Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

ڈائری کا ایک صفحہ

Print Friendly, PDF & Email

اسلام آباد کا موسم کچھ دِنوں سے خوشگوار تھا ۔ کئی روز سے بارش کے سلسلے نے گرمی کی شِدت کو کم کر دیا تھا۔
مگر یہ بارش دل کے موسم کو ہمیشہ کی طرح ویران کر دیتی ہے۔
وہ صبح سے ہی نیند سے بوجھل آنکھوں سے اٹھ کر کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔ بکِھرے بال اور چہرے پر اُداسی نمایاں تھی۔ کھِڑکی سے باہر بارش پھر سے زور پکڑ چکی تھی وہ چائے بنانے لگی اور چائے بناتے وقت گہری سوچوں میں گم تھی۔ وہ ہر اس وقت کو یاد کر رہی تھی جب ہم اکٹھے تھے۔ اس نے چائے بنائی اور کپ اٹھا کر اپنے کمرے میں بستر پر تکیے کے نیچے پڑی میری ڈائری اٹھائی اور دوبارہ کھڑکی کے پاس کرسی پر بیٹھ گئی۔ (یہ میری ڈائری, جو میں نے ہماری جدائیوں کے ایک عرصے بعد اُسے بھیجوا دی تھی)

اُس نے ڈائری کو کھولا اور تیزی سے صفحے پلٹنے لگی۔ اچانک ایک صفحے کی تاریخ دیکھ کر وہ رک گئی۔ اس کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی۔ اس نے ڈائری کو پڑھنا شروع کیا اور پھر وقت کے پہیے اُس کی یادوں کو گھماتے کچھ سال پچھے لے گئے ۔ اور وہ اُن یادوں میں کھو گئی۔

22 نومبر بروز منگل: ” میں گزشتہ رات ہی اپنے آبائی شہر سے واپس اسلام آباد پہنچا ۔ وہ کافی دنوں سے میرا اسلام آباد آنے کا بے چینی سے انتظار کر رہی تھی۔ کئی دفعہ پوچھنے پر اتنا کہا کہ "تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے تم سے ملنا ہے مجھے”.

صبح ہی ملنے کا ارادہ بنایا اور ناشتہ بھی اکٹھے کرنے کا  کہا۔ اس کےگھر پہنچا اسے ساتھ لیا اور ہم حلوہ پوری کھانے گلریز پہنچے۔ ناشتے کی ٹیبل پر وہ بس مجھے دیکھتی رہی, میں اپنی گھر کی باتیں بتانے لگا اور وہ خاموشی سے مجھے سنتی رہی ۔ ہم نےناشتہ کیا چائے پی اور گھر آ گئے ۔ مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھایا۔  مجھے سرپرائز کا کہہ کر چلی گئی۔ میری بے تابی بڑھتی جا رہی تھی۔ آج اتنے عرصے بعد ملنے پر ایک عجیب احساس دل میں چھایا ہوا تھا کہ جیسے یہ پہلی ملاقات ہوں۔ میرا تجسُس اس کی خوشی کو دیکھ کر اور بھی بڑھ گیا تھا۔
اچانک اس کی آواز آئی……
"اپنی آنکھیں بند کرو…”
میں نے پوچھا
"کیوں…!”
کہتی۔
"سر پرائز ہے”

میں نے آنکھیں بند کی ۔ تو وہ میراہاتھ تھام کر مجھے اپنےکمرے میں لے گئی۔ ہر بڑھتے ہوئے قدم کے ساتھ میرے دل میں حیرت کے وسوسے چھانے لگے۔  میں نے اس کا ہاتھ اور بھی مضبوطی سے تھام لیا۔ اس نے دروازہ کھولا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی گلاب کی بھینی بھینی خوشبو میری ناک سے ٹکرائی۔ میری اضطرابی اور بھی زیادہ بڑھنے لگی۔ اُس نے آنکھیں کھولنے کا کہا ۔
میں نے جیسے ہی آنکھیں کھولیں کمرے کی لائٹ بند تھی۔ اور پورا کمرہ موم بتیوں سے روشن تھا ۔ موم بتیوں کی مدھم روشنی نے کمرے کو اور بھی پُرکشش بنایا ہوا تھا۔میں نے نظریں دوڑائیں میرےسامنے گلاب کی پتیوں سے بنا ایک راستہ کمرے کے وسط تک جا رہا تھا۔ اور کمرے کے وسط میں زمین پر گلاب کی پتیوں سے بنا دل دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔  میں ابھی حیرانگی کی کیفیت سے نکل نہیں پایا تھا کہ وہ اچانک میرے سامنے آئی۔ اور میری حیرانگی مزید تب بڑھ گئی جب میں نے اسے جامنی رنگ کے کپڑوں میں دیکھا۔ یہ رنگ اُس پر ہمیشہ سے ہی جچتا تھا اور وہ جامنی رنگ کے کپڑے پہنے پہلی بار میرے سامنے آئی۔ اس سے پہلے میں نے اسے تصویروں میں ہی دیکھا تھا۔  میں اچانک خیالوں سے باہر آیا۔ تو میری آنکھوں میں اس کے لیے پیار بڑھنے لگا میں نے اسے قریب کیا اور سینے  سے لگا لیا۔

یہ بھی پڑھئے:   اس کا کیا نام تھا – مسعود اشعر

شاید وہ وقت وہاں ہی رک گی اتھا اور ہم کتنی دیر ایسے ہی کھڑے رہے۔ وہ میرے کندھے پر سر رکھ کر کتنے سکون سے کھڑی تھی۔  اس کا میرے لیے اتنا پیار مجھے اس کا اور بھی دیوانہ بنا دیتا تھا۔ وقت نے پلٹا کھایا اور جدائی ہمارا مقدر بنی۔ آج وہ اور میں ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے ہزاروں میل دور تھے۔
میرے اکیلا پن اور اس سے شدت کی محبت نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔
کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ اسے سامنے کھڑا کروں اور اسے ہر گزرے لمحے کی گواہی دوں ۔ اسے اپنی بے چینیاں  اور اذیتیں بتاؤں کہ "میں نے تمہیں اکیلے سہا ہے ۔ اسے بتاؤں کہ ضروری نہیں جسے تم چھوڑ دو وہ بھی تمہیں چھوڑ سکے۔ اور جب اس کی آنکھوں میں میری محبت کی شدت نظر آنے لگے تو میری آنکھیں ہمیشہ کےلیے بند ہو جائیں ۔ اور پھر وہ اسی اذیت کو سہے کہ کیسے تکلیفیں جیتے جی مار دیتی ہیں.

اس کی آنکھ کا آنسو نکلا اور ڈائری کے صفحے پر جا گرا۔ وقت اُسے اس کی بانہوں سے واپس کھینچ لایا
اس نے چائے کی طرف دیکھا۔ چائے ٹھنڈی ہو گئی تھی ایک نظر اپنے کپڑوں پر ڈالی اس نے آج بھی جامنی رنگ کے وہی کپڑے پہنے تھے۔ بارش بھی بلکل رک چکی تھی۔ وہ سرخ آنکھوں سے آنسوؤں کو پونچتے سوچوں میں گم, ڈائری کو بند کر کے اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑی ہو گئی۔ اب وہ کہاں ہو گا وہ رات دیر سے سونے کا عادی معلوم نہیں ابھی تک اٹھا ہو گا۔ اپنے موبائل کو اٹھاتی اور اسکرین لاک پر اپنی نرم سی انگلیوں سے لاک کھول کر دیکھتی کہ کہیں بھولے سے اس نے میسج کر دیا ہو۔ مگر وہاں بھی ویسا ہی سکوت۔ اس کے دل جیسی خاموشی۔ وہ ڈائری کو دیکھتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گئی۔
محبت کبھی ختم نہیں ہوتی ۔ بس خاموش ہو جاتی ہے اور جتنی خاموش ہوتی ہے اتنا ہی اس کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ پھر چاہے کوئی مڑ کر نہ دیکھے اور چاہے نہ ہی یاد کرے ۔ پر ہماری محبت کی شدت پر فرق نہیں پڑتا۔
فون کے آگے چپ بیٹھی وہ کب سے اپنی بے بسی اور محبت کی شدت سے مجبور, بارش کو تکتے ہوئے آنسوؤں کو صاف کر رہی تھی۔
اس کی نیند سے بوجھل آنکھوں میں اُس کا عکس بنتا اور مِٹ جاتا۔ وہ جلدی سے آنکھیں کھول کر بیٹھ جاتی۔ اسے ہر لمحہ بس اِسی بات کا خیال آ رہا تھا۔ وہ اُس کی شبیہہ کو مٹتے ہوئے دیکھنے سے ڈرتی تھی۔ صبح سے شام تک اب یہی سلسلہ تھا۔ ڈائری, کمرہ, یادیں, موبائل سکرین, مدعتوں کا عالم اور انتظار.

یہ بھی پڑھئے:   کھدر کا کفن
Views All Time
Views All Time
430
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: