پیپلز پارٹی منفرد کیوں ہے

Print Friendly, PDF & Email

مختلف نیوز چینلز پر حسب معمول دوران ٹرانسمیشن مختلف سیاسی جماعتوں کے اشتہار بطور پیڈ کانٹینٹ دکھائے جارہے ہیں۔ ان میں نون لیگ، تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے اشتہار بار بار اور وقفے وقفے سے ہر چینل پر نشر ہورہے ہیں۔

میں نے ان تمام اشتہارات کا بالکل نیوٹرل ہوکر مشاہدہ کیا تو مجھے تحریک انصاف کے اشتہار میں نئے پاکستان کی تعمیر کا عزم،اقبال کے خواب کی تکمیل کا ارادہ اور پاکستانیوں کو عمران خان کی طرف سے دیا گیا یہ پیغام نظر آیا کہ اللہ نے آپ کو نیا پاکستان بنانے کا موقع دیا ہے۔ پشاور میں شوکت خانم کی تصویر کے علاوہ 92 کا ورلڈ کپ جیتنے کے مناظر بھی دکھائے گئے ہیں۔ پختونخواہ میں پولیس ریفارمز کا ذکر کیا گیا۔ بلین ٹری پراجیکٹ کا ذکر کیا گیا۔ اشتہار کا مرکز حسب توقع عمران خان کی شخصیت ہے۔

نون لیگ کے اشتہار میں نواز شریف کے مختلف ادوار حکومت کے ویڈیو کلپس ہیں، میٹرو، اورنج لائین، موٹروے،پل، سڑکیں، ریلویز کی بہتری اور ان دیگر پراجیکٹس کی تفصیل ہے جو نون لیگ اپنا اختصاص سمجھتی ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس میں سی پیک کو بھی نون لیگ کا کارنامہ بتایا گیا ہے جبکہ ایٹمی دھماکوں کی ویڈیو بھی دکھائی جاتی ہے۔ ان اشتہارات کے مطابق نون لیگ نے لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ بھی حل کردیا ہے اور بند صنعتیں بھی کھلوا دی ہیں۔ اشتہار کا مرکز نواز شریف و شہباز شریف ہیں۔

پیپلز پارٹی کا اشتہار اس بار اس روایتی "قلندرانہ مزاج” سے ہٹ کر ہے جو پیپلز پارٹی کا اختصاص ہے۔ وہ مشہور زمانہ بلوچی ترانہ ابھی تک سننے کو نہیں ملا جو پیپلزپارٹی کے ساتھ ساتھ اکثر اس کے ناقدین کو بھی جھومنے پر مجبور کردیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   عامر لیاقت ہمارے میڈیا کا گلو بٹ - اختر عباس

پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کا یہ اشتہار بلاول بھٹو کے مختصر مگر جامع پیغام پر مشتمل ہے۔ انتہائی مدلل اور پر اثر انداز میں بلاول بھٹو پیپلز پارٹی کی ترجیحات بتا رہا ہے جن میں ملک کہ 60 فیصد آبادی کی غذائی قلت کا ذکر ہے، کم ہوتے ہوئے آبی ذخائر کا ذکر ہے، صحت کے مسائل کا ذکر ہے، کسان کا ذکر ہے ،اس کے سوکھے کھیتوں کا ذکر ہے ،کسان کارڈ کا ذکر ہے، بھوک مٹانے کا عزم ہے، صنعت و زراعت کا ذکر ہے، ان بچوں کا ذکر ہے جو تعلیم و صحت سے محروم ہیں، روزگار کا ذکر ہے بینظیر انکم سپورٹ کا ذکر ہے، استحصال کا شکار طبقے کا ذکر ہے اور سب سے زیادہ اہم۔۔۔ اس میں ان پاکستانی خواتین کی اہمیت کا ذکر ہے جو ہماری آبادی کا 51 فیصد ہیں۔ اپنی ترجیحات بتانے کے بعد بلاول عوام سے مخاطب ہوکر کہتا ہے کہ "پیپلز پارٹی کی ترجیح آپ ہیں”۔

اس اشتہار کا مرکز بلاول بھٹو نہیں بلکہ عوام ہیں اور یہی وہ اختصاص ہے جو پیپلزپارٹی کو دوسروں سے الگ کرتا ہے۔ اشتہار دیکھ کر آپ کو احساس ضرور ہوگا کہ یہ اشتہار "طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں” کو ذہن میں رکھ کر بنایا گیا ہے۔ میں یہ قطعا ََنہیں کہہ رہا کہ پیپلزپارٹی ہمیشہ ان ترجیحات پر عمل کرنے میں کامیاب رہی ہے لیکن میں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ پیپلزپارٹی پاکستانی سیاست میں اپنے لیے یہ تاثر قائم کرنے میں ضرور کامیاب ہوئی ہے کہ غریب، پسماندہ،محنت کش، کسان اور خواتین کو اگر کوئی مخاطب کرتا ہے تو یہی پیپلزپارٹی۔ غریب ناراض بھی اسی سے ہوتا ہے جس سے اسے کوئی امید ہو۔ کون اس حقیقت کو جھٹلا سکتا ہے کہ غریب کے منہ میں زبان اسی پارٹی نے دی۔

یہ بھی پڑھئے:   سچ آکھیاں بھانبڑ مچ دا اے

عین ممکن ہے کہ آپ کو ان تینوں جماعتوں کی انتخابی مہم کے اشتہارات کے بارے میں میرا مشاہدہ یک طرفہ محسوس ہو ۔ لہذا میں آپ کو بھی دعوت فکر دیتا ہوں کہ آپ بھی نیوٹرل ذہن کے ساتھ ان اشتہارات سمیت ہر پارٹی کے منشور کا سرسری جائزہ لیں اور دیکھیں کہ عوام کو صحیح معنوں میں ایڈریس کہاں کیا گیا ہے اور انہیں اپنی ترجیح کہاں کہا گیا ہے۔ میری رائے میں تو پیپلزپارٹی اپنے بلوچی ترانے کی طرح اس معاملے میں بھی منفرد نظر آرہی ہے۔

 

Views All Time
Views All Time
1200
Views Today
Views Today
7

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: