Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

چائے کا کپ | یاسر حمید

by اکتوبر 28, 2017 حاشیے
چائے کا کپ | یاسر حمید
Print Friendly, PDF & Email

آفس کے کام سے جی نائن سیکٹر کے ایک نجی بینک میں کیش جمع کروانے گیا۔ کیش جمع کروانے کے لئے جیسے ہی کاؤنٹر کی جانب بڑھا تو مجھے مانوس سی آواز سنائی دی۔ جیسے جانی پہچانی سی۔ ایک لمحے کے لئے دماغ میں خیال آیا ۔ جیسے ہی مڑ کر دیکھا تو وہ کسی کلائنٹ سے مخاطب اکاونٹ سے متعلق تفصیلات دے رہی تھی۔
میرا دل اسے دیکھ کر گھبرا گیا۔ وہ بینک میں جاب کر رہی تھی.عرصہ بیت گیا تھا اس کو دیکھے اس کی آواز سنے۔ میں کچھ پل کے لیے اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ وہ آج بھی ویسی ہی تھی۔ اسکارف میں معصوم سا چہرہ لئے بول رہی تھی ۔آفس بوائے نے اس کے پاس چائے رکھی تو میں جھٹکے سے خود کو ہوش میں لا کر کاؤنٹر کی طرف لائن میں کھڑا ہو گیا۔دل میں عجیب وسوسوں نے گھر کر لیا۔
میں اکثر سوچتا تھا وہ میرے بغیر چائے کیسے پیتی ہو گی ۔ میں تو آج بھی اس کے ہاتھ کی چائے نہیں بھول پاتا۔ مڑ کر دیکھا تو وہ اب چائے کے کپ سے چسکی لے کر کسی سوچ میں گم تھی۔ اچانک اس کی نظر مجھ پر پڑی۔ اس نے چائے کا کپ میز پر رکھ دیا۔میں نے ایک لمحے میں اس کی آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو دیکھا۔ میری ہمت جواب دے چکی تھی۔ میں لائن سے نکلا اور بینک سے باہر آ گیا .

Views All Time
Views All Time
811
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   الجھن (افسانہ) | کرن ناز
Previous
Next

One commentcomments3

  1. Emmanual Christian

    بہت ھی خوبصورت دل کو چھوتی ھوئ اداس شارٹ اسٹوری ھے، مگر اک کمی شدت سے محسوس ھوئ مخصر افسانہ جسقدر مختصر ھوگا اس کے آخری جملے میں اتنا ھی حیران کن، دلچسپ اور چونکا دینے والا اختتام پوشیدہ ھوتا ھے، اور یہی مختصر افسانے کی روح اور خوبی ھے،
    مثلا” میری عادت تھی میں چاۓ کا کپ اسکے ھینڈل سے نہیں بلکہ اسے گلاس کی طرح پورے ھاتھ سے پکڑتا تھا اور میری یہ عادت اسے سخت ناپسند تھی، بلکہ چڑ تھی، وہ ھمیشہ نرمی اور نفاست سے ھینڈل سے کپ کو تھامتی تھی، اسکے جانے کے بعد میں نے وہ عادت بھی ترک کردی تھی، مگر آج اسے چاۓ کا کپ تھامے دیکھ کر میری آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھانے لگا تھا۔ کیونکہ اس نے چاۓ کے کپ کو گلاس کی طرح پوری مٹھی میں بھینچ رکھا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: