Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

رائٹرز کنوینشن

by اکتوبر 16, 2016 ادب
رائٹرز کنوینشن
Print Friendly, PDF & Email

conventionبسم اللہ الرحمن الرحیم
؂ نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے۔۔۔ ذرا نم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
پاکستان رائٹرز وِنگ،اعتماد نیوز ملتان،اکادمی ادبیات اطفال اور پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی کے اشتراک سے ملتان میں ایک یادگار رائٹرز کنوینشن اور پُروقار تقریب تقسیم انعامات کا انعقاد
"پاکستان رائیٹرز وِنگ”ابھرتے ہوئے نوجوان قلمکاروں کی ایک علمی وادبی ، ایک غیر سیاسی،غیر جانبدار اورفرقہ واریت سے پاک تنظیم ہے۔اس تنظیم کے قیام کا مقصد نوجوان قلمکاروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا،انہیں ادب کی مختلف اصناف تحریر کرنے کے طریقے سکھانا،لکھی ہوئی تحریروں کی اشاعت،سینئیر ادیبوں سے لکھنا سیکھنا،انعامات،ایوارڈز اور اسناد کے ذریعے ان کی حوصلہ افزائی کرناہے۔اس ادبی تنظیم کے چیئر مین جناب مرزا یاسین بیگ صاحب اور صدر قاری محمدعبداللہ ہیں۔
24ستمبر 2016 بروز ہفتہ کورضا ہال ملتان میں پاکستان رائٹرز وِِنگ،روزنامہ اعتماد نیوزملتان،اکادمی ادبیات اطفال اور پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی کے زیر اہتمام وفائے پاکستان ادبی فورم،ایم ایچ بی مارکیٹس اور شمع بناسپتی کے اشتراک سے ایک یادگار رائٹرز کنوینشن اور انعامات،ایوارڈز اور اسناد کی تقسیم کی ایک پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیاجس میں پاکستان بھر سے قلمکاروں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔
اس پُروقار اور شاندار تقریب کے انعقاد کا سہرا پاکستان رائٹرز وِنگ کے صدر قاری محمد عبداللہ،چیئر مین مرزا یاسین بیگ،جنرل سکرٹری عبدالرحیم،جی ایم اعتماد نیوز شیخ فیصل کریم اور ان کی ٹیم کے ممبران کے سر جاتا ہے۔
اس کنوینشن کے انعقاد کا مقصد قلمکاروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا،انہیں باہمی تبادلۂ خیالات کا موقع فراہم کرنا اور سینئیر لکھنے والوں سے مختلف اصناف ادب کی تکنیک کے سلسلہ میں رہنمائی کے ساتھ ساتھ مختلف اصناف ادب میں ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو عملی اظہار کے موقع فراہم کرنا ، انعامات،ایوارڈز اور اسناد کے ذریعہ ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور صحت مند جذبہ مسابقت پیداکرنا تھا۔اس کنوینشن میں پاکستان بھر سے سینیئر ادیبوں کے علاوہ نئے لکھنے والوں کی ایک کثیر تعداد نے بھی ذوق شوق سے شرکت کی۔اس کنوینشن کے انعقاد سے پہلے ایک بہت اہم اور جامع موضوع کا انتخاب کیا گیاجو قومی ترانہ کا مندرجہ ذیل مصرع تھا:
ع تو نشان عزم عالی شان،ارض پاکستان
اس موضوع پرنوجوان قلمکاروں کو تین مختلف اصناف ادب مضمون،کہانی اور نظم لکھنے کی دعوت دی گئی۔اور قلمکاروں کو بتایا گیا کہ وہ خوشخط لکھیں،صفحہ کے ایک طرف لکھیں، ،اپنی تحریر کی تین تین کاپیاں ارسال کریں۔انہیں تحریر پر ذاتی نام یاحوالہ لکھنے کی بجائے الگ صفحہ پر اپنا نام،پتہ اور رابطہ نمبر لکھ کر تحریر کے ساتھ منسلک کرنے کو کہا گیا۔مقررہ تاریخ تک موصول ہونے والی تحریروں کو اصناف کی تقسیم کے حوالے سے الگ الگ کیا گیا۔ہر تحریر اور منسلکہ ذاتی معلومات کے صفحہ پر ایک نمبر شمار لگایا گیا۔پھر تحریر کے ساتھ منسلک ذاتی معلوماتی صفحہ کو الگ کر لیا گیااور ماہرین فن منصفین کرام کو وہ تحریریں ارسال کردی گئیں۔ ماہر فن شاعر منصف (Judge)نے نظموں کاجائزہ لے کر اول،دوم،سوم حوصلہ افزائی اور خصوصی انعامات کے حق داروں کا بالکل غیر جانبداری سے فیصلہ کیا۔ماہر فن مضمون نویس منصف نے مضامین کااور ماہر فن کہانی نویس منصف نے کہانی کے انعامات کا فیصلہ کیا،لیکن نتائج کو اپنے پاس محفوظ وخفیہ (Secret)رکھااور کنونشن والے دن تقریب میں پوزیشنوں اور پوزیشن حاصل کرنے والوں کے ناموں کا اعلان کیا گیا اور انہیں انعامات سے نوازا گیا۔یوں قلمکاروں کے لئے یہ کنوینشن دوہرے فائدہ کا حامل تھا۔ایک فائدہ تو سینئر قلمکاروں سے ملاقات اورسیکھنے کاموقع ملنااور دوسرا اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے عملی اظہار پر انعامات،ایوارڈز اور اسناد حاصل کرنا۔
تحریریں وصول کرنا،انہیں صنف کی ترتیب سے الگ کرنا،ان پر نمبر شمار لگانا اور ماہر فن منصفین کو اس اہم ذمہ داری کی ادائیگی کے لئے تیار کرنا ،ان تک تحریریں بروقت پہنچانا یہ سب ذمہ داریاں قاری محمد عبداللہ نے بظاہر اپنے "ناتواں” مگر حقیقت میں بہت "مضبوط”کندھوں پر اٹھائیں۔ یہ قاری محمد عبداللہ کی خوش نصیبی ہے کہ اس اہم کام میں انہیں بچوں کے مقبول میگزین پھول کے ایڈیٹر محترم جناب شعیب مرزا صاحب ، بچوں کے معروف ادیب محترم جناب نذیر انبالوی صاحب اور مرزا یاسین بیگ صاحب کی سرپرستی حاصل رہی۔
convention-2نقابت اور نظامت کے فرائض قاری محمد عبداللہ اور مرزا یاسین بیگ نے انجام دیئے۔ اس شاندار کنوینشن کاآغاز تلاوت قرآن حکیم سے کیا گیا۔تلاوت کی سعادت حافظہ عمارہ احد اور حافظ معاذالرحمن نے حاصل کی۔ایک بچی ولیجہ زینب نے حمد باری تعالیٰ تحت اللفظ میں پڑھی جبکہ نذرانہ عقیدت بحضور سرور کونین ﷺپیش کرنے کا شرف حافظ اسامہ سلطان کو حاصل ہوا۔
کیمبرج پبلک سکول سورج میانی کے طلبہ وطالبات نے ایک بہت خوبصورت ٹیبلو پیش کیا۔۔۔
ع پاکستان سے رشتہ،رشتہ ہے جیسے ماں سے
بچوں نے ہر شعبہ زندگی مثلاً ڈاکٹر،انجینئر،فوجی،وکیل،پائلٹ،استاد،طالب علم وغیرہ کا روپ دھارکر پاکستان سے محبت کے جذبہ کا پُر جوش اظہارکیا جس نے حاضرین کے دل موہ لئے۔اس ٹیبلو میں ایک بالکل ننھا مناّ ایک سالہ فوجی محمد جان سب کی نظروں اور توجہ کا مرکز بنا رہا۔اس ٹیبلو پر ہال دیر تک تالیوں کی آواز سے گونجتا رہا۔
محترم جناب قاری ہدایت اللہ صاحب نے قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں قلم کی اہمیت اور اہل قلم کی ذمہ داریوں پر بہت مؤثر ،مدلل ،جامع اور خوبصورت الفاظ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قلم میں تلوار سے زیادہ طاقت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اہل قلم وہ دانشور طبقہ ہے جو کسی معاشرہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اس لئے قلمکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی تحریروں میں خلوص ،جزبات اورخون جگر کی آمیزش سے قوم کے بچوں اور جوانوں میں جوش وجزبہ اور ولولہ اور قوم کی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔کیونکہ اہل قلم نا ممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں۔انہوں نے وسعت مطالعہ ،خلوص اور محنت کوایک بہترین تحریر کے اجزائے ترکیبی قرار دیا۔
اس کے بعد ماڈرن پبلک سکول ملتان کے طلبہ وطالبات نے کشمیر جنت نظیر کے مسلمانوں پر بھارتی فوجیوں کے ظلم وستم کے حوالے سے ایک خاکہ پیش کیا جس میں یہ دکھایا گیا کہ ایک ہی خاندان کے کئی افراد یکے بعد دیگرے شہید کر دیئے گئے لیکن یہ ظلم بھی کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو کمزور نہیں کرسکا۔اس خاکہ میں بچوں نے جاندار اداکاری سے حقیقت کا رنگ بھر دیا جس سے حاضرین کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
سینئر سیاست دان جناب مخدوم جاوید ہاشمی صاحب نے کہا کہ میں پورے پاکستان سے لکھنے والوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور پاکستان اور کشمیر کے حوالے سے قوم کی امنگوں اور آدرشوں کو بہترین خاکوں اور ٹیبلوز کی شکل میں پیش کرنے پر منتظمین کو مبارک باد اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔انہوں نے قلمکاروں کو تاکید کی کہ وہ میڈیا کی طاقت سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کے شعوروآگہی کے لئے غیر جانبداری سے اپنے فرائض انجام دیں۔
سینئر کالم نگار،ادیب،صحافی اور ناظم تعلقات عامہ (Director public relations)محترم جناب محمدسجاد جہانیہ صاحب نے پاکستان بھر سے 120نئے لکھنے والوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور کامیاب کنوینشن کے انعقاد پر قاری محمد عبداللہ اور ان کی ٹیم کو مبارک باد دی۔انہوں نے تقریب میں پیش کئے جانے والے خاکوں اور ٹیبلوز کی تعریف کرتے ہو ئے کہا کہ بچوں کا جذبہ دیدنی تھا۔انہوں نے نئے لکھنے والوں کو بتایا کہ تحریر میں مقصد کا پایا جانا ضروری ہے لیکن یہ مقصد وعظ ونصیحت کی شکل میں نہیں ہونا چاہیئے بلکہ یہ مقصد بین السطور ہونا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ اس کنوینشن میں 120نئے لکھنے والوں کی شرکت سے دلی خوشی ہوئی۔انہوں نے کہا پاکستان میں ہر میدان میں بچیوں نے اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑے ہوئے ہیں۔آ ج کی تقریب تقسیم انعامات میں جب نئے لکھنے والوں کو انعامات اور سرٹفکیٹ دیئے جا رہے تھے تو مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ اس میدان میں بھی انعامات حاصل کرنے والوں میں بچوں کی نسبت بچیوں کی تعداد زیادہ تھی،جس کا مطلب یہ ہے کہ تعلیم اور دیگر شعبوں کی طرح اس شعبہ میں بھی بیٹیاں بازی لے گئی ہیں جو ایک خوش آئند بات ہے۔
وفائے پاکستان ادبی فورم کے سرپرست محترم جناب حاجی لطیف کھوکھر صاحب نے قلمکاروں کو منظوم خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا:
؂ ادب کے شہسواروں کو میرا سلام۔۔۔روشنی کے میناروں کو میرا سلام
دورونزدیک سے آئے ہیں مہماں یہاں۔۔۔سب آنے والوں کو میرا سلام
انہوں نے کہا کہ ہم اہل قلم ،اہل ادب محبتیں بانٹتے ہیں اور محبتوں کے متلاشی رہتے ہیں۔سو قاری محمد عبداللہ اور مرزا یاسین بیگ کی محبت اور عقیدت کے ساتھ ساتھ ادب کی محبت ہمیں آج کے اس کنوینشن میں کھینچ لائی ہے اور ہمیں ایک چھت کے نیچے جمع کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کی اس شاندار اور کامیاب تقریب کے انعقاد پر قاری محمد عبداللہ ،مرزا یاسین بیگ اور ان کی پوری ٹیم کے لئے ڈھیر ساری تالیاں بجنی چاہیئیں۔اس پر ہال پھر پور تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا۔
پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی کے صدر اور بچوں کے معروف میگزین پھول کے ایڈیٹر محترم جناب محمد شعیب مرزا صا حب نے کہا کہ میں اس کامیاب کنوینشن کے انعقاد پر قاری محمد عبداللہ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔جن رائٹرز نے مضمون نویسی،کہانی نویسی اور نظم نویسی کے مقابلوں میں حصّہ لیا اور انعامات حاصل کئے ان کو بھی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
بعد ازاں ماڈرن پبلک سکول ملتان کے بچوں نے
ع یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیراں ۔۔۔ اس نغمے پر خوبصورت ٹیبلو پیش کرکے داد سمیٹی۔
اکادمی ادبیات اطفال کے چیئر مین اور معروف طنز ومزاح نگار و کالم نگارمحترم جناب حافظ مظفر محسن صاحب نے بھی قاری محمد عبداللہ اور ان کی ٹیم کو اس کامیاب کنونشن اور شاندار تقریب تقسیم انعامات کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی اور کہا کہ ا یسی تقریبات ہوتی رہنی چاہیئیں کیونکہ یہ نوجوان نسل اور بالخصوص نوجوان قلمکاروں کے جزبات کو جوان اور حوصلوں کو تروتازہ رکھتی ہیں۔
خانیوال سے کنوینشن میں شرکت کرنے والی ننھی منی بچی عروہ اشرف نے انگریزی میں East or west ,Pakistan is the best”کے موضوع پر بڑے اعتماد سے تقریر کر کے خوب داد سمیٹی۔عروہ اشرف کی بہترین تقریر کی حوصلہ افزائی کے لئے پاکستان رائٹرز ونگ کی طرف سے تعریفی سند ،شعیب مرزا صاحب کی طرف سے نقد انعام اور پھول کا تحفہ اور حاجی محمد لطیف کھوکھر صاحب کی طرف سے کرن کرن روشنی کا تحفہ دیا گیا۔
ایم این اے اور وفاقی پارلیمانی سیکرٹری محترمہ شاہین شفیق صاحبہ نے بھی اس کامیاب اور شاندار کنوینشن میں شرکت کو اپنے لئے اعزاز قرار دیا اور قاری محمد عبداللہ ،فیصل کریم اور ٹیم کو مبارک باد پیش کی۔قلمکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ قلمکار ہی ہوتے ہیں جو ہمارے اچھے کاموں کو عوام تک پہنچاکر ہماری نیک نامی کا باعث بنتے ہیں اور لیڈر کو لیڈر بناتے ہیں۔
دا ڈائریکٹر سکول اینڈ اکیڈمی کے بچوں نے کشمیر کے مسلمانوں پر بھارتی ظلم وتشدد پر خاموشی پر طنزیہ ٹیبلو”اٹھارہ کروڑ انسانو،زندگی سے بے گانو”پیش کرکے داد حاصل کی ۔
تقریب کے روح رواں پاکستان رائٹرز ونگ کے صدر ،بچوں کے ادیب ،کالم نگار ،کمپیئراور روزنامہ اعتماد نیوز ملتان کے میگزین ایڈیٹر قاری محمد عبداللہ نے تقریب کے تمام شرکاء کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خوش آمدید کہا،کنوینشن کے انعقاد میں شراکت پر اکادمی ادبیات اطفال،پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی،ایم ایچ بی مارکیٹس اور شمع بناسپتی کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کی اس کنوینشن اور تقریب تقسیم انعامات کی کامیابی میں میرا کوئی کمال نہیں بلکہ یہ اللہ کے فضل وکرم ،میری ٹیم کی محنت اور آپ قلمکاروں کی محبت وشرکت کی بدولت ممکن ہوسکاجس پر میں اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا ہوں اور اپنی ٹیم کا بے حد ممنون ہوں۔انہوں نے بتایا کہ سینئر لکھنے والے بھی دیئے گئے موضوع پر لکھنے کے خواہش مند تھے مگر ہم نے ان سے ان مقابلوں کے لئے نہ لکھنے اور نئے لکھنے والوں کو آگے لانے اور لکھنے کے مواقع فراہم کرنے کی درخواست کی تاکہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔انہوں نے بتایا کہ آج کے اس کنوینشین میں 120 نئے لکھنے والوں کے ساتھ ساتھ سینئر قلمکاروں کی شرکت جہاں اس بات کی علامت ہے کہ خلوص سے کی گئی کوششیں ضرور بارآور ہوتی ہیں وہاں یہ بات مزید واضح ہوگئی کہ نوجوان نسل صلاحیتوں کے حوالے سے زرخیز ہے صرف نمی کی کمی ہے جو الحمد للہ ہم فراہم کر رہے ہیں۔بقول اقبال:
؂ نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے۔۔۔ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
محترمہ رضیہ رحمن صاحبہ اسسٹنٹ پروفیسروصدر شعبہ اردو گورنمنٹ پوسٹ گریجو ایٹ کالج برائے خواتین خانیوال نے قاری محمد عبداللہ ،مرزا یاسین بیگ ،فیصل کریم اور ان کی ٹیم کے دیگر اراکین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مجھے بیک وقت میزبان اورمہمان خصوصی دونوں کا اعزاز بخشتے ہوئے اس شاندار اور یادگار کنوینشن میں شرکت کا موقع فراہم کیا۔انہوں نے معزز مہمانوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خوش آمدید کہااور منتظمین کو مختلف اصناف ادب کے مقابلوں ،کامیاب اور یادگار کنوینشن کے انعقاد اور ڈھیروں انعامات کی تقسیم سے نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی پر مبارک باد پیش کی۔انہوں نے عابد کمالوی کی نظم”اہل قلم”خوبصورت انداز میں تحت اللفظ میں پیش کی اور نئے لکھنے والوں کو بتایا کہ وہ نثر لکھیں یا شاعری دونوں صورتوں میں ان کی تحریر یں اپنی ثقافت کی ترجمان ہونی چاہیئیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا قلم اس وطن اور قوم کی امانت ہے اس لئے ہمیں اپنی تحریروں میں انسانیت کے ساتھ ساتھ پاکستانیت کو بھی فروغ دینا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ آج کا کنوینشن ہر لحاظ سے بہترین تھا لیکن نوجوان قلمکاروں کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے عملی مظاہرہ کا سنہری موقع فراہم کرنا اس کنوینشن کی سب سے بہترین اور منفردبات تھی۔
convention-3مضمون نویسی،نظم نویسی اور کہانی نویسی کے مقابلہ میں قلمکاروں کی ایک بڑی تعداد نے حصہ لیا۔مضمون نویسی کے مقابلہ میں منصفین کرام کے فیصلہ کے مطابق انعام اوّل حرا عظمت قریشی لاہور، انعام دوم عائشہ جمشید لاہور،انعام سوم ثوبیہ خان ملتان نے حاصل کیا۔نزہت حسنین ملتان،ابتسام الحق محمود کوٹ،سدرہ گل مہک ییر محل،سیدہ غانیہ منزہ خانیوال،ہنیہ یونس ملتان ،سعدیہ کنیز ملتان،وسیم شہزاد ملتان،عائشہ کنول ملتان،عائشہ شہزادی ملتان ،ندا احمد پور شرقیہ ،حمیرا رفیع ملتان کو حوصلہ افزائی کے انعامات سے اور اُم حنین تونسہ کو خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
نظم نویسی کے مقابلہ میں اول انعام سحرش رانی لاہور،دوم انعام سدرہ انور ملتان، سوم انعام عروۃ الوثقیٰ نسیم ملتان نے حاصل کیا۔گل افشین خانیوال،زنیرہ افضل ملتان،شاذیہ غلام محمد ملتان،صداقت حسین ساجد شورکوٹ ،اسد علی اسد، ثمن گل میاں والی نے حوصلہ افزائی کے انعامات حاصل کئے جبکہ حرا فاطمہ خانیوال نے خصوصی ایوارڈ حاصل کیا۔
کہانی نویسی کے مقابلہ میں پہلی پوزیشن عاطف فاروق سرگودھانے،دوسری پوزیشن سعدیہ گل جاوید ملتان نے،تیسری پوزیشن ستارہ آمین کومل پیر محل نے حاصل کی۔ حوصلہ افزائی کا انعام محمد عزیر رفیق ملتان،فریحہ اقبال ملتان اور عبدالرؤف سمرا خانیوال نے حاصل کیا۔محترمہ پروفیسر رضیہ رحمن نے حامدہ فاطمہ خانیوال اورگلناز لاشاری خانیوال کو اپنی مرتب کردہ کتاب بطور انعام دی جبکہ خصوصی ایوارڈ شاہد حفیظ میلسی نے حاصل کیا۔
اس کنوینشن میں مہمانان خصوصی کے طور پر شرکت کرنے والی شخصیات کے اسمائے گرامی کچھ یوں ہیں:
سینئر سیاست دان جناب مخدوم جاوید ہاشمی صاحب،محترمہ شاہین شفیق صاحبہ ایم این اے ،جناب طارق رشید صاحب سابق ایم این اے ،جناب اطہر ممتاز صاحب ،جناب شوکت اشفاق صاحب ریزیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ پاکستان ملتان،جناب محمد سجاد جہانیہ ڈائریکٹر پبلک ریلیشنزملتان ،محترمہ ،پروفیسر رضیہ رحمن صاحبہ گورنمنٹ پوسٹ گریجو ایٹ کالج برائے خواتین خانیوال،جناب رفیق مہروی صاحب،جناب نذیر احمد صاحب،جناب محمد شعیب مرزا صاحب،جناب حافظ مظفر محسن صاحب،جناب حاجی لطیف کھوکھر صاحب،جناب عبدالصمد مظفر )پھول بھائی )صاحب،جناب قسور عباس جتوئی صاحب،جناب ولی محمد عظمی صاحب،جناب مظہر جاوید صاحب،جناب نیاز گل ناصر صاحب،جناب خالد چوھدری صاحب،جناب رفیق احمد قریشی صاحب،جناب حسیب اعجاز عاشر صاحب،جناب الطاف احمد صاحب،جناب اختر سردار چوھدری صاحب،جناب ملک شہباز صاحب،جناب فیصل کریم صاحب،،جناب شیخ ندیم اکبر صاحب،جناب شیخ عبید صاحب،جناب سید بدر سعیدصاحب،جناب قلب عباس گردیزی صاحب،جناب مرزا یاسین بیگ صاحب،جناب محمد عمران اعظمی صاحب وغیرہ۔
ان شخصیات نے انعامات حاصل کرنے والوں اور مہمانان گرامی کو ایوارڈز،انعامات اور اسناد سے نوازا۔بعد ازاں ان معزز مہمانوں کو بھی کنوینشن کی یاگاری شیلڈز سے نوازا گیا۔
convention-1کنوینشن میں شریک ان معزز مہمانوں کو بھی یادگاری ایوارڈز ،تحائف اور انعامات سے نوازا گیا۔جناب محمد عبداللہ نظامی صاحب، جناب علی عمران ممتازصاحب، جناب غلام یاسین نوناری صاحب،جناب محمد نواز صاحب،جناب ہارون مشتاق سنگا پوری صاحب،جناب مجید احمد جائی صاحب،جناب حافظ حمزہ شہزاد صاحب،جناب مزمل صدیقی صاحب،محترمہ فرزانہ ریاض صاحبہ و غیرہ۔
اس یادگار کنوینشن اور تقریب تقسیم انعامات کے منتظمین(Organizing team)قاری محمد عبداللہ ،مرزا یاسین بیگ ،عبدالرحیم ،عبدالباری ،حافظ نسیم قریشی ،احسن مغل ،حارث کریم ،نعیم خان بلوچ ،صالح جوئیہ ،زبیر ارشد،حافظہ عمارہ احد،امامہ خان ،جویریہ ثناء ،محمد عرفان ،طفیل شجرا،کو بھی یادگاری شیلڈز سے نوازا گیا۔
مزید برآں کنوینشن میں شریک ہر شخص کو یاگار کے طور پر اعزازی سند اور ماہنامہ پھول کا تحفہ پیش کیا گیا۔مہمانان گرامی کے لئے لذت کام ودہن کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔
صبح 10 بجے شروع ہو کر سہ پہر 3بجے تک جاری رہنے والی اس پُر وقاراور یادگار تقریب کے اختتام پر نئے قلمکاروں نے اپنے پسندیدہ اور سینئر قلمکاروں سے آٹو گراف لے کر اور ان کے ساتھ سیلفیاں بنواکران خوبصورت لمحات کو ہمیشہ کے لئے اپنی آٹو گراف بُک اوریاد داشت کی کتاب میں محفوظ کر لیا۔

Views All Time
Views All Time
337
Views Today
Views Today
1
mm

رضیہ رحمٰن درس وتدریس کے شعبے سے وابسطہ ہیں۔ خانیوال میں ایک کالج میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر اردو خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ اور علم کی یہ خدمت گذشتہ 22 سال سے جاری ہے۔ مختلف ادبی تقریبات کی رپورٹس لکھنے کے علاوہ ادب کی باقی سرگرمیوں میں باقاعدہ حصہ لیتی رہتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   قدرِ ایاز-کرنل محمد خان
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: