Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

جو جاگتے تھے گرم ریت پر سلا دیے گئے۔۔۔ ڈاکٹر جواز جعفری

by جولائی 13, 2016 ادب
جو جاگتے تھے گرم ریت پر سلا دیے گئے۔۔۔ ڈاکٹر جواز جعفری
Print Friendly, PDF & Email

dr. jawaz jafriتاریخ انسانی میں یہ ظلم ابد سے روا ہے کہ ہر بیدار انسان پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے ہیں۔ انسان کی انسان شناس طبیعت پہ تعمیر عمارت کو مسمار کرنے کے لیے مختلف ادوار میں مختلف حربوں سے یہ کام سرانجام دیا گیا ہے. ہر جھوٹے، فاسق، فاجراور تعصب پرست حکمران نے اپنی عیاشی، بے انصافی، ظلم، عداوت اور نا اہلی کو چھپانے کے لیے کامل و اکمل انسانوں کے قتل کا منصوبہ بنایا تاکہ اس کے اپنے کردار کی بے نقابی نہ ہو۔ اور اس کے خلاف عوام کو شعور دلانے والی ہستی نہ رہے جو اس کی حکومت کے لیے خطرہ ثابت ہو۔ قابیل سے لیکر قتل انسانی کی وارداتوں کے ارتکاب کی زنجیر جب امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام تک پہنچی تو یہاں پر ظلم کی انتہا ہوگئی۔ فقط جسم اطہر کو قتل نہیں کیا گیا، قتل کے بعد اعضاء انسانی کی پامالی جیساانسانیت سوز اور غیر انسانی فعل بھی سرانجام دیا گیا۔ اس کے بعد زنان خانے کی بے حرمتی، مستورات کی شہر بدری، معصوم بچوں کی شہادت جیسے دلدوز واقعات سے بار بار محشر بپا کیا گیا۔ بالآخر ریگ کربلا پر تنِ معصومین سلا دئیے گئے۔ ڈاکٹر صاحب کی غزل کے ایک شعر کا مصرعہ ہے جو میرے دل میں اتر گیا تو میں نے اسے مضمون کی سرخی بنا دیا اور ’’ جو جاگتے تھے گرم ریت پر سلادیے گئے‘‘ میں نے ڈاکٹر جواز جعفری کی شاعری کو سمجھنے کے لیے الٹا پلٹا، پگھلایا، کھرچا، کریدا، ناپا، تولا،جانچا، پرکھا تو مجھ میں مدت کی مدہوش پڑی طبیعت بیدار ہوئی۔ جواز جعفری کی شاعری کو پڑھتے ہوئے میرے مشاہدہ سے میرے تفکر میں جو بات آئی وہ یہ ہے کہ ہر شاعر کی اپنی سلطنت ہے اور وہ اپنی بادشاہی میں حرفوں سے سینچ سینچ کے لفظوں کی فصل کاشت کرتا ہے۔ فصل کے لیے ذہن کی زمین ہموار کرتا ہے۔ اسے اپنے تخیل کے پانی سے سیراب کرتا ہے۔ تفکر سے ہل چلاتا ہے۔ انگلیوں سے کھیلیں بناتا ہے اور قلم کی نب سے بیجائی اور بوائی کا عمل سرانجام دیتا ہے۔ گاہے بگاہے کانٹ چھانٹ کا عمل بھی جاری رہتا ہے۔ خود رو حرفوں کو اڑا کر لفظوں کا قد برابر کیا جاتا ہے۔ جسے ترازوئے سخن میں عروض کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ جہان عالم انسانی مختلف آواز وں کا نگار خانہ ہے۔ ہر آواز دوسری آواز سے مختلف ہے۔ کسی آواز میں درد ہے تو کسی میں کرختگی، کسی میں اپنائیت ہے تو کسی میں لہجہ غیر، کسی لہجہ میں شیرینی ہے تو کسی میں کڑواہٹ، کسی آواز میں تلخی ہے تو کسی میں نرمی، کسی آواز میں سُر ہے تو کوئی بے سروساز، مگر حلق سے آواز نکالنے کا حق ہر کسی کے پاس ہے جس کی آواز خطابت میں ڈھل گئی تو وہ خطیب ٹھہرا، جس کی آواز میں تقریر ہے تو وہ مقرر، جس کی آواز میں ترنگ ہے تو وہ گلوکار، جس کے اندر تحریر کا رنگ ہے تو وہ محرر کہلاتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی فکر کو تحریر میں لاکر معاملات انسانی کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی دانش کو بروئے کار لاکر دانشور کہلاتا ہے۔ اگر کوئی شخص انسانی درد و کرب کو ترازو کی کسوٹی پر رکھ کے مصرعے تخلیق کرتا ہے تو وہ شاعر کہلاتا ہے۔ اس لیے شعر کیلئے ترازو کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ مگر آواز کو کسی صورت بند نہیں ہونا چاہیے، آواز کا حق ہے کہ اسے حلق سے باہر نکالا جائے۔
ما شاء اللہ ڈاکٹر جواز جعفری لاہور کی مست ہواؤں میں جنم لینے والا زندہ دل شاعر، ایک پختہ قلم کار، مصمم سخن ور اور ہنر مند نظم نگار ہے۔ جواز بھائی کی نظموں پر مشتمل کتاب ’’عمرِ رواں سے پرے‘‘ مجھ ناچیز تک کہیں سے بطور تحفہ پہنچی تو اس کا مطالعہ کرنے پر خوب مزا آیا اور مضمون لکھنے کا ارادہ ٹھن گیا۔ آپ بھی جواز جعفری کی خوبصورت نظم ’’میں زندگی کی تلاش میں مَر رہا ہوں‘‘ پڑھیے اور سر دھنیے۔
میں زندگی کے سفر پر رواں دواں ہوں
موت
میرے تعاقب میں ہے
ایک روز میرے قدم
بالآخر تھم جائیں گے
اور موت
مجھے فتح کرکے آگے بڑھ جائے گی!
جب مجھے بلاوا آئے گا
تو میں تمہارے پاس
ٹھہر نہیں پاؤں گا
تم میری موت پر آزردہ مت ہونا
میں مرنے کے بعد بھی یہیں رہونگا
تمہارے چاروں طرف
اور
تمہارے قدموں کے نیچے
لوگ مجھے مرتا دیکھ کر روتے ہیں
میں موت کر ہنسنے کا ہنر جانتا ہوں
میں زندگی کی تلاش میں مَررہا ہوں
ڈاکٹر جواز جعفری اہل دل ہونے کیساتھ ساتھ احساس کی نعمت سے مالا مال شخصیت ہیں۔ جسے انسانوں کے دکھ، درد کے ساتھ ساتھ پرندوں کے گھونسلوں تک کا بھی خیال رہتا ہے۔ انسانوں کے ساتھ ساتھ پرندوں کو بلاوجہ پریشان کرنیوالوں کے خلاف محو احتجاج نظر آتے ہیں اور کبھی انسانوں کو ترقی کے نام سے بے گھر کرنیوالوں کا شکوہ کرتے ہیں اور موجودہ طرز حکمرانی سے نالاں اجتماعی انتشاری اذہان پر نوحہ کناں ہیں۔
انسانوں کے وہ بے ڈھنگ رویے، لہجے جن میں فرعونیت، قارونیت اور رعونتی ربوبیت کی جھلک ملتی ہے تو جواز جعفری کے اندر کا شاعر جاگ اٹھتا ہے اور کڑک دار لہجے میں دھاڑتا ہے۔ جہاں حاکم وقت گربیان پہ ہاتھ رکھتا ہے تو وہاں اجتماعی شعور کو بیدار کرتا ہے۔ جہاں بادشاہ وقت کا تاج اچھالتا ہے تو وہاں معاشرے کی نکیل بھی کھینچتا ہے۔ جس وحشتِ شب میں خود جاگتا ہے وہاں جگانے کا ہنر بھی خوب جانتا ہے۔ جس کرب میں کڑھتا ہے اس کی دوا بھی جانتا ہے۔ اب آخر میں جواز جعفری کی وہ غزل جو لاہور کا نوحہ بن گئی ہے آپ بھی اس نوحہ کو پڑھیں اور صف ماتم بچھائیں۔
کشادگی کے نام پر نشاں مٹا دیے گئے
ہمارے سامنے ہمارے گھر گرا دیے گئے
پرندے گھونسلوں کو ہم ترس رہے ہیں سائے کو
ہمارے راستوں میں پیڑ تک جلا دیے گئے
کہاں یہ بچے آزمائیں کھیل کود کا ہنر
ہمارے آنگنوں میں راستے بچھا دیے گئے
ہمارے دل کا ذکر کیا کشادگی کے شوق میں
یہاں تو بوڑھے برگدوں کے دل دکھا دیے گئے
یہ شہر خواب ہے یہاں پر جاگنا حرام ہے
جو جاگتے تھے گرم ریت پر سلا دیے گئے
ہمارے بام و دَر اجڑ گئے مگر اے شہر یار
ہمیں قصاص مل سکا نہ خوں بہا دیے گئے
یہ شہر ہے خداؤں کا میں کس کی بندگی کروں
مجھے جواز ؔ نت نئے نئے خدا دئیے گئے

Views All Time
Views All Time
348
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کفن-منشی پریم
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: