ترکی میں فوج کی بغاوت کیوں ناکام ہوئی ؟؟

Print Friendly, PDF & Email

Anwar Abbas Anwar newموو آن کے بینرز پاکستان میں آویزاں ہوئے ۔’’منتوں اورترلوں‘‘اور ’’ جنرل راحیل شریف جانے کی باتیں ہوئیں پرانی اب آ بھی جاؤ‘‘ کے مطالبات ملک کے بڑے شہروں کی شاہراہوں کے بعد میڈیا کی زینت بنے ، کسی نے موو آن پارٹی کے عہدیداران کے خلاف بغاوت اور غداری کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کی بات کی تو کسی نے یہ بینرز آویزاں کرنے والوں کے خلاف قانون کو حرکت میں نہ لانے والے حکمرانوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا اور سمجھ لیا کہ انہوں نے اپنا فرض ادا کردیا ہے۔
پاکستان کے دارالحکومت سمیت دیگر شہروں میں آویزاں کیے گئے بینرز نے رنگ ترکی میں دکھایا ایسا کیوں ہوا؟ ترک فوج میں موجود فتح اللہ گولن کے پیروکاروں کو شائد یقین ہو چکا تھا کہ اسلام آباد میں بھی لیفٹ رائٹ ،لیفٹ رائٹ ہونے جا رہا ہے اس لیے انہوں نے بے ترتیب اور بغیر کسی باقاعدہ منصوبہ کے مارشل لا کے نفاذ کا اعلان کرنے میں جلد بازی کا مظاہرہ کیا ،کیونکہ فوج کی کمان کی شمولیت کے ساتھ باقاعدہ منصوبہ سازی سے برپا کی جانے والی فوجی بغاوتیں کبھی ناکامی سے دوچار نہیں ہوتیں۔ ناکام ان فوجی بغاوتوں کو کہا جا تا ہے جو فوج کے سپہ سالاروں کی رضامندی کے بغیرکی جاتی ہیں۔ مصر کے انور سادات اور لیبیا کے معمر قذافی کو مثال نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ اس وقت حالات کچھ اور تھے۔
ترکی کی بغاوت کو ناکام بنانے میں وہاں کی بہادر سیاسی قیادت کا بھی اہم کردار ہے، یہ کردار ترکی کے عوام کی جانب سے برسراقتدار جماعت کی قیادت پر اندھا اعتماد ہونا ہے۔ ترکی کی برسراقتدار جماعت نے بھی اپنے عمل و کردار اور قول فعل سے ثابت کیا ہے کہ وہ ترکی کے عوام کی قیادت کرنے کے اہل اور حقدار ہیں ترکی کے قائد طیب اردوان اور انکے دیگر ساتھیوں نے عوام کی خدمت کے نئے ریکارڈ قائم کرکے عوام پر باور کیا ہے کہ انہوں نے ان پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے وہ اسے کبھی ٹھیس نہیں پہنچائیں گے اور نہ ہی ان کے اعتماد اور بھروسے کو اپنی ذاتی اغراض و مقاصد کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔
آج اگر طیب اردوان کی ایک پکار پر ترکی کے عوام جان ،مال ، عزت آبرو حتٰی کہ اپناسب کچھ داؤ پر لگا کر ترکی کی سڑکوں پرنکل آئے اور مسلح فوجیوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کرکھڑ ہوگئے اور سڑکوں پر رواں دواں فوجی ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے ۔ترکی کے نہتے عوام نے ٹینکوں کے اندر سے مسلح فوجیوں کو باہر گھسیٹ کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے تو اس کے پس پردہ بھی ترکی کے حکمرانوں کی عوام سے سچی محبت ،جمہوریت پر پختہ ایمان کارفرما ہے عالمی برادری کی تاریخ ترکی عوام کی اس ہمت،جرآت اور بے باکی کی لازوال داستان کو کبھی فراموش نہ کرپائے گی۔
پاکستان کے میڈیا پر دکھائی جانے والی ایک تصویر نے فوجی راج کے دلدادہ خود غرضوں کے ٹولے کو یقیناََ پریشان کیا ہوگا ۔تصویر میں ترکی میں جمہوریت کا بستر گول کرنے کے خواہاں باوردی فوجی اوندھے منہ زمین پر لیٹے ہوئے ہیں اور نہتے عوام آئین اور دستور کو تاراج کرنے کا بوجھ اٹھانے والی ان کی پشتوں پر درے مار رہے ہیں،یہ مناظر بہت تکلیف دہ ہیں لیکن ان سے زیادہ دلچسپ مناظر نہتے عوام کے ہاتھوں مسلح فوجیوں کی گرفتاری ہے۔ نہتے عوام نے بڑی جرات و بہادر کے ساتھ مسلح فوجیوں کو گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کر کے ترکی کی سرزمین کو بے آئین ہونے سے بچالیا۔
پاکستان کے حکمران ترکی کے سربراہوں کو اپنا رول ماڈل اور آئیڈیل تسلیم کرتے ہیں،ہمارے وزیر اعظم نواز شریف بھی طیب اردوان کو اپنا ہیرو مانتے ہیں جبکہ ان کے بھائی خادم اعلی تو طیب اردوان اور ان کے رفقائے کار کی خدمت عوام کو دیکھ کر ہی خادم اعلیٰ کہلوانے لگے ہیں وہ اپنے وزیر اعظم بھائی سے کہیں زیادہ ترکی کے حکمرانوں سے متاثر ہیں، ویسے تو ہمارے حکمران چین اور سعودی عرب کو بھی اپنا رول ماڈل قرار دیتے ہیں۔
آجکل میڈیا میں کافی شور غوغا ہے کہ حکومت اور آرمی چیف کے مابین تعلقات میں سرگرمی نہیں دوسرے الفاظ میں سب اچھا نہیں ہے، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں آویزاں بینرز کے پیچھے بھی یہی سوچ کام کررہی ہے، زیر گردش خبروں کے مطابق فوج پاک چین اقتصادی راہداری کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی آرزو مند ہے جبکہ حکومت ایسا کرنے کے موڈ میں نہیں کیونکہ حکومت کے خیرخواہوں کے نزدیک اگر ایسا ہوگیا تو حکومت کے پاس کرنے کو کچھ نہیں رہ جاتا، کیونکہ خارجہ و داخلہ امور سمیت بہت کچھ پہلے ہی افواج کے حوالے کیا جا چکا ہے۔
گزشتہ روزایک نجی چینل پر ایک ریٹائرڈ جنرل جو اس چینل پر اینکر بنے ہوئے ہیں کا کہنا تھا کہ خدا نخواستہ اللہ نہ کرے ،اللہ نہ کرے پاکستان میں مارشل لا کے نفاذجیسی انہونی ہو تو میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ اس حکومت کے وہ لوگ جو اس وقت بڑے کھڑپینچ بنے ہوئے ہیں سب سے پہلے مارشل لا لگانے والوں کے گلے میں ہار ڈال رہے ہوں گے ،لیکن نواز شریف اور شہباز شریف کو یقین ہے کہ اگر خدا نخواستہ پاکستان میں بھی فوجی بغاوت ہوگئی تو پاکستان کے عوام بھی ان کے ایک اشارے پر لاہور اور اسلام آباد کی سڑکوں پر نکل آئیں گے، جب کہ پاکستان کے عوام خصوصا پنجاب کے موڈ سے واقفیت رکھنے والے باخبر افراد کا موقف ہے کہ اگر ایسی انہونی وارد ہوئی تو پاکستان کے عوام ترکی کے عوام کی تقلید نہیں کریں گے اسکی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے عوام ویسا نہیں سوچتے جیسا ترکی کے عوام سوچتے ہیں، پاکستان کے جمہوریت پسند عوام مٹھی بھر آمریت پسندوں کے ہاتھوں کیوں یرغمال بنے رہتے ہیں؟یہ اسلام آباد ،کراچی ،کوئٹہ اور لاہور کی شاہراؤں پر آئین شکن فوجیوں کے مد مقابل کیوں نہیں آتے؟اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ترکی میں فوجی راج کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کی بیخ کنی کی جا چکی ہے وہاں فوجی راج کے دلدادہ دوربینوں سے تلاش کرنے سے بھی نہیں ملیں گے جبکہ پاکستان میں میڈیا کے چینلز ،اخبارات میں پیڈ لوگ موجود ہیں جو عوام کو سیاست اور سیاستدانوں سے گمراہ کرنے کے فرائض سرانجام دینے پر مامور ہیں، علامہ طاہر القادری، مسلم لیگ قائد اعظم کی قیادت سمیت لاکھوں میں مارشل لا کے چمچے کڑچھے موجود ہیں اس صورتحال میں اسلام آباد کی شاہراہ دستور اور لاہور کی شاہراہ قائد اعظم اور دیگر اہم شاہراہیں ترکی کی شاہراہوں میں کیسے تبدیل ہو سکتی ہیں؟

Views All Time
Views All Time
588
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   این آر او کی بازگشت | اکرم شیخ - قلم کار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: