شہید احمد خان کھرل کو کیوں بھلا دیا گیا

Print Friendly, PDF & Email

toqeer sajidشہید احمد خان کھرل 1776 رائے نتھو خاں کھرل کے گھر پیدا ہوئے۔ کھرلوں کی ایک شاخ باجے کے کھرل سے تعلق تھا۔ 1857 میں گنجی ساندل اور نیلی بار میں انگریزوں کے مخالف مجاہدین کی قیادت کا اعزاز آپ کو حاصل ہوا۔21 ستمبر 1857نورے کی ڈل نزد گشگوریاں میں شہادت پائی۔ آپ کا سرتن سے جدا کرکے گوگیرہ جیل کے دروازے پر لٹکا دیا گیا۔ داد فتیانہ نے شہید احمد خاں کھرل کے قتل کا بدلہ لیتے ہوئے برکلے کو قتل کیا داد فتیانہ کو اس جرم میں پھانسی دے دی گئی ۔
شہید احمد خان کھرل نے ضلع گوگیرہ (ساہیوال) میں1857میں انگریزی افواج سے دوبدو باقاعدہ گوریلا جنگ کی اس موقع پر دریائے راوی ،چناب اور ستلج کے کنارے آباد بہادر مقامی باشندے مجاہدین آزادی کے خون کا بدلہ چکانے کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے اور انگریزوں کے خلاف بغاوت کا اعلان کیا۔ کیمپوں پر چھپ کر حملے کرتے حتیٰ کہ مجاہدین نے جولائی سے اکتوبر کے اس دورانیہ میں ایک قسم کی آزاد اور خودمختار حکومت قائم کی اور سرکار کو لگان دینا بند کر دیا۔لیکن انگریز کے وفاداروں نے حریت پسندوں کی تمام کاوشوں پر پانی پھیر دیا۔ انگریزوں سے انعامات کے لالچ میں شہداء کی قربانیوں کو فراموش کردیا گیا ۔مجاہدین کی بستیاں نذر آتش کی گئیں۔ لاکھوں مویشی ضبط کیئے گئے ،بیسیوں کو کالا پانی جلا وطن کیا گیا۔سینکڑوں تختہ دار پر لٹکائے گئے کروڑوں روپے کی جائیدادیں بھی ضبط کی گئیں۔ جاسوسوں اور وفاداروں کو انعام و اکرام سے نوازا سے گیا ۔
تاریخ کے اوراق کے مطابق 17 ستمبر1857 کو اسسٹنٹ کمشنر برکلے کی انگریزی فوجوں نے جھامرے پر چڑھائی کی لیکن رائے احمد خان کھرل گرفتار نہ ہو سکا۔ بچوں اور عورتوں کو گرفتار کر کے گوگیرہ جیل میں بند کر دیا۔ اور تمام مال مویشی کو قبضہ میں لے لیا۔ گوگیرہ چیچہ وطنی ہڑپہ ساہیوال میدان جنگ کی شکل اختیار کر گئے۔ 21 ستمبر 1857کو ایک بڑا معرکہ ہوا۔ انگریز فوج کے پاس جدید اسلحہ تھا۔ اس معرکہ میں رائے احمد خان شہید ہو گئے وہ اس وقت عصر کی نماز ادا کر رہے تھے۔ انکے ساتھ سردار سانگ بھی شہید ہو گئے۔ 22 ستمبر کو برکلے کا آمنا سامنا دریائے راوی کے کنارے پر مجاہدین کے ساتھ ہو گیا۔ جس میں مراد فتیانہ اور سوجا بھدرو کے ہاتھوں برکلے مارا گیا۔ گورا فوج نے ان کو پکڑ کر کالے پانی بھجوا دیا۔رائے احمد خان کھرل اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے بعد ان کے پسماندگان پر جو مظالم ہوئے انہیں تاریخ دانوں نے بھلا دِیا۔ انگریزی سرکار سے وفاداری کے صِلے میں بالائی طبقہ میں شامل ہونے والے کالے انگریز گورے انگریزوں سے بھی زیادہ ظالم ثابت ہوئے۔ جِن قبائل نے تحریکِ آزادی میں قربانیاں دِیں انہیں تعلیم سے محروم رکھا گیا۔ انہیں پرائمری سکول میں پڑھنے کے لئے بھی کئی کئی میل پیدل سفر کرنا پڑا۔1857 کی جنگِ آزادی میں انگریزوں کی بربریت کا نشانہ بننے والی اور گذشتہ 150 سال تک ظلم کی چکی میں پسنے والی اِس علاقے کی برادریوں کی کوئی تاریخ بھی مرتب نہیں کی گئی۔ بنگلوں میں شہید رائے احمد خان کھرل کے جرمِ آزادی کی وجہ سے کھرل قوم کے 18 سال سے اوپر تمام افراد سے صبح سے شام تک بیگار لی جاتی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تنگ آکر وہ لوگ وہاں سے نقل مکانی کر گئے اور انہوں نے اپنی شناخت بھی ختم کر دی۔ بہت سے لوگ انگریزوں کے مظالم سے بچنے کے لئے کھرل سے کھر اور ہرل کہلانے لگے۔ جو نوجوان بیگار سے بھاگ جاتے تھے انہیں رسا گِیر قرار دے کر جیلوں میں بند کر دیا جاتا تھا۔ اِس علاقے کے لوگوں کو یہ سزا سالہا سال تک دی جاتی رہی۔1857کی جنگِ آزادی میں سب سے زیادہ قربانیاں پنجابیوں نے دی تھیں خاص طور پر مسلمانوں نے پھر کیا وجہ ہے کہ پنجاب کے عظیم ہِیرو رائے احمد خان کھرل کو تاریخ دانوں اور حکمرانوں نے نظر اندازکر دیا؟

Views All Time
Views All Time
1628
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں

2 thoughts on “شہید احمد خان کھرل کو کیوں بھلا دیا گیا

  • 21/09/2016 at 4:16 شام
    Permalink

    Bohay acha maloomati column

    Reply
  • 21/09/2016 at 4:55 شام
    Permalink

    بہت خوب آرٹیکل، توقیر صاحب آپ نے مٹی کا قرض ادا کرنے والوں کو "زندہ” کرنے کی سعی کی ہے

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: