Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

غیرتوں کی محافظ ذرا سی عورت

by جون 13, 2016 کالم
غیرتوں کی محافظ ذرا سی عورت
Print Friendly, PDF & Email

sana batoolکردار بدلتے ہیں کہانی وہی پرانی ہے۔ایک رشتوں، حوالوں، عزتوں اور غیرتوں کی محافظ کمزور ،کم عقل اور جاہل عورت جسےنہ سوچنے کا شعور ہےنہ کچھ سمجھنے کا ،جونہ تو انسان ہے کہ کچھ محسوس کر سکےنہ ہی آزاد کہ مرضی سے زندگی کا فیصلہ کر پائے ۔اس سب کے باوجود اس کے کندھوں پر خاندان، باپ، بھائی، خاوند اور بیٹے سب کی عزتوں کا بھار ہے جونہ تو اسے ڈھنگ سے جینے دیتا ہےنہ ہی مرنے دیتا ہے۔ارےنہیں ٹهریئے غلطی ہوئی۔ مرنے تو دیتا ہے بلکہ مار ہی دیتا ہے۔ کبھی وه صبا کی شکل میں باپ کے هاتھوں غیرت کا نشانہ بنتی ہے۔تو کہیں محض فون پہ بات کرنےکےشک پہ سمیرا کی شکل میں بھائی کی نام نہاد غیرت کی بھینٹ چڑھتی ہے ۔کہیں وه کسی دوست کی مدد کرنے کے جرم میں جرگے کے فیصلے کی نذرہو کر گاڑی میں زنده جلائی جاتی ہے تاکہ لوگوں کے دلوں میں دھاک بیٹھ جائے اور آئنده بغاوت کا خیال کسی ذہن میں نہ ابھرے۔اور کہیں اسے اس جرم میں نذرِ آتش کیا جاتا ہے کہ وه اپنے سے دوگنی عمر کے مرد کی دوسری بیوی بننے سے انکار کرتی ہے.یہاں تک بات مردوں کی اجاره داری اور حکمرانی کی ہے۔ لیکن زینت کو اس کی ماں جلاتی ہے بہانے سے گھر بلا کر کہ اس کا پسند سے شادی کرنا اب گھر والوں کے لیے قابل قبول ہے وه اسے ”عزت” سے رخصت کرنا چاہتےہیں۔ ایک لمحے کو سوچئے کیا یہ اس کی ماں کی غیرت اور عزت پہ لگنے والا داغ تھا کہ جس نے اسے اتنا مشتعل کر دیا کہ اس نے اپنی ہی اس بیٹی کو جسے اس نے اپنے خون سے سینچا تھا جلا ڈالا اور اف تک نہ کی؟ یا یہ سماج کی وه گهناؤنی سوچ تھی جو اس عورت کی روح میں رچ بس چکی تھی کہ مرضی سے اور خاندان کے خلاف شادی کر کے اس نے خاندان کی نام نہاد عزت خاک میں ملا دی اوراس کی عمر بھر کی کی زنده لاش بن کے رہنے کی تربیت کو پل بھر میں بھلا دیا؟ جی ہاں یہی وہ سوچ ہے جونہ تو فرد کو اپنی مرضی سے جینے دیتی ہےنہ ہی سوچنے دیتی ہے۔ روایات کی اندھی پٹی جن آنکھوں پہ بندھی ہو انہیں نہ تو احساسات نظر آتےنہ اپنے بچوں کے حقوق اور جذبات کا ادراک ہوتا ہے- خرابی کہاں ہے؟جنریشن گیپ اور کمیونیکیشن گیپ جیسے الفاظ کہاں نمو پاتے ہیں؟اس معاشرے میں جہاں والدین احترام اور رعب کے نام پر بچوں سے اتنا فاصلہ رکھتے ہیں کہ بچے اپنی کسی ایسی خواہش کا اظہار کھل کرنہیں کر پاتے جو ان کے خاندان اور سماجی روایات سے متصادم ہو چاہے وه بات کتنی ہی عقلی، قانونی و مذہبی لحاظ سے درست کیوں نہ ہو .نتیجتاََ وه ایسا چور راستہ ڈھونڈتے ہیں جس کی کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔لیکن اس راستے کو اختیار کرنے کے بعد جو مشکل سامنے آتی ہے وہ اسی سماج کا سامنا کرنے کی ہے جس کی روایات اور رسومات سے فرار اختیار کیا گیا ہو۔پھر وہی محبتوں کے جھانسے جن پر غیرت اتنی غالب آچکی ہوتی ہے معاشرے کے ترازو میں روایات کا پلڑا بھاری اور انسانی جان بے مول ہو جاتی ہے۔ غیرت کے قصے جو کسی کی جان تو لے سکتے ہیں روایات پہ نظر ثانی نہیں کر سکتے جو کمزور اور پوری طرح سے ان کے رحم و کرم پہ رہنے والی کسی بھی سمیرا، عنبرین، صبا یا ماریہ کو جلا کے چاقو کے پہ در پہ وار کر کے یا گولی مار کے ان کی لاشوں پہ اپنی غیرت کے علم کو بلند کر سکتے ہیں۔لیکن خود کچھ سوچنے سمجھنے کی زحمت گوارہ نہیں کر سکتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی ہی غیرت ہے؟ کیا واقعی ہی کسی بیٹی، بہن،بیوی یا مظلوم عورت کو مار کے عزت اور غیرت کا تمغہ مل جاتا ہے؟یانہ ختم ہونے والے پچھتاوے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے یہ جاننے کے بعد کہ لوگوں کو جو کہناہے کہ کر بھول جائیں گے لوگ ان کی زندگی کے ٹھیکہ دارنہیں ہیں یہ ان کوخود جینا تھی اس کے لیے وه جواب ده ہیں اور اپنے ہر عمل کے لیے وه خود ذمہ دار ہیں .لیکن کون سوچتا ہے؟ اور کیوں کر سوچے کہ جو معاشرے ذہنی طور پر مفلوج ہوں وہاں سوچ کا کیا کام وہاں برداشت کا گزر کہاں ؟وہاں توہر کام ہر بات جذبات کی رو میں بہہ کر کی جاتی ہے وہا ں کسی کو جگہ دینے اور کسی کی بات سننے سمجھنے کا یارا کہاں؟افسوس کہ ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں جو ذہنی پسماندگی کا شکار ہے جو روایات کی اندھی تقلید کرتا ہے ۔جو عورت کو عزت دینے کا دعویٰ تو کر سکتا ہے لیکن اسے انسان نہیں سمجھ سکتا جہاں عورت کاذہن ،جسم روح ،سوچ سب ایک قیدی سے زیادہ حثیت نہیں رکھتیں۔جہاں اس کی زندگی اور موت کا فیصلہ ان حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے جو اندھے، بہرے اور نفسیاتی طور پر بیمار ہیں جو نہ کچھ سمجھ سکتے ہیں نہ اپنے دماغ کی کوئی کھڑکی کھول سکتے ہیں کہ نئی سوچ کے کسی جھونکے کا وہاں گزر ہو سکے۔تو کیا اس بات کی ضرورت نہیں کہ ہم اپنی انا،جھوٹی روایات اور تصوراتی دنیا سے سے باہر نکلیں۔ برداشت اور رواداری پہ مبنی معاشرہ تشکیل دیں جہان ہر انسان اپنی زندگی جی سکے اپنے لیے فصلے کر سکے اپنی زندگی کا راستہ خود چن سکے۔جنہیں اختلاف کا احترام ہو جہاں انسانی جان روایات سے زیادہ مقدم ہو۔سوچئے نوحہ کناں ہونے کی بجائے اپنے حصہ کا چراغ جلائیے۔

Views All Time
Views All Time
1254
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کراچی کو مزید کرچی کرچی کرنے سے اجتناب کیجئے حضور!
Previous
Next

One commentcomments2

  1. true and outstanding SANA Aapi..!!!
    Allah bless you Amin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: