Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

کرب کی تفسیر ہے تو…

Print Friendly, PDF & Email

hijab 1اے داورِ محشر کے گستاخو! اے بقاء انسانیت کے دشمنو! اے سامراجی قوتوں کے چاپلوس خوشامدیو! اے اپنے دین، مذہب، مسلک سے نا آشنا مذہبی بد نصیبو! اے دوسروں کو قناعت کا درس دیکر صدقہ کی صورت دولت سمیٹنے والے ہمہ قسمی شہرت کے پجاریو! اے آنکھیں رکھنے والے نابینو! اے دن کو رات اور رات کو دن سمجھنے والو! آنکھوں سے عیاں ہونے والے کارن کو چھپانے کے لیے سیاہ چشمے استعمال کرنے والو! اے بڑی بڑی گاڑیوں اور پروٹوکول لینے کے ذہنی مریضو! اے اپنے چہرے کو صنف نازک کی طرح بنانے، سنوارنے، سجانے والو! اے پیٹ کے پیٹو! ہوس کے خادمو! اے اپنے منجمد مغز کو انفرادی مفادات کے لیے استعمال کرنے والو! اے اجتماع کی قسمت پہ مسلط انفرادی نالائق حکمرانو! جاگیردارو! صنعت کارو! اے جھوٹے دعوے دارو! اے عوام کو فریب دینے کے لیے لاؤڈ سپیکر پہ دھاڑنے اور چنگھاڑنے والو! اے مذہب کے پیرہن میں دین کے دشمن ٹھیکیدارو! سن لو اے وطن کے غدارو ملت کے دشمنو انسانیت سے نفرت کرنے والو! کشمیر جنتِ نظیر کی بینظیر بیٹیاں چیخ چیخ کے بین کرکے ماتم کرتی ہوئی تمہیں پکارتی ہیں۔
اے دختر کشمیر جناب حجاب فاطمہ۔السلام علیکم۔
آدمیت کے بٹنے، باردو کے پھٹنے، دم گھٹنے، گولیاں چلنے، جگر کے چھلنی ہونے، قلب کے ٹکڑوں کا بکھرنے، ہاتھ بازو سے کٹ کر جدا ہونے، بازوں کا تن سے کٹ جانے، سر کا گردن سے جدا ہونے، تن کا ٹانگوں کے بل پھٹ جانے، دھڑ کا جدائیِ تن پہ پھڑکنے، جبیں پسینہءِ لہو میں تر ہونے، آنکھوں کا لہو سے بھر جانے، لہو ٹپکتی آنکھوں کا لختِ جگر کے زخمی لب و رخسار کا دیدار کرنے کے عالم میں معصوم شیر خواروں کا سنگین کی نوک پہ سر قربان کرنے، جوانوں کا گولیوں کی بوچھاڑ میں نعرہء تکبیر بلند کرنے کے ایمانی جذبہ کو سلام پیش کرتے ہوئے آپ سے خیریت معلوم کرنا بنتا ہی نہیں۔ مجھے معلوم ہے تمہاری طبیعت بیت الحزنِ کشمیر سے منسلک ہوچکی ہے۔ آپ کا نام جس نام کی مناسبت سے رکھا گیا ہے وہ نام سیدہءِ عالم ؑ ، معصومہ ؑ ، مطہرہ ؑ ، آیتِ تطہیر زادی ؑ سے تمسک رکھتا ہے۔ آپ کو آپ کے فرائض سے آگاہ رکھنے کی جسارت فضول ہے۔ سنتِ زینبیہ ؑ پہ کاربند مشن فاطمیہؑ کے لیے کاروانِ بیداری کی جو مہم جوانوں میں عروج پر ہے آپ اس کی رہنمائی فرمارہی ہیں۔ آپ کی دور اندیش آنکھیں، پاکیزہ طبیعت اور احساس کی آنچ پہ ابھرتے جذبات حالات کا ادراک رکھتے ہیں اس لیے آپ کو اپنی جان کی حفاظت کا سندیسہ دینا بھی لغو ہے۔ کیونکہ آپ بخوبی جانتی ہیں کہ آسانی سے جان قربان کردینا بھی بزدلوں کا شیوہ ہے جب تک کوئی کارنامہ سرانجام نہ دیا جائے۔ اس وقت تک جان کی حفاظت بھی فرض ہے۔
مگر خدارا بسم اللہ اور درود کے ہجوم میں گھر سے باہر نکلا کرو۔ سنتِ جناب زینب ؑ گھر چھوڑنے پر بھائی ہمسفر مانگتی ہے۔ سفر بھی طلوع و سحر مانگتی ہے، بھائی پسر، پدر مانگتی ہے، ریگِ صحرا پہ بھائی کا سر مانگتی ہے، شمس بن کے عباس سا قمر مانگتی ہے، سر برہنہ چادریں در بدر مانگتی ہے، تپتے صحرا میں پیادہ سفر مانگتی ہے،، طبیعت میں حب کا حشر مانگتی ہے، قاتلوں سے بھائی کا سر مانگتی ہے، صعوبتوں میں خدا سے صبر مانگتی ہے، خطبہ دیتی ہے دربار میں حیدریؑ لوگ کہتے ہیں کہ آگئے یا علی ؑ ۔ یا علی یا علی یا علی
hijab 2جناب حجاب فاطمہ ؑ آپ کی چیخیں سر پیٹتی، بین کرتی، نوحہ پڑھتی، ماتم کرتی تحریریں اور ساتھ پدر کے ہاتھوں پہ لاشِ پسر اور کہیں پسر کی آغوش میں لاش پدر، کربلاء کشمیر میں لاشوں کے دلدوز منظر، سر پیٹی ماؤں، بین کرتی بہنوں کی تصویریں فیس بک پہ دیکھتا اور پڑھتا ہوں۔ خدا گواہ کربِ کشمیر میں جگر چنگھاڑتا ہے اور دل دھاڑتا ہے، درد سینہ پھاڑتا ہے، ابر غم میں بھیگی طبیعت اپنا آپ نوچنے پر مجبور ہو جاتی ہے، کبھی سر کے بال نوچتا ہوں تو کبھی چہرے پہ ماتم کرتا ہوں، کبھی سر دیوار میں پھوڑنے کا ہنر آزماتا ہوں، مگر سانس ہیں کہ دمِ غربت کی طرح حلق میں اٹکے ہوئے ہیں۔ کرہ ارض وطن میں بسنے والوں کا مہنگائی کے نیزے سے مغز نکال دیا گیا ہے۔ سر تن پر نہیں، بس ایک پتھریلی ٹوپی کی صورت کسی پردیسی کی قبر پہ رکھا ہوا پتھر ہے۔ آنکھیں فقط پیٹ اور واش روم تک رہنمائی کرتی ہیں۔ ناک گردِ غلاظت سے بھرا ہوا ہے جس کی وجہ سے سونگھنے کی حس خود کشی کرچکی ہے، مردانگی کی نشانی (موچھ) لومڑی کے دم کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ منہ اور دانت اپنے بھائیوں کا ماس کھانے میں مصروف ہیں۔ گردن ایک آہنی کیل ہے جو کسی روڈ پر ٹھونک دی گئی ہے۔ دوش اور بازو کسی دیوار پہ لگی کھونٹی کا کام سر انجام دے رہے ہیں، تن گندم کے دانوں کے لیے ایک قدرتی کنستر ہے، منفی راستوں پر اندھی ہو کے چلنے والی ٹانگیں، مردہ خانوں کے متلاشی پاؤں، اگر ان سے امید رکھو تو پاگل پن اور اگر ان کو کوسو تو ذہن اور وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔
کربِ کشمیر کو تھوڑا شعری رنگ دینے کی کوشش کی ہے، پیش خدمت ہے۔
میری جاگیر زندہ ہے
میرا کشمیر زندہ ہے
لہو میں تیرتے لاشے
کی ماں دلگیر زندہ ہے
میرا بھائی تڑپتا ہے
جگر کو چیر زندہ ہے
نہ سمجھو مر گیا ہوں میں
میری تصویر زندہ ہے
ہوا ہے سر قلم میرا
میری تحریر زندہ ہے
ابھی بھی گھورتا ہے وہ
میرا نخچیز زندہ ہے
میرے دشمن سے کہ دینا
میری شمشیر زندہ ہے
نشانہ باندھ سکتا ہوں
کماں میں تیر زندہ ہے
عقیدہ کھو گیا ہوں پر
میری تکبیر زندہ ہے
میرے دستور کی وارث
میری ہمشیر زندہ ہے
مزاجِ کربلا میں ہوں
میرا شبیرؑ زندہ ہے

Views All Time
Views All Time
497
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   شانِ رمضان اور پہچانِ مسلمان | سید حسن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: