Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اسلام کو مولوی سے ہی کیوں بچائیں؟

اسلام کو مولوی سے ہی کیوں بچائیں؟
Print Friendly, PDF & Email

بلا ہچکچاہٹ میں یہ اعتراف کرتا ہوں کہ میں ایک ناقص طالب علم ہوں لیکن میری خواہش ہے کہ اس خوبصورت دنیا کو چھوڑنے سے پہلے میں اپنا شمار اچھے طالب علموں میں کروا سکوں.
"اسلام کو مولوی سے بچاؤ” لکھنے کی وجہ خود کو لکھاری ثابت کرنا اور اہل علم میں شمار کروانا ہرگز نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ وہ اذیت ہے جو پاکستان اور اسلام کا پوری دنیا میں مذاق بنتے دیکھ کر مجھے پوری طرح جکڑے ہوئے ہے.
ہماری رسوائی کی بے شمار وجوہات ہیں اور میرے خیال میں ہر طبقے نے پوری ایمانداری سے پاکستان اور اسلام کو بدنام کرنے میں اپناحصہ ڈالا ہے لیکن مجھے پاکستان اور اسلام کا مذاق بنوانے میں سب سے اہم کردار "مولوی” نظر آیا.
میرے خیال میں مولویت ایک سوچ بن چکی ہے جس نے اجتماعی طور پر پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے. میرے ذاتی اندازے کے مطابق ہمارے معاشرے کے 90% افراد مولویوں پر مشتمل ہیں جس میں سوشل میڈیا کے لبرل بھی شامل ہیں .کالج، یونیورسٹیوں کے طلباء و طالبات اور پروفیسرز بھی شامل ہیں اور گاؤں دیہات کے ان پڑھ بھی.
یہ سب مولوی کیسے ہیں؟ میں انہیں مولویوں میں اس لیے شمار کرتا ہوں کہ ان میں سے ہر شخص خود سے بڑا دانشور، فلسفی، عالم اور مفتی کسی کو نہیں سمجھتا. دوسروں کی نہیں سنتا بلکہ صرف اپنی سناتا ہے. دلیل کی بجائے تذلیل پر یقین رکھتا ہے. ہر قسم کے قوانین جو ملکی ہوں یا مذہبی اپنے علاوہ باقی سب پہ لاگو دیکھنا چاہتا ہے. اصل میں یہ سوچ ملائیت کی ایجاد ہے جو رفتہ رفتہ پوری قوم میں سرایت کرچکی ہے اور پوری قوم ذہنی طور پر غلام بن چکی ہے.سوچ پر پہرے مولوی نے بٹھائے اور آج سوچ کے اعتبار سے قوم کی اکثریت مولوی ہے.
میں ذاتی طور پر عالم دین اور مولوی کو الگ الگ طبقات دیکھتا ہوں. ہمارے معاشرے میں علماء نہ ہونے کے برابر ہیں اور مولوی ہر جگہ آسانی سے دستیاب ہیں اور جو علماء حضرات ہیں وہ بھی اپنی عزت سے ڈرتے ہوئے خاموش ہیں کیونکہ اگر کوئی عالم دین ذرا بھی روایت سے ہٹ کر بات کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر پہلا فتوی اس کے اپنے مسلک کے مولویوں کی طرف سے آتا ہے.
سچ یہ ہے کہ مولوی کا اسلام ایک پیشہ ہے. پیشہ ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کے اس سے ذاتی مفادات وابستہ ہیں.یہی وجہ ہے کہ ہر فرقے کی نظر میں باقی فرقوں کے لوگ کافر، مشرک، بدعتی اور گستاخ ہیں اور آج تو ہر فرقے کے اندر بھی بہت سارے فرقے بن چکے ہیں جو اپنے ہی لوگوں سے علیحدہ شناخت کے لیے جدوجہد کررہے ہیں. یہ الزام نہیں حقیقت ہے کہ ملاازم میں سوال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، سوال پوچھنے والوں اور تحقیق کرنے والوں کو گمراہ سمجھا جاتا ہے.
اصل بات یہ ہے کہ حضور نبی کریم ص جو اسلام لائے تھے، مولوی نے اسے یرغمال بنا رکھا ہے اور مکمل ضابطہء حیات کی جگہ اپنی ذاتی محنت و کاوش سے تیار کردہ مذہب کو اسلام بنا کر لوگوں میں پھیلا دیا ہے جس کا واضح نتیجہ بے عملی اور پوری دنیا میں تذلیل ہے. اس لیے مجھے لگتا ہے کہ آگے بڑھنے کے لیے ہمیں اسلام پر سے مولوی کی اجارہ داری ختم کرنا ہوگی اور اسلام کو مولوی سے بچانا ہوگا. سوچنے سمجھنے اور سوال کرنے کی صلاحیت اپنی قوم کو لوٹانی ہوگی اور علم کو معاشرے میں بحال کرنا ہوگا.
"اسلام کو مولوی سے بچاؤ” انتہائی سادہ زبان میں لکھی گئی کتاب ہے تاکہ ایک عام آدمی بھی سمجھ سکے اور فیصلہ کرسکے. کتاب کے اندر ایسی کسی حدیث یا متنازعہ تاریخ کو شامل نہیں کیا گیا جس سے مولوی انکار کرسکیں.
مولوی صاحبان اپنی تقاریر میں اکثر علامہ اقبال کے اشعار پڑھتے ہیں اس لیے علامہ کے 100سے زیادہ اشعار کو بھی کتاب میں شامل کیا گیا ہے جن میں علامہ نے براہ راست مولوی کو اسلام اور مسلمانوں کی رسوائی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے. کتاب میں مولوی کے کاروبار کے تقریبا تمام پہلووں پر اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے بات کرنے کی کوشش کی گئی ہے.
کتاب کے آخر میں مولوی صاحبان سے کچھ بچگانہ سوالات بھی کیے ہیں. بچگانہ اس لیے کہ عقل مند انسان پاکستان میں رہتے ہوئے ایسے سوال پوچھنے کی حماقت نہیں کرسکتا.
کتاب میں کچھ احادیث بھی شامل کی ہیں جن میں نبی کریم ص نے پیشہ ور مولویوں کی نشانیاں بتائی ہیں. وہ حدیثیں خود مولویوں کی کتابوں میں بھی ملتی ہیں لیکن وہ ان کےمسلک کے علاوہ باقی تمام مسالک اور فرقوں کے مولویوں کے لیے ہوتی ہیں.
میری رائے یہ ہے کہ پاکستان کے لیے اسلامی نظام کے علاوہ کوئی دوسرا نظام مفید ہو ہی نہیں سکتا لیکن ہمیں نظام مصطفی چاہیے، نظام مولوی نہیں…
ہو سکتا ہے یہ دیوانے کا خواب ہو لیکن میں پوری کوشش کروں گا کہ ہماری قوم کی سوچوں پر جو پہرے مولوی نے بٹھائے ہیں، ان سے اس قوم کو نجات دلاؤں…
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے…اس جاں کی تو کوئی بات نہیں

Views All Time
Views All Time
1063
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   باپ تو ہے نا
Previous
Next

One commentcomments2

  1. جناب تنویر عالمگیر صاحب

    اسلام علیکم
    جناب والا آپ کی تحریر پڑھنے کا موقع ملا تحریر کی ابتد سے ہی اس بات کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ آپ کس بات سے بہت زیادہ الرجک ہیں مگر اتنی شدت کے ساتھ لکھی گئی تحریر میں بے تحاشہ تضادات ہیں ایسے میں ایک عام قاری جسے اسلام میں ملا ازم کے کردار سے متعلق آپ کی بیان کردہ باتوں سے اتفاق ہو سکتا مگر وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا کیونکہ اسی تحریر میں آپ نے قاری کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ سب برے نہیں ان مسالک میں اچھے لوگ بھی موجود اور پھر دوسرے مقام پر آپ اسی بات کو اس طرح سے رد کر دیتے ہیں کہ ان اچھے علماء کی خاموشی انہیں ایک سوالیہ نشان ہے ایک طرف آپ کا مسالک پر کھل تنقید کرنا اور چند سطروں کے بعد اسی مسلک کے لیے جذبہ احترام جاگ اٹھتا یہی حال آپکا مولوی علماء کی برائی کے وقت ہوتا ہے
    میرا آپ سے سوال ہے کہ ایسا کیوں ہے؟
    یہ کیا بات ہوئی کہ اسلام کو جس چیز خطرات لاحق ہیں پھر اس چیز جواز کے لیے اچھے برے کی تمیز شروع ہو جاتی یاتو آپ اس بات کا تعین کرلیں کہ اسلام میں مولوی اور فرقوں کی گنجائش ہے جب آپ اس بات کو بیان کرتے ہیں کہ اسلام میں ان چیزوں کی قطعاً گنجائش نہیں تو پھر یہ تقسیم چہ معنی دارد یہ بات بالکل روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام میں نہ تو مولوی کا کوئی وجود ہے اور نہی فرقوں کا اس کے دلائل قرآن و حدیث میں جابجا دستیاب ہیں یہ ہیں وہ تضادات جو آپ کی تحریر گہن لگا دیتے ہیں آپ سوچتے ہوں گے کہ یہ کیوں کر ممکن ہے کہ میری تحریر میں کوئی تضاد ہو تو میں آپ کے سامنے آپ کی تحریر رکھ دیتا ہوں

    "تو میری ان دوستوں سے گزارش ہے جنہیں مسلکی بدنامی کی فکر لاحق ہے کہ مسلک کو چهوڑ کر مسلمان ہوجائیں۔ مسلک کی چهوڑیں اسلام کی فکر کریں۔ اسلام جو غالب ہونے کے لیے آیا تها، ہماری مسلکی بدنامی کی فکر نے اسے مغلوب کردیا ہے۔”

    میرے بارے قطعا یہ گمان مت کیجئے گا کہ میں ان مسالک اور گروہوں کا طرفدار ہوں امید ہے کہ آپ میرے گزارشات پر غور کریں گے

    والسلام

    صابر علی کراچی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: