ کر طلاق کی بھڑاس نکالی یا ڈالروں کی آس میں منہ کھولا ، اس بار ے علامہ ماچس فرماتے ہیں کہ بھڑاس اور آس بیک وقت پوری ہو جائے تو بیچ میں سے سکینڈل نکلتا ہے جس کی قیمت مضروب علیہ یعنی مخالف پارٹی کے سیاسی حالات و افواہات پر منحصر ہے۔ سر پہ کسی بڑے کا ہاتھ ہو تو پانی سے بھی دئیے جل جاتے ہیں۔ مذکورہ کتاب کسی بھارتی پبلشر کے زیر سایہ ’’ چھپاہت‘‘ کے مرحلے سے گزر رہی ہے ۔ جدیدبھارتی فلموں میں مردو عورت کے تعلقات کی جس باریکی سے وضاحت کی جاتی ہے، ان باریکیوں سے شادی کی سلور جوبلی منانے والے بھی واقف نہیں ہو تے۔شاید اسی لئے بھارتی پبلشر کا انتخاب کیا گیا ہے ۔ مسلم لیگ (ن)کو بھی ایسی کتاب کی اشد ضرورت تھی کہ کتاب کے مندرجات بمعہ صفحہ نمبر رٹ کے، لہجے میں کڑواہٹ شامل کرلی جائے تو ان کے قائدین تقریر لکھنے کے جھنجھٹ سے نکل آئیں گے ۔ جیسے صفحہ نمبر بہتر، لائن نمبر پانچ پر ریحام خان لکھتی ہیں’’ عمران خان مجھ سے زیادہ اپنے کُتے شیرو سے پیار کرتے تھے ‘‘۔( علامہ ماچس فرماتے ہیں شاید ریحام کو یہ گلہ بھی رہا ہو کہ انہیں کُتے جیسی محبت کیوں نہیں دی جاتی)۔ویسے نسلی کُتا رکھنے کے شوقین اپنے کُتے کے اس قدر مداح ہو تے ہیں کہ کُتا کہیں ساتھ لے جائیں تو خود سے پہلے کُتے کا تعارف کرا دیتے ہیں ۔شاید اس کا مقصد یہی ہو کہ وہ کُتے کی بھی اپنے جیسی عزت چاہتے ہیں ۔

تو بات چل رہی تھی مسلم لیگی قائدین کی سیاسی تقریروں کی۔ کتاب کے اگر تین چار سو صفحات بھی ہوئے تو سال بھر کی تقریروں کے لئے کافی مواد نکل آئے گا ۔ البتہ نازیبا اشارے اور القاب انہیں خود سے ڈالنے ہوں گے ۔جو لیڈر منہ سے جھاگ بھی نکال سکیں انہیں میڈیا کے Talk Showsمیں لازم مدعو کیا جائے گا ۔ علامہ ماچس کا فرمانا ہے کہ ایک دن کے ٹی وی شوز میں سیاستدانوں کے منہ سے جتنی جھاگ برآمد ہوتی ہے ، سب کو جمع کر لیا جائے ، تو تین چار سو بندو ں کی شیو آ سانی سے کی جا سکتی ہے ۔یوں بھی اس کتاب نے شائع ہونے سے پہلے ہی سیاست میں جتنی گرما گرمی پیدا کر دی ہے ، ہمیں یقین ہے کہ کتاب کا کاغذ اگر پکوڑے لپیٹنے کے لئے استعمال کیا جائے تو پکوڑے دو دن تک گرم رہیں گے ۔ کتاب کا سرورق ابھی ہم نے نہیں دیکھا لیکن ہمارا مشورہ ہے کہ سرورق ایسا ہونا چاہئیے جو جلیبیوں کا شیرہ آسانی سے چُوس لے ۔ اس کے لئے

یہ بھی پڑھئے:   خواب ایک سال کا ہوا - قمرعباس اعوان

سرورق پر کس سیاستدان کی تصویر مناسب رہے گی ، یہ فیصلہ ہم ریحام خان پر چھوڑتے ہیں ۔ علامہ ماچس ہمارے دیرینہ کرم فرما ہیں۔ آپ کسی بھی کتاب کو سونگھ کر بتا سکتے ہیں کہ پڑھنے کے قابل ہے یا بچوں کو ائیر فورس ٹریننگ کے لئے دے دی جائے۔ وہ تو پاؤڈر تک سونگھ کر بتا دیتے ہیں کہ پِت مارہے یا کیڑ ے مار ۔لیکن اس بار ان کی سونگھ درجہ روحانیت تک پہنچ گئی ہے ۔انہوں نے چلتے ٹی وی کو ہی سونگھ کر بتا دیا کہ ریحام خان کی کتاب کا کُل نچوڑیہ ہے’’ شہباز شریف دُنیا کے شریف ترین آدمی ہیں ، نواز شریف جیسا ایماندار اور سخی کوئی نہیں اور ہر رمضان میں شیطان کی جگہ عمران خان کو قید ہو نا چاہئیے‘‘ ۔ہمارا مسلم لیگی قائدین کو مشورہ ہے کہ اگر اس کتاب کی بنیاد پر انہیں اگلے الیکشن میں کامیابی مل جاتی ہے تو کچھ عرصے کے لئے پارٹی کا نام بدل کے مسلم لیگ( ریحام) رکھ لیا جائے۔ پیسہ ہی تو ہر کام کا صلہ نہیں ہوتا.

Views All Time
Views All Time
283
Views Today
Views Today
4

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: