منصف ہو تواب حشراٹھا کیوں نہیں دیتے۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email

abdul razaq shareefتاریخ دانوں کے درمیان یہ بحث بڑے زوروشورسے جاری ہے آیا کہ ایک تاریخ لکھنے والے کو تاریخ نویسی کے کچھ اصول مدون کرنے چاہئیں یاپھر اس بات کا فیصلہ قاری پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ صحیح اورغلط کے اصولوں کو بنیاد بناتے ہوئے تاریخ کے مستندیاغیرمستند ہونے کافیصلہ خود کرے۔تاریخ دانوں کا ایک مکتبہ فکر اس بات کا حامی رہا ہے کہ تاریخ پراثر اندازہونے والی اہم شخصیات کو تاریخ کے احتساب سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور وہ اس بات کی یہ توجیح پیش کرتے ہیں کہ ان لوگوں نے جو بھی انسانی یا غیر انسانی اقدامات کیئے ان کا مقصدعوام کی بھلائی،بغاوت کا خاتمہ اورسرحدوں کی حفاظت تھا۔انہی چیزوں کو بنیادبناتے ہوئے یہ تاریخ دان ان کے قتل عمد،لوٹ ماراور ظلم و جبرکو جائز قرار دیتے ہیں۔
اس کے بر عکس تاریخ دانوں کا دوسرامکتبہ فکر اس بات کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے کہ وہ بذریعہ قلم تاریخی واقعات کا بے لا گ تجزیہ کرکے ان کو نہ صرف ہوبہونقل کریں بلکہ حکمرانوں کااخلاقی طورپر احتساب کریں،اسی مکتبہء فکرسے تعلق رکھنے والے مشہور تاریخ داں لارڈایکٹن نے کوئین میری کے قتل کا احتساب کوئین وکٹوریہ سے لینے کا مطالبہ کیا ،جبکہ ا ن ہی کے نزدیک بے گناہ لو گوں کے قتل کا ذمہ دار الیگزینڈر(سکندر اعظم) کو ٹھہرایایا جانا ضروری ہے جس نے لاکھوں لوگو ں کومحض اس وجہ سے موت کے گھاٹ اتار دیا کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ چار دانگ عالم میں اس کی شہرت کا ڈنکہ بجے اور اسے دنیا کے عظیم فاتح کے نام سے یادکیا جائے۔کہانی صرف یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ جدید دنیا کے سکندرامریکہ کے ویتنام پر ڈھائے جانے والے مظالم کا بھی احتساب ضروری ہے جس کے نزدیک ویتنام میں اس کے بہادر فوجیوں نے داستانیں رقم کیں لیکن ایک منصف تاریخ دان کی نظرمیں اس کا مقصد کمیونزم سے بدلہ لینے کے لیے بلا وجہ ہزاروں انسانوں کوجنگ کی بھٹی میں جھونک دینا تھا۔
ایران اور نکاراگوا تصادم کے نتیجے میں غیرمنصف تاریخ دانوں نے نکاراگوا کے خلاف ایران کی ناجائز حمایت کے باوجودرونالڈریگن کو ہیرو قرار دیا۔تاریخ دانوں کے اسی رویے نے جارج ڈبلیو بش اور ٹونی بلیئرکو جدید دنیا کا مہذب قاتل بنا دیاجو ایک ملین سے زیادہ بے گناہ لوگوں کی ہلاکت کے ذمہ دارہیں۔تاریخ ان بے انصافیوں سے بھری ہوئی ہے کہ جب جنرل او ڈائرنے جلیانوالہ باغ کے قتل کے واقعے میں سینکڑوں لوگوں کو موت کے گھاٹ صرف اس وجہ سے اتارا کہ وہ جبری رولٹ ایکٹ کے خلاف آاواز اٹھانے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے متعصب تاریخ دانوں نے جنرل کے اس اقدام کو انگریزی سلطنت کے مفادمیں اورسلطنت برطانیہ کے استحکام میں اہم کردار ادا کرنے کی وجہ سے قومی ہیرو قرار دیا۔جب بھی اخلاقیات کی بات آتی ہے تو ظالموں کا ساتھ دینے اور مظلوموں کی حمایت میں واضح تقسیم نظر ٓآتی ہے۔ہٹلر،یہودی قوم پرظلم وستم ڈھانے کی وجہ سے یہودی تاریخ دانوں کی نظر میں ولن ہے حتی ٰکہ بعض یورپی ممالک میں ہولو کاسٹ کے خلاف بات کرنا جرم سمجھا جاتا ہے جبکہ اس کے بر عکس فلسطینییوں کا خون بہانا یورپی مستشرقین کی نظر میں ایسے ہی ہے جیسے بدروحوں کو بھگانے کے لیے صدقہ دینا۔نہ صرف فلسطینییوں کے خون نا حق کی حمایت اور مخالفت میں مغربی تاریخ دان تقسیم کا شکار نظر آتے ہیں بلکہ یہودیوں کی حمایت میں بڑھ چڑھ کے شور مچانے والے تاریخ دانوں کو فلسطینییوں کے موقف پر سانپ سونگھ جاتا ہے۔
تاریخ دانوں نے یہی ظلم مغربی پاکستان کے ساتھ روا رکھا ان کے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف نہ صرف مقامی تاریخ دان خاموش رہے بلکہ دبے الفاظ میں ان فوجی جرنیلوں کی پیٹھ تھپکی جو مشر قی بازو کی علیحدگی کے ذمہ دار تھے ۔نتیجے کے طورپران سورماؤں کو نہ صرف مختلف اعزازات سے نوازا گیا بلکہ وہ مملکت پاکستان میں با عزت زندگی گزار کرجھنڈے میں لپٹے دفن ہوئے ۔اس کے برعکس بنگلہ دیش نے تعصب کا جواب تعصب سے ہی دیا اور سپیشل ٹرائل کورٹ قائم کر کے 1971کے سانحے میں پاکستان کی بات کرنے والے افراد کو فرداً فرداً پھانسی دی گئی۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر تاریخ دانوں نے حکمرانوں کے ناجائز اعمال سے اغماض برتا اور سب اچھا ہے کی لوری سناتے رہے تو یہ ظلم و ستم اور زیادتیوں کا سلسلہ رکے گا نہیں بلکہ ظالموں کو اور شہ ملے گی اور وہ جسکی لاٹھی اسکی بھینس کے مصداق ظلم و زیادتیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ تاریخ عالم کو دوبارہ سے لکھا جائے اور اخلاقیات کے اصول طے کرتے ہوئے ظالم اورجابرحکمرانوں،فوجی جرنیلوں اور خود ساختہ قومی ہیروز کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔

Views All Time
Views All Time
366
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   زندان کی چیخ ۔بیسویں قسط

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: