کیوبا کا سورج ڈوب گیا۔۔۔ ظفر منہاس

Print Friendly, PDF & Email

castroدنیا بھر کے انقلابیوں کا امام کاسترو نوے سال کی عمر جی کر غروب ہو گیا۔ 
امریکی نواز حکومت کے خلاف نا کام بغاوت پر کاسترو کو موت کی سزا سنا دی گئی اور بعد میں عام معافی دے کر ملک بدر کر دیا گیا۔ میکسیکو میں کاسترو کی ملاقات چے گویرا سے ہوئی اور یہیں سے دو انقلابی اکھٹے ہو کر اٹھے اور لاطینی امریکا میں سرخ انقلاب کی بنیاد رکھی ۔ کیوبا میں کامیاب سرخ انقلاب لایا گیا۔صحت اور تعلیم کی شعبوں میں ایسی تاریخی تبدیلی ہوئی کہ دنیا حیران رہ گئی ۔ کیوبا کی شرح تعلیم بیس فیصد سے بھی کم تھی مگر ایک سال میں اسے اسی فیصد کر دیا گیا۔ 
انقلاب کے بعد کاسترو نے وزارت تعلیم کے سب ذہین بیوروکریٹس کی میٹنگ بلائی اور ان سے شرح تعلیم کو جلدی بہتر کرنے کا پلان پوچھا ۔
سب نے روایتی طریقے اور پلان پیش کئے اور پانچ سال ۔ دس سال اور پچیس سال کے تعلیمی منصوبے کاسترو کے سامنے رکھے اور پچیس سال بعد شرح تعلیم کو ساٹھ فیصد تک لے جانے کا یقین دلایا۔ 
کاسترو نے اپنے دیرینہ دوست اور وزیر صنعت چے گویرا سے مشورہ کیا ۔ چے نے سارے حرام خور بیوروکریٹس کو فارغ کرنے کا انقلابی مشورہ دیا۔پرائمری اسکول کو کھلا رہنے دیا گیا ۔ ہائی اسکول، کالج اور پورے ملک کی یونیورسٹیز کو ایک سال کے لیے بند کر دیا گیا ۔ ہر بالغ نوجوان کو ایک ان پڑھ کیوبن کو تعلیم دینے کا کہا گیا اور وہی سال بھر میں اس کا امتحان تھا ۔ ان پڑھ شخص اپنے ہاتھ سے لکھ کر نوجوان کو سرٹیفکیٹ دے گا جس کو وہ اپنے تعلیمی ادارے میں جمع کرا کر اگلی کلاس میں جا سکے گا۔صرف ایک سال بعد پورے کیوبا کی شرح تعلیم اسی فیصد سے اوپر چلی گئی۔ 
چے گویرا کی بولیویا میں موت پر کاسترو نے کہا تھا کہ میری خواہش ہو گی کیوبا کابچہ بچہ چے گویرا بنے۔صحت میں کیوبا بہترین ملکوں میں شامل ہے اوسط عمر اسی سال ہے جب کہ امریکا میں ستر سال سے کچھ اوپر اوسط عمر ہے۔
انقلاب کے بعد کاسترو پر سرمایا دارانہ نظام اور امریکی مفادات کے سب پالتو ملک میں مار دینے کا الزام لگا ۔۔ کاسترو نے کہا 
تم میری مذمت کرو ۔ تاریخ کو چلنے دو تاریخ میرا فیصلہ کرے گی۔ 
طبقاتی نظام میں غیر جانبداری دراصل منافقت کا دوسرا نام ہے ۔ جو طبقہ غریب کا خون چوس کر زندہ رہتا ہو اس کو غریب کیوں زندہ رہنے دے ؟؟؟ 
سرمایا داری نظام ایک بکواس اور فرسودہ نظام ہے یہ خود رو گھاس کی طرح بڑھتا ہے جسے کاٹنا اشد ضروری ہے کیوں کہ یہ جنگ، منافقت اور مقابلہ بازی پیدا کرتا ہے۔ 
کاسترو پچاس سال تک امریکا کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر جیا۔سی ائی اے کی لاتعداد قاتلانہ چالوں سے بچ کر زندہ رہا ۔ قریب چھ سو قاتلانہ حملے کاسترو پر ہوئے مگر خوش نصیب مرد بچتا رہا اور مزید سختی سے اپنا کام جاری رکھا۔ 
چے گویرا اور کاسترو کی انقلابی جوڑی کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ 
امریکا نے دنیا میں اسلحہ بنانے کی سب سے بڑی منڈی لگا رکھی ہے اور ظاہر ہے اس اسلحہ کو بیچنے کے لیے جنگ کی ضرورت رہتی ہے اسی لیے امریکا ہر وقت دنیا میں جنگ چاہتا ہے ۔ کبھی مذہب اور کبھی عقیدے کی جنگ دراصل اسلحہ بیچنے کی جنگ ہوتی ہے۔کاسترو کے لفظ سرمایا دارانہ نظام کے مکروہ چہرے پر بھر پور تھپڑ ہیں۔ 
کاسترو نے کہا 
امریکی سامراج کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ ہمارا ملک کیوبا نہیں بلکہ پوری دنیا ہے۔ہم نے وقت سے سیکھا ہے کہ بم دنیا کے مسائل کبھی ختم نہیں کر سکتے کیوں کہ بم جاہل، بیمار اور بھوکوں کو مار سکتے ہیں مگر بم بیماری ، جہالت اور بھوک کو کبھی ختم نہیں کر سکتے۔ 
چے گویرا نے کہا تھا
ایک شخصیت بن کر نہ جیو بلکہ ایک نظریہ بن کر جیو ۔ کیونکہ شخصیت تو ختم ہو جاتی ہے مگر نظریہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ 
دنیا بھر میں طبقاتی نظام کے خلاف لڑنے والوں کو کاسترو ہمیشہ یاد رہے گا ۔ پاکستان اور کشمیری قوم کاسترو کی زلزلہ میں کھلے دل سے مدد کو ابھی تک یاد کرتے ہیں۔ 
کاسترو نے پچاسی افراد سے انقلاب شروع کیا تھا ۔ جس نے لاطینی امریکا میں کامیاب نظام زندگی کا تجربہ کر کے دکھا دیا۔کاسترو کہا کرتا تھا کہ وہ چے گویرا جیسے دس پندرہ مخلص دوستوں سے دوبارہ بھی انقلاب لا سکتا ہے ۔ بس دو چیزیں درکار ہوتی ہیں ۔ مضبوط نظریہ اور یقین سے لبریز ایکشن پلان۔کچھ بھی کیا جا سکتا ہے ۔ 
انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ 
خدا ہیں لوگ گناہ ؤ ثواب دیکھتے ہیں 
سو ہم تو روز ہی روز حساب دیکھتے ہیں 
کچل کچل کر نہ چلو فٹ پاتھ پر اتنا 
یہاں پر رات کو مزدور خواب دیکھتے ہیں 
لال سلام کاسترو 

 

Views All Time
Views All Time
853
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ایران احتجاج ختم، سبق کیا ملا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: