آپ بھلے لے آئیں شہباز یا عمران کو

Print Friendly, PDF & Email

سوال یہ ہے کہ کسی بھی حکومت کی رخصتی کے صرف نوے دن کے اندر اندر پانچ برس سے بھرے خزانے کو ایسی کیا موت پڑ جاتی ہے کہ جیسے ہی نیا وزیرِ اعظم خزانے کے گودام میں قدم رکھتا ہے تواندرجھاڑو پھری ہوتی ہے۔ بائیں جانب سے بین الاقوامی قرض خواہ کا بھوت دھم سے آن کھڑا ہوتا ہے ’’ ہا ہا ہا ہا کہاں ہے میری اگلی قسط ’’ ، چھت سے لٹکی امپورٹ نامی چڑیل چیختی ہوئی کود پڑتی ہے ’’ ہی ہی ہی ہی میں کب ایکسپورٹ بنوں گی ’’، لوڈشیڈنگ کا جن دانت نکوستے ہوئے کشکول آگے بڑھا دیتا ہے ’’ ہوہا ہو ہا سرکولر ڈیٹ بے باق کرتا ہے یا تجھ پر بھی اندھیرے چھوڑوں’’، کرنسی ٹانگوں سے لپٹ جاتی ہے ’’نہیں چھوڑوں کی تجھے کم بخت جب تک تو مجھے ڈالر کے گڑھے سے نہیں نکالتا ‘‘۔غرض مسائل نئی نویلی حکومت کے دولہاِ اعظم کو یوں گھیرتے ہیں جیسے شکرانے کی چادر چڑھائی کے بعد مزار سے نکلنے والے زائر کو پیشہ ور بھکاری۔

 مسئلہ دراصل اقتدار ملنے کے بعد نہیں بلکہ انتخاب جیتنے سے بھی پہلے سے شروع ہوتا ہے۔چونکہ ہمارے ہاں یہ رواج تو ہے نہیں کہ جانے والی حکومت بند کمرے میں تمام ممکنہ وزرائے اعظم کو جمع کر کے ایک ایماندارانہ بریفنگ دے کہ بھائیو ہم آئے تو داخلہ ، خارجہ اور معاشی کھاتہ یہ یہ ملا ، فلاں فلاں مسائل کلی یا جزوی حل ہوئے اور یہ یہ مسائل حل نہیں ہو سکے اور یہ یہ مسائل نئے ہیں جنھیں ہم  آپ کے لیے چھوڑ ے جا رہے ہیں۔اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو۔

چنانچہ اقتدار کی دوڑ میں حصہ لینے والے ہر قابل ِ ذکر کھلاڑی بریفنگ کا خلا علمِ نجوم ، زائچہ جات اور خوابوں سے بھرنے کی کوشش میں ووٹر کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے ہر وہ اوچھا اور غیر اوچھا ہتھکنڈہ استعمال کرتا ہے جس سے ووٹ کی پرچی پٹ جائے اور نکاح ہو جائے۔ اور جب جیت کے نشے سے چور انتخابی سہاگ رات کے بعد علی الصبح کوئی سنگین بدتمیز مسئلہ کواڑ پر دستک دیتا ہے تونشہ ہرن ہونے لگتا ہے ، موڈ پر اوس پڑتی چلی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں

وزارتِ عظمیٰ کاجوامیدوارپولنگ سے پہلے مسکراہٹ کا ماسک سوتے میں بھی چہرے سے نہ اتارتا تھا ، حلف اٹھاتے ہی کہانی کا اصل رخ جب اس پے آہستہ آہستہ کھلنے لگتا ہے تو پھر دکھ ، بے بسی ، جیت کا راستہ ہموار کرنے والوں کے نہ ختم ہونے والے مطالبات اور ووٹر کی پرامید نگاہیں لیڈر کی قبل از جیت مسکراہٹ کے ماسک میں دراڑیں اور جھریاں ڈالنے لگتے ہیں۔

کہاں قبل از جیت کے یہ دعوے کہ ہم اقتدار میں آتے ہی پہلے سو دن میں سڑکیں شیشے کی ، آسمان سونے کا ، گھر چاندی کے بنا دیں گے ، کوئی اہل یا پڑھا لکھا مزید بے روزگاری نہیں بھوگے گا ، غیر ملکی قرضے کا کشکول قرض دینے والے کے منہ پر دے ماریں گے ،ایسی انقلابی حکمتِ عملی متعارف کروائیں گے کہ ہماری برآمدات درآمدات سے دوگنی ہو جائیں ، پاکستان کو پانچ برس میں ایشین ٹائیگر بنا دیں گے ، ایسا اقتصادی چمتکار ہوگا کہ روپے کی قیمت ایک ڈالر کے برابر آ جائے گی ، سمندر کے کنارے کھارے پانی کو میٹھا کرنے والے اتنے پلانٹ لگائیں گے کہ ہمسایہ ممالک کو بھی یہ پانی ایکسپورٹ کریں گے ، اتنے روزگاری مواقع پیدا ہوں گے کہ نوجوان یورپ کی طرف جانا ہی ترک کر دیں الٹا روزگار کے متلاشی گورے ہمارے سفارتخانوں کے باہر قطار بنائیں گے ، سب بچے اسکول جانا شروع کر دیں گے ، سب کی ہیلتھ انشورنس ہو گی اور بائی پاس سے کینسر تک ہر علاج  ہیلتھ کارڈ پر مفت ہوگا۔

اور پھر پھولوں کے بدلے ووٹر کو وعدوں کے ہار پہنا کر جب ہمارا دائیں یا بائیں بازو کا لیڈر حلف اٹھا لیتا ہے اور ہر محکمے کا سیکریٹری اسے ہر شعبے کی اصلی باتصویر بریفنگ دیتا ہے تو ارمانوں کے طوطے جھنڈ کی شکل میں اڑنے لگتے ہیں۔یور ایکسیلینسی ! قرض کی قسط اتنی ، دفاعی اخراجات جتنے، انتظامی اخراجات وتنے اور ترقیاتی بجٹ کدو…

یہ بھی پڑھئے:   منجمد حالت میں کھڑا پاکستان-ایاز امیر

مگر لیڈر تو لیڈر ہے۔ نہ وہ کھل کے اندر کے احوال کا اعتراف کر سکتا ہے ، نہ ووٹروں کو حقائق بتا سکتا ہے اور نہ ہی مایوس کر سکتا ہے۔بس اتنی تبدیلی آتی ہے کہ جیتنے سے پہلے کے خوابناک بیانات کی جگہ قدرے سنجیدہ اور احتیاطی لہجہ اپنا لیا جاتا ہے۔دیکھئے ہم سب وعدے آپ کے تعاون سے پورے کریں گے۔پچھلی حکومت نے جو مسائل ورثے میں چھوڑے انھیں سمیٹنے میں کچھ وقت لگے گا۔ہم کڑی چھان بین کریں گے کہ خزانہ خالی کیوں ہے ، ہم لوٹی دولت واپس لائیں گے تاکہ آپ سے کیے گئے وعدے پورے ہو سکیں۔جہاں آپ نے اتنا صبر کیا ہے وہاں کچھ اور دن سہی۔آپ نے ہم پر جو اعتماد کیا ہم اسے کبھی ٹھیس نہیں پہنچائیں گے مگر ہمارے پاس الہ دین کا چراغ نہیں کہ ستر برس میں جمع ہونے والے مسائل راتوں رات حل ہوجائیں۔

البتہ اگلے پانچ برس میں اس ملک کو ایک ایسی سمت ضرور دینے کی کوشش کریں گے کہ اس کے بعد آنے والے پانچ برس کے لیے اگر آپ نے اسی طرح ہمارا ساتھ دیا تو انشاء اللہ تعالی دس سال بعد پاکستان میں کوئی شخص رات کو بھوکا نہیں سوئے گا ، کوئی ماں دورانِ زچگی نہیں مرے  گی، پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی شرحِ اموات ہم زیرو پر لے آئیں گے ، غیر ملکی قرضے کی پائی پائی واپس کر دی جائے گی۔کوئی بچہ ناخواندہ نہیں ملے گا ، کوئی بیرونی دشمن بلا بلو بلم بلوگ بنا بھشو پھمن گلو فٹا فٹی نفو بکو پھٹو جپھا جپھم پھٹاک۔

اب آپ لے آئیں عمران خان کو یا شہباز شریف کو یا آصف زرداری کو یا کسی کو بھی اگلے پانچ برس کے لیے بے دھڑک ، بن داس…

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Views All Time
Views All Time
178
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: