Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

جو کعبہ میں ہوا پیدا ، شہادت پائی مسجد میں

by جون 26, 2016 اسلام
جو کعبہ میں ہوا پیدا ، شہادت پائی مسجد میں
Print Friendly, PDF & Email

جو کعبہ میں ہوا پیدا ، شہادت پائی مسجد میں
نہیں کوئی بجز شیر خدا ؑ دنیائے خالق میں
اکیس رمضان یومِ شہادتِ مولائے کائنات، شیر خدا،امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ ابن ابی طالب ہے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ابن ابی طالب کی ولادت ہجرت نبوی سے 23سال قبل یعنی 30عام الفیل مطابق ۶۰۰عیسوی تیرہ رجب یوم جمعہ خانہء کعبہ میں ہوئی ۔آپ کے والد حضرت ابوطالبؑ بن عبدالمطلب ؑاور والدہ فاطمہؑ بنت اسد تھیں ۔والدہ نے آپؑ کا نام حیدرو اسد اور والد نے اپنے جد اعلیٰ قصی کے نام پر زید رکھاجبکہ سرورکائنات ؐ نے علیؑ رکھا۔لقب مرتضٰی ہے۔آپؑ نے کبھی بت برستی نہیں کی اور آپؑ کی پیشانی کبھی بت کے سامنے نہیں جھکی۔اسی لئے آپؑ کے نام کے ساتھ ’کرم اللہ و جہہ ‘ کہاجاتاہے۔(نورالابصارص ۷۶ ، صواعق محرقہ ص ۱۷۲) حضرت خدیجہؑ کے بعد آپ پہلے تھے جنہیں حضرت محمد ﷺ کی رسالت کی تصدیق کا شرف حاصل ہوا۔عفیف کندی کی روایت سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے جس میں انہوں نے وضاحت کی ہے کہ میں نے رسول خدا ﷺکونماز پڑھتے ہوئے بعثت کے فوراٌ بعد اس عالم میں دیکھا کہ ان کے پیچھے جناب خدیجہؑ اور حضرت علیؑ کھڑے تھے ، اس وقت کوئی اور اسلام نہیں لایا تھا۔(استیعاب علامہ بن عبد البر قرطبی جلد ۲ صفحہ۵۲۲ طبع حید ر آباد دکن، اسد القابہ جلد ۳ ص۴۱۴طبع مصر،تاریخ کبیر علامہ ابن جزیر طبری جلد۲ ص ۲۱۲ طبع مصر ،تاریخ کامل ابن اثیر جلد۲ص۲۰ )

بعثت کے تین سال بعد آنحضرت ﷺ نے جب اعزاء واقارب کو دعوت ذوالعشیرہ دی تو اس سلسلے میں کی جانے والی ضیافت کا اہتمام اور لوگوں کو بلانے کی ذمہ داری حضرت علی مرتضٰیؑ کے سپرد ہوئی ۔ حضرت محمد ﷺ نے اپنی رسالت کا اعلان کیا اور پوچھا کہ تم میں سے کون ہے جو میری اقتداء اور مدد کرکے میرا بھائی،وصی اور خلیفہ بننا چاہتا ہے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ ابن ابی طالب نے آگے بڑھ کر آپ ؐ کی نصرت کا وعدہ فرمایا ۔ نبوت کے ساتویں سال جب کفار مکہ نے بنو ہاشم کا سوشل بائیکاٹ کیا تو آپؑ بھی قبیلے کے دیگر افراد کے ہمراہ تین سال تک شعب ابی طالب میں محصور رہے۔ اس دوران بنو ہاشم کیلئے غلے کی فراہمی آپؑ کے ذمے تھی۔(سیر ت النبی ؐ جلد اول ص۱۰۹) بعثت کے تیرہویں سال شب ہجرت چالیس تلواروں کے سائے میں سو کر محسن رسالت نے نبیﷺ کا حقیقی مددگار ہونے کا ثبوت دیا ۔ جب رسول اللہؐ نے انصار و مہاجرین میں رشتہء اخوت قائم کیا تو حضرت علیؑ کو اپنا بھائی قرار دیا۔ ہجرت کے دوسرے سال پیغمبر خداؐ نے اپنی لخت جگر سیدہ النساء العالمین حضرت فاطمہ زہراؑ کا عقد مولائے کائنات سے کیا۔ ماہ شعبان ۲ ہجری میں تحویل کعبہ ہوئی یعنی بیت القدس کی طرف سے قبلہ کا رخ کعبے کی طرف موڑدیاگیا۔قبلہ چونکہ عالم نماز میں بدلاگیا اسلئے آنحضرتؐ کاساتھ حضرت علیؑ کے سوا اورکسی نے نہیں دیا ۔ آپؑ مقام فخر میں فرمایا کرتے تھے’انامصلی القبلتین‘ ’ میں ہی ہوں جس نے ایک نماز بیک وقت دو قبلوں کی طرف پڑھی۔‘

ہجرت کے بعد غزوات کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا ۔ بدر ہویااحد ،خندق ہویا خیبر ،حنین ہو یا کوئی اور معرکہ ،ہر جنگ میں مولائے کائناتؓ نے اپنی شجاعت و بہادری کے جوہر دکھائے اور مسلمانوں کو فتح و کامرانی سے ہمکنار کیا ۔ ہر جنگ کے علمبردار حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ تھے۔ احد کے معرکہ میں فتح ہونے کو ہی تھی کہ تیر اندازوں کا دستہ خلاف حکم رسولﷺ مال غنیمت کی لالچ میں اپنی جگہ سے ہٹ گیا ۔ بروایت الیعقوبی صرف تین صحابی میدان میں رہ گئے جن میں مولاعلیؑ بھی تھے ۔اسی بھگدڑمیں ایک شخص نے آنحضرت ؐ کی طرف پتھر مارا جس سے آپ ؐ کے دو دانت شہید ہوگئے اور پیشانی ء مبارک مجروح ہوگئی ۔ حضرت علیؑ اس موقع پر زخمی حالت میں بھی بیک وقت جہاد اور تحفظ رسالت کرتے ہوئے آپ ؐ کو بچا کر پہاڑ پر لے گئے۔ ( سیرت النبی جلد اول صفحہ ۲۷۷) حضرت محمد مصطفیٰ ؐ نے فرمایا’علیؑ تم کیوں نہیں بھاگے ؟‘عرض کی مولا ’ کیا ایمان کے بعد کفر اختیار کرلوں ‘ ۔ (مدارج النبوت ) اسی موقع پر حضرت علیؑ کی تلوار ٹوٹی تھی اور ذوالفقار دستیاب ہوئی تھی۔(تاریخ طبری جلد ۴ص ۴۰۶ و تاریخ کامل جلد ۲ص۵۸) ذیقعدہ ۵ہجری کو غزوہ خندق کا معرکہ گرم ہو گیا ۔ عمر بن عبدودجو عرب میں ایک ہزار بہادروں کے برابر مانا جاتاتھا۔خندق پھاند کر لشکر اسلام تک آن پہنچا اور ’ھل من مبارز‘ کی صدادی۔روضۃ الاحباب اورروضۃ الصفا میں ہے کہ تین مرتبہ حضور نے اپنے اصحاب کو مقابلہ کے لئے نکلنے کی دعوت دی مگر حضرت علیؑ کے سوا کوئی نہ بولا۔ حیٰو ۃ الحیوان ج ۱ ص ۲۳۸ اور سیرت محمدیہ ج ۲ ص ۱۰۲ میں ہے کہ ٓانحضرت ﷺ نے علیؑ کو میدان میں نکلنے کے لئے خود تیار کیا ۔اپنی زرہ پہنائی ، اپنی تلوار کمر میں حمائل کی اور کہا’آج کل ایمان ، کل کفر کے مقابلے میں جا رہا ہے۔بالآخر کامیابی پانے کے بعد آپ ؐ نے فرمایا ’آج علیؑ کی ایک ضربت عبادت ثقلین سے بہتر ہے۔‘

یہ بھی پڑھئے:   قربانی۔۔۔ حکم الٰہی کی تعمیل

ذیقعد ۶ہجری کو حدیبیہ کا صلح نامہ لکھنے کا اعزاز بھی حضرت علیؑ کے حصے میں آیا۔ آپؑ کوانحضرت ؐ کے فرامین لکھنے کا شرف بھی حاصل ہے ۔ ۷ ہجری میں خیبر کے مقام پر تاریخ کا مشہور اور طویل ترین غزوہ پیش آیا۔یہ جنگ چالیس روز تک لڑی گئی۔مسلمانوں کے لشکر کی تعداد چودہ سو ہونے کے باوجود انتالیس دن تک کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ بوجہء بخارو آشوب چشم مدینہ میں موجود تھے لیکن جب محاصرہ طول پکڑگیا تو آپ ؐ نے حضرت علیؑ کو طلب کیا ۔ حضرت علیؑ کے ہاتھوں مرحب کا بھائی حارث اور پھر مرحب واصل جہنم ہوئے ۔ اس کے بعد عنتر ،ربیع اور یاسر جیسے پہلوان حضرت علیؑ کے مقابلے میں آئے اور فنا کے گھاٹ اترتے رہے اور بالآخر خیبر کا قلعہ فتح ہو ا ۔ مولائے کائنات نے یہودیوں کے سب سے مضبوط قلعہ’قموص‘ کو فتح کرکے یہودیوں کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کردیا۔ جنگ خیبر سے مولائے متقیان کو بے بہا مال غنیمت ملا لیکن سخیوں کے سردار حضرت علیؑ نے اسے راہ خدا میں دیدیااور خود ذکر خدا کرتے ہوئے خالی ہاتھ در فاطمہ زہراؓ پر تشریف لے آئے ۔

۸ ہجری کو فتح مکہ کے موقع پر داخل حرم ہونے کے بعد پیغمبر خداؐ نے ان تمام بتوں کو اپنے ہاتھوں سے توڑا جو نیچے تھے اور بلندی پر موجود بتوں کو توڑنے کیلئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اپنے کاندھوں پر سوار کیا ۔ (تاریخ اسلام امتیاز پراچہ ص۱۷۱) جنگ حنین بھی ۸ ہجری کو پیش آئی ۔ اس جنگ میں ابو جردل سمیت چالیس کفار حضرت علیؑ کے ہاتھوں مارے گئے۔ ۹ ہجری میں تبوک کا معرکہ پیش آیا۔ آنحضرت ؐ کو اطلاع ملی کہ نصاریٰ شام نے ہرقل بادشاہ روم سے چالیس ہزار فوج منگوا کر مدینہ پرحملے کا منصوبہ بنایا ہے۔ آپ ؐ حفظ ماتقدم کے طور پر مدینہ کا نظام حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سپرد کرکے ۳۰ہزار کے لشکر کے ساتھ شام کی جانب روانہ ہوئے ۔ روانگی کے وقت آپ ؐ نے فرمایا ’ کیا تم اس پر راضی نہیں ہوکہ میں تمہیں اسی طرح اپنا جانشین بناکر جاؤں جس طرح جناب موسی ؑ اپنے بھائی ہارون ؑ کو بناکر جایاکرتے تھے۔ (صحیح بخاری ، کتاب المغازی ) ۹ہجری کو ہی تبلیغ سورۂ برات کی ذمے داری بھی آپؑ کے سپرد کی گئی۔(صحیح بخاری،کنزالعمال ،درمنشور،تاریخ خمیس، خصائص نسائی، طبری، ریاض النضرہ وغیرہم)

۱۰ ہجری کو آنحضرت ﷺ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار اصحاب کے ہمراہ حج ادا کیا۔۱۸ذوالحجہ کو مدینہ واپسی پر مقام غدیر پر پہنچ کر آپ ؐ نے ایک فصیح و بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا۔جس میں بعد حمد و ثناء اپنی فضیلت کا اقرار لیااور فرمایا ”میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں، ایک قرآن دوسرے میرے اہلبیت "۔پھر فرمایا”من کنت مولا فہٰذا علی مولا”یعنی جس جس کا میں مولا ہوں اس کا یہ علی بھی مولا ہے۔لوگوں نے حضرت علی کی جانشینی پر آپ ؐ کو مبارکباد پیش کی۔اس واقعہ غدیر خم کو امام المحدثین حافظ ابن عبدہ نے ایک سو صحابہ سے روایت کیا ہے۔امام جزری و شافعی نے ۸۰ صحابیوں سے، امام حنبل نے ۳۰ صحابیوں اور طبری نے ۷۵ صحابیوں سے حدیث غدیر خم روایت کی ہے۔اس کے علاوہ تمام اکابر اسلام مثلاٌ ذھبی، صنعائی اور علی القاری وغیرہ اسے مشہور اور متواتر مانتے ہیں۔۲۴ ذوالہجہ ۱۰ ہجری کو نجران کے عیسائیوں سے مباہلہ پیش آیا۔ سورۂ آل عمران کی آیت ۶۱ نصاریٰ سے مباہلے کیلئے نازل ہوئی جس میں مولائے کائناتؓ بھی شامل ہیں۔

جب حضرت محمد مصطفی،خاتم النبیین ﷺ کا وقت آخر قریب آیا تو آپؐ نے حضرت علیؑ کو بلاکر وصیت کی اور فرمایا : اے علی میرے بعد تمہیں سخت صدمے پہنچیں گے،تم صبر کرنا اور دیکھو جب اہل دنیا دنیا پرستی کریں تو تم دین اختیار کئے رہنا۔(روضۃ الاحباب ج۱ ص ۵۵۹، مدارج النبوۃ ج۲ ص ۵۱۱، تاریخ بغداد ج۱ ص ۲۱۹) آنحضرت ؐ کے انتقال کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور ان کے عیال پر مصائب و آلام کے پہاڑ ٹوٹ پڑے اور صرف ۷۵ دن بعد آپؑ کی زوجہ بی بی فاطمہ زہراؓ بھی آپؑ کو داغ مفارقت دے گئیں۔یہ عرصہ آپ نے سکوت اور گوشہ نشینی میں میں بسر کیا۔گوشہ نشینی کے اس دور میں بھی حضرت علیؑ نے اپنے مفید مشوروں اور جانی امداد سے دیگر خلافتوں کی مدد کی۔لوگوں کی مشکل کشائی اور حاجت روائی کرتے رہے ۔

یہ بھی پڑھئے:   حقا کہ بنائے لا الٰہ است حْسین علیہ السلام

حضرت علی کرم اللہ وجہہ علم لدنی سے مالا مال تھے ۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں ارشاد فرمایا” انا مدینۃ العلم و علی بابھا ” یعنی میں شہر علم ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ۔ محب طبری فرماتے ہیں کہ سرور عالمؐ کا ارشاد ہے :جو شخص علم آدم ،فہم نوح ،حلم ابراہیم ،زہد یحیٰ،صولت موسیٰ کو ان حضرات سمیت دیکھنا چاہے اسے چاہیے کہ وہ علی ابن ابی طالبؓ کے چہرۂ انور کو دیکھے۔( ملاحظہ ہو نو رالابصار،شرح مواقف،مطالب السؤل، صواعق محرقہ،شواہد النبوۃ، ابو الفدا، کشف الغمہ، نیابیع المودت، مناقب ابن شہر آشوب، ریاض النضرہ ، ارحج المطالب،انوار اللغۃ) علمائے اسلام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے مصنف حضرت علیؑ ہیں۔ آپ کی کتابوں میں سے کچھ کے نام ” کتاب علی، کتاب جامعہ، صحیفہ علویہ ، کتاب الجفر ، زکوٰۃ النعم ، ابواب فقہ ،کتاب فی الفقہ ”ہیں۔آپؑ کے اشعار کا مجموعہ ”دیوان علی ” کے نام سے حضرت علیؑ کی طرف منسوب ہے۔ یہ بھی مسلم ہے کہ سب سے پہلے جامع قرآن مجید بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہی ہیں جنہوں نے قرآن پاک کو تنزیل کے مطابق جمع کیا ۔ ( ملاحظہ ہو نو رالابصار امام شبلخجیص۷۳طبع مصر ، اعیان الشیعہ ) نہج البلاغہ امیر المومنین حضرت علی مراتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے فصیح و بلیغ خطبات و ارشادات کا مجموعہ ہے جسے جناب سید رضی ؒ نے چوتھی صدی ہجری کے آخر میں جمع کیا۔

۱۸ذوالحجہ ۳۵ ہجری کو خلیفہ سوم کے قتل کے بعد تخت خلافت خالی ہوا توطلحہ و زبیر کے ہمراہ مہاجرین و انصار کی ایک بڑی جماعت حضرت علیؑ کی خدمت میں بیعیت کرنے کے لئے حاضر ہوئی۔آپؑ کو بار خلافت اٹھانے میں تامل ہو ا توان لوگوں نے بلا شرط تخت خلافت قبول کرنے کی استدعا کی جسے آپؑ نے قبول کیا ۔ مولائے کائنات کا زمانہء خلافت ۳۵ ہجری تا ۴۰ ہجری ہے۔تخت خلافت پر متمکن ہوتے ہی مخالفین نے آپؑ کے خلاف سازشوں اور شورشوں کا بازار گرم کردیا ۔چنانچہ جنگ جمل، صفین، خوارج و نہروان پیش آئیں۔ صفین کے سازشی فیصلہء حکمین کے بعد حضرت علیؑ اس نتیجہ پر پہنچے کہ اب ایک فیصلہ کن حملہ کرنا چاہیے ۔چنانچہ صفین و نہروان کے بعد ہی سے آپؑ اس طرف متوجہ ہوگئے۔چالیس ہزار کا لشکر تیار تھا لیکن کوچ کا دن آنے سے قبل ہی ایک خارجی ابن ملجم بن عبدالرحمٰن نے ۱۹ رمضان کو مسجد کوفہ میں نماز فجر کے دوران آپؑ کے سر پر زہر آلود تلوار سے ایسا کاری وار کیا جس سے آپ جانبر نہ ہوسکے۔دو دن شدید زخمی حالت میں رہنے کے بعد ۲۱ رمضان المبارک کو شہید ہوگئے ۔ صواعق محرقہ ص۸۰میں ہے کہ شہادت کے وقت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی عمر ۶۳ برس تھی۔تاریخ ابوالفداء میں ہے کہ آپؑ نجف اشرف میں سپرد خاک کئے گئے،جو اب بھی زیارت گاہِ عالم ہے ۔ کتاب انوار الحسینیہ ج ۲ ص ۳۶ اور مسٹر گبن کی تاریخ ڈیگائن اینڈ ہال آف دی رومن ایمپائر میں ہے کہ ظالم بنو امیہ کی وجہ سے حضرت علیؑ کی قبر مخفی رکھی گئی تھی ۔ تاریخ الیعقوبی جلد صفحہ ۲۰۳ میں ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دفن کے بعد ان کی قبر پر قعقاع بن زرارہ نے ایک تقریر کی جس میں نہایت غم و اندوہ کے ساتھ کہا کہ اے مولا آپؑ کی زندگی خیر و برکت کی کلید تھی ۔اگر لوگ آپؑ کو صحیح طریقہ پر مانتے تو خیر ہی خیر پاتے لیکن دنیا داروں نے دنیا کو دین پر ترجیح دی ۔

( آرٹیکل میں موجود تمام حالات و واقعات کا ذکر مسند کتابوں سے لیا گیا ہے جن حوالے بھی ساتھ ہی درج ہیں ۔ )

Views All Time
Views All Time
900
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: