سیلف ڈیفینس اور جنسی آگاہی

Print Friendly, PDF & Email

زینب قتل کیس کے کچھ دن بعد سے سوشل میڈیا پر سیکس ایجوکیشن پر زور دیا جا رہا ہے کہ بچوں کو سیکس ایجوکیشن دی جائے تاکہ وہ کسی بھی ناگہانی صورت حال میں اپنا دفاع کر سکیں۔ کچھ لوگ اس سے متفق ہیں اور کچھ اس کو فحاشی کا نام دے رہے ہیں۔ طرفین کے موقف کا بھرپور جائزہ لینے کے بعد میں اس حوالے سے اپنی ذاتی رائے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلے لفظ سیکس ایجوکیشن درست نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے کے مطابق لوگ اسے فحاشی سمجھ رہے ہیں۔ کیونکہ ان کے خیال میں بچوں کو سیکس کا عمل انجام دینے کی تعلیم دی جائے گی اور سیکس کے متعلق ویڈیوز دکھائی جائیں گی۔

تاہم سیکس ایجوکیشن سے مراد ہرگز یہ نہیں ہے۔بلکہ جو لوگ اس پر کام کرنا چاہتے ہیں ان کا مقصد یہ ہے کہ بچوں کو اپنے دفاع کے لیے آگاہی دی جائے۔ اگر ان کے جسم کو کوئی چھوتا ہے تو وہ ڈر کر خاموش مت رہیں بلکہ اس کا ذکر اپنے والدین سے کریں۔ اور اگر انہیں کوئی غلط مقصد سے چھوئے تو انہیں معلوم ہونا چاہئیے کہ ان کا ردعمل کیا ہونا چاہئیے۔

اس لیے پہلے اس کے عنوان پر توجہ دیتے ہیں۔ تاکہ یہ لفظ زیادہ فحش نہ لگے اور عنوان سے اس کا مطلب واضح ہو جائے۔ کیونکہ اس میں ہم بچوں کو سیلف ڈیفینس اور جنسی طور پر آگاہی دینا چاہتے ہیں۔ تاکہ بچے اپنا دفاع کر سکیں اور انہیں صحیح یا غلط کا پتا ہو، وہ بروقت بہتر سوچ سکیں، انہیں کیا اور کیسے کرنا ہے۔ تو ہمیں اس کو یا تو سیلف ڈیفینس کہنا چاہئیے یا جنسی آگاہی۔ ہمارے معاشرے میں والدین سمجھتے ہیں کہ سختی اور ڈر ہی بچے کے لیے ضروری ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ بچے کی بہتری کے لیے سختی بھی ضروری ہے مگر اتنے تلخ بھی نہیں بننا چاہئیے کہ بچہ آپ سے دل کی بات کرنے کی ہمت نہ رکھتا ہو۔ چونکہ ہر وقت بچوں کے ہمراہ رہنا بھی ممکن نہیں ہے اس لیے ان کے دوست بن کر رہنمائی کریں اور ان کے روزمرہ معمولات پر غیر محسوس طریقے سےنظر رکھیں۔ کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں اس کے عوامل جاننے کی کوشش کریں۔ تاکہ ان عوامل کو سامنے رکھ کر آپ بچے کی تربیت کر سکیں۔ اگر وہ کسی بات کے کرنے سے ڈر رہا یا جھجک رہا ہے تو آپ خود دوستانہ انداز میں وہ باتیں ان سے پوچھیں تاکہ ان کے اندر حوصلہ پیدا ہو کہ وہ خود آپ سے بات کر سکیں۔ بچے والدین کو مسائل سے تب ہی آگاہ کریں گے جب انہیں اپنی بات کہنے میں جھجک محسوس نہ ہو گی اور انہیں اپنی بات کے سنے جانے کی توقع ہو گی۔ اس لیے ان کو وقت دیں اور خود مسائل کو ان سے ڈسکس کریں۔

یہ بھی پڑھئے:   جی ہاں یہ ہندوستان ہی کی تصویر ہے-سہیل انجم

والدین کی رہنمائی کے لیے ایک مدد ہم بھارتی اداکار عامر خان کی ویڈیو سے بھی لے سکتے ہیں جو کہ یوٹیوب پر آسانی سے مل جاتی ہے۔
ہمیں صرف اپنے بچوں کی نگرانی ہی نہیں بلکہ گھر کے آس پاس گلی محلے یا قریبی راشتہ داروں پر بھی نظر رکھنی چاہئیے۔ جن کا گھر آنا جانا زیادہ ہو یا خاص طور پر جن لوگوں سے بچے کا لگاؤ زیادہ ہو۔ اس کے علاوہ بچے کے جو دوست ہیں ان پر بھی نظر رکھیں۔ اگر ان بچوں میں کچھ بھی غیر معمولی محسوس ہو جس کی وجہ سی بچہ پریشان نظر آئے یا سہما سہما محسوس کریں تو ان کے والدین تک بات پہنچائیں۔ اب ہم آتے ہیں کہ ہم بچوں کی تربیت کیسے کریں یا ان کو آگاہی کیسے دیں۔ سب سے پہلے تو حکومت سیلف ڈیفینس پر تربیت کے لیے اسکولوں میں تربیتی کلاسسز کروائے۔ جس میں بچوں کو بتایا جائے کہ اچھا یا برا چھونا کیا ہے۔ کوئی اگر تمہیں چھوئے تو اگر تمہیں برا لگے تو اپنے ماں یا باپ کو بتائے۔ یا جسم کے فلاں فلاں حصے کو کوئی ہاتھ لگائے تو اگر آپ کے پاس اور لوگ ہیں ان تک پہنچیں یا شور مچائیں یا والدین کو بتائیں۔ بازار یا گھر سے اکیلے مت جائیں اگر جائیں تو ستر کو چھپا کر رکھیں۔ اگر آپ کو کوئی عجیب نظروں سے دیکھے یا قریب آئے تو یا کسی بڑے بزرگ کو بتائیں۔

سب سے اہم بات کہ بچوں میں سیلف ڈیفینس کی تربیت باقاعدہ طور پر ہونی چاہئیے۔ جس میں اسکولوں میں خاص طور پر ایک پیریڈ سیلف ڈیفینس کا ہو اور اس میں بچوں کو ایکسرسائز سے لے کر کراٹے جمناسٹک کی کلاسز دی جائیں۔ اس سے نہ صرف بچے ایکٹیو ہوں گے بلکہ ان کا دھیان بھی ایسی سرگرمیوں میں ہو گا۔ بچوں میں چھوٹی عمر سے ہی اپنا دفاع کرنے کی نہ صرف صلاحیت ہو بلکہ ان کے اندر کا ڈر ختم ہو۔ اس کی بہترین مثال اسلام آباد کیپٹل پولیس ہے جو ہر سال چھوٹے بچوں کے لیے ایک ماہ کا سمر کیمپ لگاتی ہے جس میں 5 سال سے 15 سال تک کے بچے ایڈمیشن لے کر ایک مہینے کے لیے روزانہ پولیس لائن میں پولیس اساتذہ کی زیر نگرانی کراٹے، مارشل آرٹ، جمناسٹک اور تیر اندازی سیکھتے ہیں۔ بلکہ اپنے دفاع کے لیے آپ کو کیسے مقابلہ کر سکتے اس کی تیاری کروائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   کاغذ کی کشتی - فہمیدہ غوری

(مزید رہنمائی کے لیے تصاویر اور ویڈیوز فیس بک پر اسلام آباد کیپٹل پولیس کے پیجز پر دیکھ سکتے ہیں)۔ اس طرز کے اسکولوں میں کیمپ لگوائے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کے تعاون سے اسکولوں میں آگاہی کے کیمپس کا آغاز کیا جائے۔ بچوں کے ساتھ ساتھ والدین کی تربیت کے لیے ڈاکومینٹریز دکھائی جائیں۔ کتابیں لکھی جائیں تاکہ والدین اس سے سیکھ کر گھر میں بچوں کے لیے آگاہی کے طریقے آزمائیں۔ موجودہ دور اور اس کے مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے مذہبی رہنماؤں، اسکالرز ماہر تعلیم اور سول سوسائٹی کے چند ارکان کو ملا کر جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے پرائمری اور سکینڈری لیول کا نصاب تیار کیا جائے۔ اپنے مسائل اور اپنے بچوں کے مسائل کا حل ہم نے خود ہی نکالنا ہے۔ ہر کام میں ایک وقت درکار ہوتا ہے۔ پر آنے والی نسلیں تب ہی محفوظ ہوں گی جب ہم اپنا آج اور کل محفوظ بنائیں گے اور حکومت بھی تب ہی ساتھ دیتی ہے۔ اس لیے بجائے اسے فحاشی سمجھیں۔ غیر جانب دار رویہ اختیار کرتے ہوئے اس کام کو دیکھیں سوچیں اور مل کر اپنے معاشرے اور آنے والی نسلوں کو بچائیں۔

Views All Time
Views All Time
530
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: