Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

پرسہ

Print Friendly, PDF & Email

لفظ”زینب” زبان پر آتے ہی انسانی ذہن کے دریچوں میں تاریخِ بنی آدم کا ایک سیاہ باب کھل جاتا ہے۔ اپنی تمام تر جراٗت بہادری اور قائدانہ خوبیوں کے ساتھ”زینب” مصائب و آلام کا جوانمردی سے مقابلہ کرنے کا استعارہ ہے۔ ظلمت کدہٗ انسانی میں حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا اوردیگر پاک بیبیوں اور معصوموں پر ڈھائے جانے والے مظالم اغیار کے جبر واستبداد کا خلاصہ نہیں تھے بلکہ آپ سلام اللہ علیہا کے نانا، آقائے دو جہاں حضرت محمد ﷺ کے کلمہ گواُمتیوں اور قرآن کے اُن محافظوں کی سنگ دلی، بے رحمی اور حیوانیت کی طویل داستان تھی۔کربلا کے میدان میں نوکِ سِناں پر قرآن کی تلاوت سے اللہ اور اس کے رسولﷺ کا دین تو قیامت تک کے لئے سربلند ہو گیامگر اس دن سے انسانیت سسکیاں لینے لگی۔صدیوں کی ارتقائی منازل طے کرنے کے بعد حضرتِ انسان مادی ترقی میں اتنا دور نکل گیا کہ پیچھے رہ جانے والی سسکتی ہوئی انسانیت کا کوئی پرسانِ حال نہ رہا یہاں تک کہ انسانیت اپنے آخری دموں کو پہنچ گئی۔انسان نے اپنی تعلیم کے بل بوتے پر اس کائنات کو تو مسخر کر لیا مگر اپنے اندر کے حیوان پر آج تک قابو نہ پا سکا۔

سالِ نو کے آغاز میں ہی 5جنوری کی شام کو قصور میں رونما ہونے والے ایک واقعے نے 10جنوری کوپورے ملک میں اس وقت کہرام برپا کردیاجب الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعے آٹھ سال کی معصوم ننھی زینب کی کوڑے کے ڈھیر پر پڑی ہوئی دربریدہ لاش کی تصویر ملک کے طول عرض میں پھیل گئی۔تفصیل صرف اتنی ہے کہ انسان کے لبادے میں چھپے ایک بھیڑئیے نے اپنی ہوس کی آگ کو وقتی طور پر ٹھنڈا کرنے کے لئے اس معصوم کا انتخاب کیا اور انسانی تاریخ میں ملنے والی درندگی کی تمام مثالوں کو مات دے دی۔ انسانیت کے علمبرداروں کو یہ احساس ہوا کہ انسانیت پر بہت بڑا حملہ ہوا ہے۔ لہٰذا ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے اپنے انداز میں اس المناک اور اندوہناک سانحے کی نہ صرف مذمت کی بلکہ مجرم کو فوری طور پر گرفتار کرکے نشانِ عبرت بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔

یہ بھی پڑھئے:   الیکشن ایک سیٹ سے لڑو

ٹھیک ایک روز بعد 11جنوری کے سورج نے قصور کی سڑکوں پر عوامی احتجاج کا عجب منظر دیکھا۔ غم اور غصے سے بھرپور ہر شخص "اپنی زینب "کیلئے انصاف کا مطالبہ کر رہا تھا۔ اور تو اور، حکمران بھی عوامی مطالبے کی ہاں میں ہاں ملاکر بری الزمہ ہو گئے۔ یہاں تک کہ ہمارے وہ سیاستدان کہ آج سے ایک ماہ قبل ڈیرہ اسماعیل خان کی رہائشی حوا کی بیٹی کے حق میں جن کے منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکلا تھا ، ان کی غیرت بھی جاگنے پر مجبور ہو گئی اور نہ صرف یہ کہ ان کا Twitterاکاؤنٹ بحال ہو گیا بلکہ موصوف پہاڑوں سے اتر کر میدان میں آگئے اور اس طرح ننھی زینب کے خون کا رنگ ابھی پھیکا بھی نہ پڑا تھا کہ سیاست کی سیاہی نے اپنا رنگ دکھا دیا۔

ننھی زینب کی سوشل میڈیا پر لگائی جانے والی تصاویر میں سے ایک زندگی سے بھرپور ہے ۔ جس میں آنے والے روشن کل کی امید ہے۔ دنیا کے ہر جور و ستم کا ڈ ٹ کر مقابلہ کرنے اور اسے شکست دینے کا ولولہ ہے۔ یہاں تک کہ سسکتی ہوئی انسانیت کو پھر سے تازہ دم کرنے کا عزم ، ہمت اور حوصلہ بھی صاف دکھائی دیتا ہے۔جبکہ دوسری تصویر میں دکھائی گئی اس معصوم کی بے حرمت لاش یہ اعلان کر رہی ہے کہ بھیڑیوں، گِدھوں اور خنزیروں کی اس دنیا میں انسانوں کی کوئی جگہ نہیں اور نہ ہی انسانیت کا کوئی کام ۔یہ زینب کی لاش نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو صدیوں سے سسکتی، دم توڑتی انسانیت کی لاش ہے۔انسان اپنے ہی ترقی یافتہ مادی وسائل سے قائم کردہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے چیخ چیخ کر انسانیت کی موت کا اعلان اور تشہیر کر رہا ہے۔گویا اپنی شکست کا اعتراف کر رہا ہے کہ میں نے دنیا کو تو تسخیر کر لیا مگر اپنے اندر کے حیوان کو قابو کرنے میں ناکام رہا۔

یہ بھی پڑھئے:   ابھی قلم کار کو بہت آگے جانا ہے - عقیل عباس جعفری

صدیوں قبل جرات،بہادری اور جوانمردی کا استعارہ "زینب” آج انسانیت کی موت کا استعارہ بن گئی ہے۔آج انسانیت دم توڑ گئی ہے۔ اب ننگِ انسانیت اور ننگِ آدمیت کاراج ہے اور ضمیر مردہ ہو چکے ہیں ۔ آج کسی باپ کی بیٹی کی بے حرمتی نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی ماں سے اس کی راج دلاری کو چھینا گیا ہے۔قصور کی سڑکوں پر نکلنے والا جنازہ ننھی زینب کا نہیں بلکہ انسانیت کا جنازہ تھا ۔ لہٰذا میں کسی کو اُس معصوم کا پُرسہ نہیں دوں گا، بلکہ میراپُرسہ” انسانیت کا پُرسہ "ہے، مردہ ضمیروں کے نام۔

Views All Time
Views All Time
240
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: