ناول کی دنیا

Print Friendly, PDF & Email

مجھے نہیں معلوم کہ ایسی آوازوں پہ لوگوں کا رد عمل کیا ہوتا ہے۔ لیکن میرے ردعمل کا جو طریقہ ہے وہ میرے جیسے لوگوں کو لکھاری بنا ڈالتا ہے۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ ایسا ردعمل ہمیں زیادہ تر نثر لکھنے یا فکشن لکھنے والا بناتا ہے نہ کہ شعر کہنے والا۔ یہاں اور کئی خصوصیات ہیں اس دوا کی جس کی خوراک روز لینا میں یقینی بناتا ہوں۔ اب ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اس کے فعال اجزائے ترکیبی بوریت، حقیقی زندگی اور تخیل کی زندگی ہیں۔ اس اعتراف کرنے میں جو حظ میں اٹھاتا ہوں اور اپنے بارے میں سچائی سے بات کر کے جو خوف آتا ہے۔ یہ دونوں احساسات اکٹھے مجھے ایک انتہائی سنجیدہ اور اہم بصیرت کی طرف لے جاتے ہیں۔ اور اس بصیرت میں، اب میں آپ کو شریک بنانا چاہوں گا۔ میں انتہائی سادہ سا مفروضہ پیش تجویز کرنا پسند کروں گا۔ جو اس خیال سے شروع ہوتی کہ لکھنا مجھ جیسے ناول نگاروں کے لیے تسکین بخش اور مددگار اور یہاں تک کہ ایک علاج جیسی چیز ہے۔ ہم اپنے موضوعات چنتے ہیں اور اپنے ناولوں کی اپنے روز دن میں دیکھے گئے خوابوں کے مطابق صورت گری کر سکیں۔ ایک ناول ہمارے خیالات، جذبات، غصّہ اور خواہشات سے انسپائر ہوتا ہے۔یہ تو ہم سب جانتے ہیں۔

اپنے چاہنے والوں کو خوش کرنے کے لیے، اپنے دشمنوں کو نیچا دکھانے کے لیے، جن چیزوں کو ہم پوجتے ہیں ان کی تعریف کرنے کے لیے، بڑے یقین اور تحکم کے ساتھ ان چیزوں کے بارے میں بات کرنے کے لیے جن کے بارے میں ہم دراصل کچھ جان کاری نہیں رکھتے، ان لمحات کی خوشی منانے کے لیے جن کو ہم کھو چکے۔ اور بس ان کی یاد باقی ہے۔ محبت کرنے کا یا کتاب پڑھنے کا یا سیاست میں ملوث ہو جانے کا خواب دیکھنا، کسی کی مخصوص پریشانیوں میں خود کو بھی مبتلا کرلینا یا کسی کی ذاتی عادات سے خود کو منسلک کرلینا۔ یہ اور ان جیسی مبہم بلکہ حماقت آمیز خواہشات ہیں۔ جو ہماری واضح یا پراسرار انداز میں صورت گری کرتی ہیں۔ ان جیسی خواہشات ہی ہوتی ہیں جو ہمیں دن میں خواب دیکھنے پہ اکساتی ہیں جن کو ہم آواز دیتے ہیں۔ ہم شاید نہیں سمجھ سکتے کہ وہ کہاں سے آتی ہیں یا اگر ہمارے دن کے خواب کسی چیز کا اشارہ ہوتے ہیں تو کس چیز کا، لیکن جب کبھی ہم لکھنے بیٹھتے ہیں تو یہ ہمارے دن کے خواب ہی ہوتے ہیں۔ جو ہم میں زندگی کو پھر سے سانس لینے دیتے، جیسے نامعلوم مقام سے ہوا آ کر یونانی دیوتائی بانسریا کو بجنے پہ مجبور کردیتی ہے۔حتی کہ کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ہم اس پراسرار پروائی کے سامنے مکمل سرنڈر ہو جاتے ہیں۔ اس کپتان کی طرح جسے معلوم نہ ہو کہ کدھر جانا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   آل سعود کے شہزادوں کی لڑائی: ساجھے کی ہنڈیا میں چھید

اسی لمحے ہمارے دماغوں کے ایک گوشے میں ہم نقشے پہ ٹھیک اپنی جگہ کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ جیسے ہم یاد رکھ سکتے ہیں کہ ہم کس طرف سفر کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ان لمحات میں بھی جب میں پروائی کے سامنے سرنڈر کر رہا ہوتا ہوں۔ تو میں اپنی سمت کا عمومی فہم دوبارہ حاصل کرنے کے قابل ہوتا تھا۔ کچھ دوسرے لکھاریوں کے مطابق میں اس سے واقف بھی ہوں اور اس کا مداح بھی۔ اس سے پہلے کے میں اس حالت سے باہر آؤں تو میں منصوبے بنا چکا ہوتا۔ جس کہانی کو میں نے حصّوں میں بتانا ہوتا ہے۔ اسے تقسیم کر دیتا۔ جن بندرگاہوں پہ میرے جہاز کو لنگر انداز ہونا ہے۔ کیا وزن اس نے لادھ کر لے جانا ہے اور کہاں اس کو اتارنا ہے۔ نیز میں جتنا وقت اس سفر کو لگے گا اس کا اندازہ کر لیتا تھا اور اس کے راستے کا تعین بھی کرلیتا۔ لیکن اگر پروائی نامعلوم جگہوں سے آتی اور میرے بادبانوں کو پھلا دیتی ہے تو میں اپنی کہانی کی سمت بدل ڈالنے کا فیصلہ کرتا اور مزاحمت نہ کرتا۔ پوری طرح سے کھلے بادبانوں میں اپنے راستے پہ گامزن جہاز پرجوش طریقے سے جس شئے کی تلاش کرتا ہے وہ کامل و اکمل ہونے کا احساس ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے میں اس خاص جگہ کو تلاش کر رہا ہوں اور اس وقت جس میں ہر شئے ہر شئے کے اندر تیرتی ہے۔ ہر چیز دوسری چیز سے جڑی ہو اور اس بارے باخبر بھی ہو۔اچانک سے ہوا تھم جائے گی اور میں اپنے آپ کو ایسی جگہ شانت پاؤں گا جہاں ہر شئے ساکت ہوگی۔ پھر بھی میں سمجھ جاؤں گا کہ ان شانت اور گدلے پانیوں میں جو چیزیں ہیں اگر میں نے صبر و تحمل سے کام لیا تو یہ ناول کو آگے بڑھائیں گی۔ میں لمبے عرصے تک جس روحانی انسپائریشن کی تلاش کرتا رہا ہوں میں نے اس کو اپنے ناول”برف” میں بیان کیا ہے۔ یہ انسپائریشن ویسی ہے جیسی کولرج نے "قبلا خان” میں بیان کیا ہے۔ اور یہ کے اے "برف” کے ہیرو جیسی ہے۔ مجھ تک یہ انسپائریشن ڈرامائی انداز میں آتیں اور ترجیحی طور پہ پہلے سے تشکیل پا گئے۔ مناظر اور حالات میں جو کہ ناول میں ٹھیک ٹھیک بٹھائے جاسکتے تھے۔ اگر میں صبر کرتا اور پوری توجہ ان پہ مرکوز رکھ کر انتظار کرتا ہوں تو میری خواہشیں حقیقت کا روپ دھار لیتی ہیں۔ ایک ناول لکھنا ان خواہشوں، ہواؤں اور انسپائریشن کے سامنے خود کو کھول دینا ہے۔ اور یہ اپنے دماغوں کی فراغت اور ان کے دھندلے و ساکت لمحوں کی تاریکی کے سامنے رکھ دینے کا نام ہے۔ جو بھی ناول یا کہانی ہو وہ اپنے بادبانوں کو ان ہواؤں سے بھرتی ہے۔ جو ان کو جواب دیتی اور انسپائریشن پہ تعمیر اٹھاتی ہےجو کہ نامعلوم جگہوں سے چلتی ہے اور تمام دن کے خوابوں کو گھیر لیتی ہے جن کے لیے ہم نے بدلاؤ کے مقام ایجاد کرتے ہیں اور ان سب کو ایک بامعنی وحدت میں لے کر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   ریمنڈ ڈیوس کہانی کا عدالتی منظر| ترجمہ بلال حسن بھٹی

ان سب سے ہٹ کر ایک ناول ایک سرنگ ہوتی ہے جو کہ ایک ڈریم ورلڈ /دنیائے خواب سے گزرتی ہے جسے ہم ہمیشہ زندہ اور ہمیشہ تیار رکھنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ ناول دن کے خوابوں کے چھوٹے ٹکڑوں سے جوڑ کر بنائے گئے ہوتے ہیں۔ جو کہ جیسے ہی ہم ان میں داخل ہوتے ہیں وہ ہماری مدد کو آتے ہیں اور ہم اکتا دینے والی دنیا بارے بھول جاتے ہیں جس سے ہم ایک عرصے سے فرار ہونا چاہتے ہیں۔

جتنا زیادہ ہم لکھتے ہیں اتنا ہی امیر و وسیع یہ خواب ہو جاتے ہیں اور زیادہ مفصل زیادہ مکمل سرنگ کے اندر ثانوی دنیا نظر آتی ہے۔ ہم اس دنیا سے لکھنے کے زریعے متعارف ہوتے ہیں۔جتنی اچھی طرح سے ہم اس کو سمجھتے ہیں اتنا ہی آسانی سے ہم اسے اپنے دماغوں میں رکھ پاتے ہیں۔ اگر میں کسی ناول کے وسط میں ہوں اور بہتر لکھ رہا ہوتا ہوں تو میں آسانی سے اس کے خوابوں میں داخل ہو جاتا ہوں۔ کیونکہ ناول نئی دنیائیں ہیں جن کے اندر مطالعے کے ذریعے خوشی سے داخل ہو سکتے ہیں یا زیادہ کامل طریقے سے لکھ کر داخل ہوسکتے ہیں۔

( اورحان پامک کی کتاب ‘ دوسرے رنگ’ کے پہلے باب کا تیسرا حصّہ۔مترجم:عامر حسینی)

Views All Time
Views All Time
534
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: